اس تحریرکا عنوان محض ایک آیت نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ ایسا سوال جس کا جواب دیتے ہوئے شاید الفاظ ختم ہوجائیں اور خاموشی شروع ہوجائے۔
14 نومولود جل کر مر گئے۔۔۔ 14 ایسی قبریں جن میں سے کسی بچے کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آگ کیا ہوتی ہے؟ جل کر جھسلنا اور دم گھٹنا کیا ہوتا ہے؟
یہاں ایک عمومی سوال پیدا ہوتا ہےکہ آگ کیوں اور کیسے لگی؟ لیکن آگ لگنے کے بعد ان ننھی جانوں کو کیوں نہ بچایا جاسکا؟۔ یہ سب سے بڑا سوال ہے، کیونکہ بجلی کے نظام میں خرابی یا ہوا دینے والی مشین کے دباؤ والے حصے میں نقص، یہ سب حادثہ ہوسکتا ہے، لیکن اسپتال میں آگ سے بچاؤ کا انتظام، ہنگامی انخلا کا طریقہ، تربیت یافتہ عملہ، خطرے کی اطلاع دینے والے آلات، محفوظ راستے اور بچوں کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ حادثہ نہیں، انتظامی ذمہ داری ہے۔
اور خصوصاً جب مریض ایسے بچے ہوں جو خود اپنے بستر سے اٹھ کر بھاگ بھی نہیں سکتے ہوں تو ان کی حفاظت کی ذمہ داری سو فیصد اُن لوگوں پر ہوتی ہے جو اس وارڈ کو چلا رہے ہوتے ہیں۔
حکومت وقت نے اپنی بے حسی سے بھرپور شرمناک روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ’کارروائی‘ کی ہدایات جاری کردیں۔ سانحہ ہوتا ہے پریہاں ہرحکومت ایسے میں ایک ہی جملہ کہتی آرہی ہے کہ ’ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے‘۔ کمیٹی بن جاتی ہے، کچھ افسر معطل ہوجاتے ہیں، وزیر متاثرہ خاندان سے تعزیت کرلیتا ہے۔
اسی طرح رقوم کی ادائیگی کے فوٹوسیشنز ہوتے ہیں، چند دن اسمبلیوں اور چینلز پر بحث چلتی ہے اور پھر اچانک اسی دوران ایک نئی خبر آجاتی ہے اور پرانی فائلز گمنامی کے جزیرے پر منتقل کردی جاتی ہیں۔
درحقیقت یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی عوامی ریاست اور تماشائی ریاست میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ حقیقی عوامی ریاست وہ ہے جو سانحے کے بعد ذمہ داری اُٹھائے اوراُسے پوری ایمانداری اور دیانتدای کے ساتھ بخوبی نبھانےمیں کوئی کسر نہ چھوڑے جبکہ تماشائی ریاست وہ ہے جو سانحے پر سیاست کرے جیسا کہ پاکستان میں ہو رہا ہے الزام تراشی کرے اورسیاست کے مزے لوٹے۔
پمز کے معاملے میں حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 50، 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے اور اُس نرس کو 10 لاکھ روپے اور ستارۂ خدمت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بچے کو بچایا۔
ان بے شرم حکمرانوں کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ معاوضہ انصاف نہیں ہوتا۔ 50 لاکھ روپے کسی ماں کو اس کا بچہ واپس نہیں دے سکتے۔ ایک اعزاز اُن 14 قبروں کو خالی نہیں کرسکتا اور ایک سرکاری بیان یہ ثابت نہیں کرتا کہ ریاست نے اپنا فرض پورا کردیا ہے۔
ان خاندانوں کو انصاف چاہیے۔ انہیں بتایا جائے کہ ان کے بچے کی موت کی اصل ذمہ داری کس پر ہے؟ اور اس کے خلاف کیا قانونی کاروائی کی جائے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ریاست اور عدالت پر فرض عین ہے۔
پاکستان میں مسئلہ صرف حادثات نہیں، حادثات کے بعد جواب دہی کا غائب ہوجانا ہے۔ اس کی سب سے بڑی اور حالیہ مثال ولیکا اسپتال میں علاج ومعالجے کی غرض سے آنے والے 100 کے زائد بچوں کو ایچ آئی وی جیسے لاعلاج مرض کا شکار بنا کر موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔
کراچی کا گل پلازہ ابھی زیادہ پرانا واقعہ نہیں، 72 افراد مکمل جل کر جاں بحق ہوئے۔ بعد کی تحقیقات میں آگ سے بچاؤ کے ناقص انتظامات، ہنگامی راستوں کی رکاوٹ، بجلی منقطع کیے جانے اور عمارت کے انتظام سے متعلق سنگین سوالات سامنے آئے لیکن سوال اب بھی وہی ہے کہ ذمہ دار کون ہے؟ کیا انہیں قرارواقعی سزا دی گئی؟
کراچی کے وہ کھلے گٹر جو کسی عفریت کی طرح کئی برس سے شہریوں کو نگل رہے ہیں۔ جس میں اب تک 30 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے، جن میں کم و بیش 10 بچے شامل تھے، وہاں ریاست بالخصوص صوبائی خودمختاری کے مغنی حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے۔
کراچی کی سڑکوں پردندناتے قاتل ڈمپر اور واٹر ٹینکرز ہی کو لے لیں، کتنی جانیں گئیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ملیر ہالٹ کے قریب ایک حاملہ عورت اور اُس کے شوہر پر واٹر ٹینکرچڑھ دوڑا، خاتون نے شدید زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، مگر نومولود بھی زندہ نہ رہ سکا۔
سگ گزیدگی کے واقعات ہی کو لے لیجیے۔ اور کیا کیا تحریر کیا جائے؟ ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں، مگر افسوس۔۔۔ شاید غالب نے انہی کے لیے لکھا تھ:
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
یہ تمام واقعات جن کا ذکر کیا گیا ہے، اُس صوبے کے ہیں کہ جہاں 18 سال سے سب سے بہترین کارکردگی کی دعویدار سائیں سرکارکے ایک بھی متعلقہ وزیر سے نہ تومندرجہ بالا معاملات پر کسی نے استعفے کا مطالبہ کیا اور کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی مگر آج ان ہی حکمرانوں کی غیرت و ممتا اپنے جوبن پر دکھائی دے رہی ہے۔ وہ سب کے سب وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جنہیں اپنے کیے پر بہت پہلے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔
جہاں تک رہی بات ریاست کی، تو ریاست نے اس معاملے میں کیا کردارادا کیا؟ عدالتوں کے پاس ان کے مجرموں کے تعین اور سزا کے لیے وقت کیوں نہیں ہے؟ شاید اس لیے کہ ہمارے نظام کا ایک عجیب مزاج بن چکا ہےکہ ہم ذمہ داری تجویز کرتے ہیں مگر نافذ نہیں۔ ہم کارروائی شروع کرتے ہیں پر مکمل نہیں، ہم تحقیقات کرتے ہیں لیکن نتائج بھول جاتے ہیں۔
یہاں بھی ہمارے پاس اُن تمام تر اداروں کی ایک لمبی فہرست ہے، جن میں بظاہر تو ذمہ داریاں تقسیم ہیں، مگر جب کوئی بچہ یا بڑا اس قسم کے حادثات میں بے موت مرتا ہے تواُس کی ذمہ داری بھی تقسیم ہوجاتی ہے۔
افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں ہم ذمہ داری کو ہمیشہ نیچے کی طرف دھکیلتے ہیں، مگر ہمیں اب یہ روایت ختم کرنا ہوگی۔ ہمیں لاشوں پر سیاست کرنے کی گھناونی روایت ختم کرنا ہوگی کیوں کہ یہ سیاست نہیں بلکہ انسانی المیے کی توہین ہے۔
ریاست اور ریاستی اداروں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہییں، لیکن انہیں سیاسی رسہ کشی سے کچھ لمحوں کے لیے فرصت مل جائے، تب جا کر وہ عوام کو دیکھیں نا۔ وہ اتنی سی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ عوام آپ سے کوئی احسان نہیں مانگ رہے بلکہ یہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ جب اسپتال جائے تو حادثات سے محفوظ رہے، ان کے گھر کا فرد جب سڑک عبور کرے تو کسی ڈمپر کے نیچے نہ آئے، ان کا بچہ گلی میں کھیلے تو کھلے گٹر میں نہ جا گرے، ان کی مائیں بہنیں بیٹیاں سگ گزیدگی سے محفوظ رہ سکیں، ان کا بیمار بچہ اسپتال جائے تو وہاں سے لاعلاج بیماری لے کر واپس نہ آئے ۔
اگر حکومت یہ بنیادی تحفظ بھی فراہم نہیں کرسکتی توریاست اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ عوام کو ان کا وہ جمہوری حق دیں جس سے وہ قابل بھروسا حکمران کو منتخب کر کے اُسے ایوان اقتدار میں لائیں اوران تمام تر تماش بینوں کوووٹ کی طاقت سے نکال باہر کریں۔
یہاں عدالتوں کے کردار پر بھی سوال اُٹھتا ہے کہ کیا آپ کی کتاب میں انصاف کا مطلب صرف یہ ہے کہ مقدمہ درج کر کے فردِ جرم عائد ہونا کافی ہے؟ کیا تحقیقاتی رپورٹ آ جانا کافی ہے؟ کیا معطلی کافی ہے؟یا انصاف کا مطلب تمام تر قانونی تقاضوں کے عین مطابق پوری دیانتداری سے فیصلہ کرنا اور اُس پر عمل درآمد کروانا ہے؟۔
ایک ایسا فیصلہ جو صرف فائل بند نہ کرے بلکہ مستقبل کے لیے ایک مثال بھی قائم کرے لیکن افسوس صد افسوس ہمارے عدالتی نظام میں انصاف کچھوے کی چال چلتا ہے۔ جب تک قانون حرکت میں آتا ہے تب تک انصاف کا طالب و منتظر قبرمیں جا پہنچتا ہے۔ اسی لیے انصاف نہ ملنے والوں کے لیے ہی اللہ رب العزت نے بروز حشر اپنی عدالت لگانے کا اعلان کیا ہے۔
س تناظر میں بروز حشر کیا جانے والا قرآن کا یہ سوال دوبارہ سنائی دیتا ہے بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ مجھے کس گناہ کے بدلے قتل کیا گیا؟ اوراس کا جواب اُن سب سے لیا جائے گا جن کے پاس اختیار تھا، جن کے پاس فائل تھی، جن کے پاس دستخط کی طاقت موجود تھی، جن کے پاس نگرانی کی ذمہ داری تھی، جنہیں خطرے کا علم تھا، جنہیں شکایات ملتی تھیں اور جو حفاظتی نظام بہتر بناسکتے تھے، جنہیں قانون نافذ کر کے عوام کی جان بچانی تھی۔
بروزقیامت کوئی نہیں پوچھے گا کہ آپ کس جماعت کے وزیر تھے، کس حکومت کے افسر تھے یا کس طاقتور شخصیت کے قریب تھے۔ سوال سادہ سا ہوگا کہ تمہیں اختیار دیا گیا تھا، تم نے اس اختیار کے ساتھ کیا کیا؟ تمہارے خطرات کا علم تھا، تم نے اس کے سدباب کے لیے کیا کیا؟ تم جانتے تھے کہ نظام کمزور ہے، تم نے اسے مضبوط کیوں نہ کیا؟ تم جانتے تھے کہ ایک انسان جو بچ سکتا تھا، تم نے اسے بچانے کی کوشش کیوں نہ کی؟ اور اگر تمہاری غفلت، تمہاری نااہلی، تمہاری مصلحت، تمہاری خاموشی یا تمہاری بدانتظامی نے کسی بے گناہ کی جان لی تووہ کس گناہ میں قتل کیا گیا؟
یقین کریں اُس وقت اس سے بڑا کوئی فردِ جرم نہیں ہوگا۔ اس سے سخت کوئی الزام نامہ نہیں ہوگا اور اس سے خوفناک کوئی عدالت نہیں ہوگی۔ اُس وقت کوئی سفارش کوئی طاقت کام نہیں آنے والی۔ اُس دن ان تمام مظلوموں کی آہ و بکا کو سُنا جائے گا۔ وہ 14 نومولود جو اب کچھ نہیں کہہ سکتے مگر وہ سب کچھ کہیں گے اور تب کسی کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔
پس اب وہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے اور حتمی فیصلہ آنے کے بعد سخت ترین سزا کے اُن تمام مستحقین کو دہکتی آگ میں اُسی طرح جھلسا دیا جائے گا جس طرح یہ بچے جھلسے تھے۔
سی لیے راقم کہتا ہے کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ جو سوال آج اُن کے سامنے ہے اس کا جواب آج ہی دے دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بہت دیرہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
12