تہران سے واشنگٹن تک خطرے کا نیا دائرہ

ایران کی مشکل یہ ہے کہ اسے بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی بقا کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔


ایڈیٹوریل September 01, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تصادم اب محض حملے اور جوابی حملے کا معاملہ نہیں رہا، یہ برداشت کی اس جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں ہر فریق دوسرے کی فوجی قوت کے ساتھ اس کی معیشت، سیاسی ارادے، سفارتی گنجائش اور طویل المدت استعداد کو بھی آزما رہا ہے۔ شاید اسی لیے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا یہ اعتراف غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ان کا ملک ’’مکمل معاشی، فوجی اور سیکیورٹی جنگ‘‘ کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ دراصل جنگ کی اس نئی حقیقت کا اعتراف ہے جس میں محاذ کی لکیر نقشے پر نہیں، ریاست کے پورے وجود پر کھنچتی ہے۔

 ایران کی مشکل یہ ہے کہ اسے بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی بقا کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ پابندیاں پہلے ہی اس کی معیشت کو محدود کرچکی تھیں، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ عالمی دباؤ نے اس کی اقتصادی سانس مزید تنگ کی، جب کہ مسلسل فوجی کشیدگی نے وسائل کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت کے لیے عوام کو صرف قومی مزاحمت کا بیانیہ دینا کافی نہیں۔ شہری کو روزمرہ زندگی، روزگار، قیمتوں اور بنیادی ضروریات کا حساب بھی درکار ہوتا ہے۔ جنگی جذبات کچھ عرصے تک معاشی تکلیف کو برداشت کرنے کی قوت پیدا کرسکتے ہیں، لیکن کوئی بھی ریاست ہمیشہ نعروں کے سہارے معیشت نہیں چلا سکتی۔ پیزشکیان کا اپنی حکومت کی معاشی مشکلات پر پریشانی کا اظہار اسی لیے اہم ہے کہ اس میں مزاحمت کے ساتھ داخلی کمزوری کا اعتراف بھی موجود ہے۔

 لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔ اسرائیل کا یہ اعلان کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہوجانے کے باوجود اگر تہران نے اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ فعال کیا تو اسرائیل دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، دراصل مسئلے کو سفارت کاری سے کہیں آگے لے جاتا ہے۔ اس بیان کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو محض ایک سفارتی تنازع نہیں بلکہ مستقل وجودی خطرہ سمجھتا ہے اور اپنے لیے یہ حق محفوظ رکھنا چاہتا ہے کہ کسی بھی مستقبل کے معاہدے سے قطع نظر یک طرفہ فوجی کارروائی کرے، اگر یہی اصول علاقائی سیاست کا مستقل قاعدہ بن جائے تو پھر کسی بھی معاہدے کی ضمانت کتنی معتبر رہ جاتی ہے؟ معاہدہ فریقین کے درمیان اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، مگر جب ایک طاقت یہ اعلان کرے کہ وہ معاہدے کے باوجود اپنی مرضی سے کارروائی کرسکتی ہے تو سفارت کاری کی گنجائش لازماً سکڑتی ہے۔

یہاں ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیلی سلامتی کے خدشات کو الگ الگ دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ایران کے میزائل اور جوہری عزائم اسرائیل کے لیے حقیقی خطرہ ہوسکتے ہیں، مگر کسی ریاست کا اپنی سلامتی کے نام پر مستقل پیشگی حملوں کا حق اپنے لیے مخصوص کرلینا بھی ایک خطرناک نظیر ہے، اگر ہر ملک اپنے مخالف کی ممکنہ مستقبل کی صلاحیت کو بنیاد بنا کر موجودہ حملے کا جواز پیدا کرنے لگے تو عالمی نظام قانون سے زیادہ طاقت کے اصول پر چلنے لگے گا۔ اس صورت میں مشرق وسطیٰ کا مسئلہ کسی ایک جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہے گا بلکہ باہمی خوف، پیشگی حملے اور جوابی تیاری کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر بن جائے گا۔

امریکا کے لیے بھی یہ جنگ اتنی آسان نہیں جتنی دور سے دکھائی دیتی ہے۔ جدید جنگ میں طاقت کا مطلب صرف طیاروں، جنگی جہازوں اور میزائلوں کی تعداد نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کسی حملے کو کتنے عرصے تک برداشت کیا جاسکتا ہے اور دفاعی نظام کتنی دیر تک مسلسل فائرنگ کرسکتا ہے۔ ایران کے میزائل حملوں کو روکنے کے لیے ایک ہی رات میں درجنوں نہیں بلکہ درجنوں سے کہیں زیادہ انٹرسیپٹرز کے استعمال کی اطلاعات اسی بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اگر تقریباً 32 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں 96 سے 128 تک انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے اور ایک انٹرسیپٹر کی ممکنہ لاگت تقریباً 40 لاکھ ڈالر مانی جائے تو ایک ہی رات کی دفاعی کارروائی کی قیمت سیکڑوں ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعداد حتمی سرکاری تصدیق کے متبادل نہیں، مگر جنگ کی معاشیات سمجھنے کے لیے ان کی اہمیت ضرور ہے۔

یہاں ایک غیر معمولی تضاد سامنے آتا ہے۔ ایران نسبتاً کم لاگت والے حملہ آور ہتھیاروں کے ذریعے امریکا کو انتہائی مہنگے دفاعی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کرسکتا ہے، اگر حملہ آور میزائل کی قیمت اور اسے روکنے والے انٹرسیپٹر کی قیمت میں کئی گنا فرق ہو تو جنگ کا میدان صرف تباہی نہیں، معاشی حساب کتاب بھی بن جاتا ہے۔ ایک میزائل داغنے والا فریق شاید اپنے محدود وسائل سے زیادہ بڑے دفاعی اخراجات مسلط کردے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی سپر پاور کی روایتی برتری بھی سوال بن جاتی ہے، کیونکہ دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی لامحدود ذخیرے کی مالک نہیں۔

پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے مبینہ کم ہوتے ذخائر اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کی پیداوار کو چند ہفتوں میں کئی گنا بڑھانا ممکن نہیں، جب کہ جنگ چند ہفتوں میں اپنی رفتار کئی گنا بڑھا سکتی ہے، اگر مسلسل حملوں کے نتیجے میں امریکی ذخائر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو واشنگٹن کے سامنے محض یہ سوال نہیں ہوگا کہ اگلا حملہ کیسے روکا جائے، اسے یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ اپنے محدود دفاعی وسائل کہاں استعمال کیے جائیں۔

اس صورتحال میں تیل کی منڈی کا اضطراب بھی محض ایک معاشی خبر نہیں۔ برینٹ خام تیل کا تقریباً 89 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کا 84 ڈالر سے تجاوز کرنا عالمی معیشت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی قیمت ہر براعظم تک پہنچ سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مطلب صرف ایران اور امریکا کے درمیان خطرہ نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کے لیے غیر یقینی بھی ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا؛ نقل و حمل، بجلی، صنعت، خوراک اور بالآخر مہنگائی کے پورے ڈھانچے پر اس کی لہریں پڑتی ہیں۔ جنگ کے میزائل مشرق وسطیٰ میں رہ سکتے ہیں، مگر ان کی اقتصادی بازگشت دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے۔

اسی لیے چین کا معاملہ اس تنازعے کا شاید سب سے پیچیدہ پہلو ہے۔ امریکا ایران کا معاشی گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے، مگر ایرانی خام تیل خریدنے والے چینی خریداروں اور کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے سے فی الحال گریز کی اطلاعات اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ واشنگٹن کے پاس دباؤ بڑھانے کی بھی ایک حد ہے۔ امریکا اور چین کی معیشتیں اس قدر باہم مربوط ہیں کہ بیجنگ کے خلاف وسیع اقتصادی محاذ کھولنے کا مطلب ایک دوسرے بحران کو دعوت دینا ہوسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اس وقت اسی نازک مرحلے پر کھڑا ہے، اگر جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو ایران کے لیے معاشی دباؤ، امریکا کے لیے دفاعی ذخائر اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں تین مختلف مگر باہم جڑے ہوئے بحران بن سکتے ہیں۔ اسرائیل اگر فوجی کارروائی کو واحد قابلِ اعتماد ضمانت سمجھتا رہا اور ایران اگر ہر دباؤ کا جواب مزید عسکری تیاری سے دیتا رہا تو سفارت کاری کے لیے جگہ مسلسل کم ہوتی جائے گی، حالانکہ پائیدار حل آخرکار اسی میز پر تلاش کرنا ہوگا جسے جنگ کے شور میں مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔

 جنگ نے سب فریقوں کو اپنی اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی اپنی حدود بھی پہچانیں۔ ایران کے پاس مزاحمت کی صلاحیت ہے مگر معاشی مشکلات سے انکار ممکن نہیں۔ امریکا کے پاس دنیا کی غیر معمولی عسکری قوت ہے مگر اس کے وسائل لامحدود نہیں۔ اسرائیل کے پاس جدید دفاعی اور جارحانہ صلاحیت ہے مگر مسلسل جنگ اسے بھی ایک ایسے عدم تحفظ میں دھکیل سکتی ہے جس سے نکلنے کے لیے ہر بار نئی جنگ درکار ہو اور دنیا کے پاس تیل کی ایسی منڈی ہے جو ایک میزائل کے شور پر اربوں انسانوں کے معاشی مستقبل کو متاثر کرسکتی ہے۔

اگر ان حقائق کو تسلیم کرلیا جائے تو شاید اس بحران کا راستہ بھی وہیں سے نکلے جہاں سے ہر پائیدار امن نکلتا ہے۔ طاقت کے انکار سے نہیں، طاقت کی حدود کے اعتراف سے۔ کیونکہ طویل جنگ میں بالآخر وہ فریق بھی تھک جاتا ہے جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا ہے۔ میزائلوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے، انٹرسیپٹرز کے ذخیرے ختم ہوسکتے ہیں، خزانے خالی ہوسکتے ہیں، تیل مہنگا ہوسکتا ہے اور اتحادیوں کا صبر جواب دے سکتا ہے، مگر اگر سفارت کاری کی کھڑکی کھلی رہے تو واپسی کا راستہ باقی رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کو اس وقت ایک اور فتح کی نہیں، ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو سب فریقوں کو یہ سمجھا سکے کہ بعض جنگیں جیتنے سے زیادہ ضروری انھیں وقت پر روک دینا ہوتا ہے۔