اس کالم میں جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ایوب خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی ترقی، معیشت اور خاص کر عام آدمی کے حالات میں کس قسم کی تبدیلی آئی۔ایوب خان نے اکتوبر 1958 میں اقتدار سنبھالا۔ اس سے قبل 1950 کی دہائی میں پاکستان کی اوسط معاشی نمو تقریباً 3.1 فیصد سالانہ رہی تھی۔
اس کے مقابلے میں 1960 کی دہائی میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی اوسط سالانہ شرح نمو بڑھ کرتقریباً 6.8 فیصدرہی۔ یہی بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے ایوب خان کا معاشی دور پاکستان کی تاریخ میں نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں صنعت، زراعت، آب پاشی، بجلی اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں توسیع ہوئی۔ عالمی بینک کے ایک تاریخی جائزے کے مطابق 1960 کی دہائی کے وسط تک مجموعی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے تقریباً 22 فیصدتک پہنچ گئی تھی، تاہم 1965کی جنگ کے بعد بچت، بیرونی امداد اور سرمایہ کاری میں کمی آئی اور 1969-70ء تک مجموعی سرمایہ کاری کم ہو کر تقریباً 17 فیصدرہ گئی۔
ورلڈ بینک کے جائزوں کے مطابق 1960کی دہائی میں نئی اور زیادہ پیداوار دینے والی گندم اور چاول کی اقسام، آب پاشی کے پھیلاؤ اور ٹیوب ویلوں کے استعمال سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ایک مرحلے پر زرعی شعبے کی سالانہ شرح نمو تقریباً 5.6 فیصدتک پہنچ گئی۔ اسی طرح انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی ہوئی۔ مثال کے طور پر منگلا ڈیم تعمیر ہوا، آب پاشی کا نظام بہتر کیا گیا، ٹیوب ویل، بجلی کے منصوبے، سڑکیں اور صنعتی انفراسٹرکچر تعمیر کیے گئے اور ان شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ان منصوبوں نے بعد کی کئی دہائیوں کے لیے پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا،لیکن اس ضمن میں اس کامیابی کو صرف حکومت کی بہترین پالیسی قرار دینا سو فیصد درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس وقت کے بین الاقوامی حالات کے باعث امریکا، ورلڈ بینک اور دوسرے مغربی ممالک سے پاکستان کو بڑی مقدار میں مالی اور ترقیاتی امداد حاصل ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ ایوب خان کے دور میں پاکستان امریکا کے انتہائی قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کا جہاں نقصان ہوا وہی یہ فائدہ ہوا کہ امریکی امداد بھی ملی، عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت بھی حاصل ہوئی، ترقیاتی قرضے بھی ملے اور تکنیکی مدد بھی ملتی رہی۔ اس بیرونی معاونت نے پاکستان کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے اہم مالی وسائل فراہم کیے،تاہم اس ترقی کی ایک کمزوری یہ بھی تھی کہ پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی بیرونی وسائل پر خاصی حد تک انحصار کرتی تھی۔
ایوب خان کی معاشی ترقی اور اس پر ہونے والی تنقید کا جائزہ لیتے ہوئے معروف ماہر معیشت ڈاکٹر محبوب الحق نے پاکستان میں دولت کے ارتکاز پر شدید تنقید کی تھی اور’’ 22 خاندانوں‘‘ کا تصور عوام کے سامنے پیش کیا تھا، یعنی ان کے مطابق صنعت کاری تو ہوئی، لیکن دولت اور صنعتی ملکیت بڑی حد تک 22 بڑے کاروباری خاندانوں میں مرتکز ہو گئی۔ ورلڈ بینک اور دیگر رپورٹس میں بھی اس دور میں آمدنی کی غیر مساوی تقسیم اور صنعتی دولت کے ارتکاز کا ذکر ملتا ہے۔ بڑے صنعتی خاندانوں کو بینکوں اور مالیاتی اداروں کے وسائل تک نسبتاً زیادہ رسائی حاصل تھی، جس سے صنعتی ملکیت کا دائرہ وسیع ہونے کے بجائے زیادہ مرتکز ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔ ناقدین کے مطابق ایوب خان کی پالیسیوں سے ان کے قریبی لوگوں نے بہت فائدہ اٹھایا ۔ ایک اور اہم تنقید یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں یہ احساس بڑھتا گیا کہ ملک کے وسائل، سرکاری سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کا زیادہ فائدہ مغربی پاکستان کو پہنچ رہا ہے۔
دستیاب تاریخی اعداد اس معاشی فرق کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔مثلاً 1959-60 میں مشرقی پاکستان میں فی کس آمدنی تقریباً 278 روپے جب کہ مغربی پاکستان میں 366 روپے تھی۔1967-68 میں مشرقی پاکستان کی فی کس آمدنی تقریباً 302 روپے جب کہ مغربی پاکستان میں یہ بڑھ کر 530 روپے ہو چکی تھی۔ اس طرح دونوں حصوں کے درمیان فی کس آمدنی کا فرق نمایاں طور پر بڑھ گیا۔یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایوب خان کے دور میں معاشی ترقی ضرور ہوئی، لیکن اس کے فوائد پاکستان کے دونوں حصوں میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔ بعد میں یہی معاشی فرق سیاسی بے چینی اور مشرقی پاکستان میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کے اہم عوامل میں شامل ہوا۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی ترقی کی رفتار معاشی شعبوں کے مقابلے میں کم رہی۔ 1972 کی مردم شماری، جو ایوب خان کے اقتدار کے خاتمے کے چند برس بعد ہوئی، میں پاکستان کی مجموعی شرح خواندگی تقریباً 21 فیصدتھی۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 1965کی جنگ کے بعد پاکستان کی معاشی صورتحال پر دباؤ بڑھا۔ عالمی بینک کے مطابق جنگ کے بعد سرکاری اور نجی بچت میں کمی آئی، خالص بیرونی امداد کی رفتار بھی کم ہوئی اور قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بڑھنے لگا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی سرمایہ کاری 22 فیصدسے کم ہو کر (1969-70ء میں) تقریباً 17 فیصد رہ گئی۔
ایوب خان کے ابتدائی برسوں میں جی ڈی پی میں تیز اضافہ ہوا، زرعی پیداوار بڑھی، صنعتی شعبے میں توسیع ہوئی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ہوئی، لیکن ان کے آخری دور میں آمدنی کی عدم مساوات ایک اہم مسئلہ بن گئی، علاقائی مسائل بڑھ گئے، سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا اور بیرونی امداد پر انحصار کے مسائل زیادہ نمایاں ہونے لگے۔یہاں تک کہ 1968 اور 1969میں عوامی احتجاج نے ایوب خان کی حکومت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا اور بالآخر مارچ 1969 میں انھیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
سیاسی اعتبار سے بھی ایوب خان کا دور ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے ،جس میں انھوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے اور سیاسی مخالفین کے خلاف مختلف اقدامات کیے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ 1964 کے صدارتی انتخاب میں اختیار کیے گئے سیاسی رویے اور انتخابی مہم کے دوران محترمہ فاطمہ جناح کی ذاتیات پر حملے کرنے پر بھی شدید تنقید ہوئی، جب کہ بنیادی جمہوریتوں کے نظام اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں نے سیاسی شرکت کو محدود رکھا۔ اسی طرح آزادی صحافت پر بھی سخت حملے کیے گئے جس میں ’’ پی پی او‘‘ جیسے ظالمانہ قوانین بھی شامل تھے۔ اخبارات کے دفاتر اور صحافیوں پر کھل کر ظلم کیے گئے۔
اگر عام آدمی کی قوت خرید کا جائزہ لیا جائے تو گندم بھی عوام کے لیے مہنگی تھی، اسی لیے اس دور میں عوامی احتجاج میں یہ نعرہ بھی لگا، 20 روپے من آٹا، پھر بھی ہے سناٹا‘‘دفاعی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ 1957-58ء میں دفاعی اخراجات تقریباً 854 ملین روپے تھے، جب کہ 1968-69ء میں دفاعی اخراجات تقریباً 2,427 ملین روپے تھے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایوب خان کے دور میں دفاعی اخراجات نمایاں طور پر بڑھے، اگرچہ 1965کی جنگ کے بعد ان میں سال بہ سال اتار چڑھاؤ بھی آیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے شائع کردہ تاریخی تخمینوں کے مطابق ایوب خان کے ابتدائی دور میں یعنی 1963-64 میں غربت 46.68فیصدتھی جب کہ 1979-70 میں بڑھ کے 53.73 ہو گئی اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایوب خان کے دور میں غربت پہ قابو نہیں پایا جا سکا بلکہ اس میں اضافہ ہوا۔
یوں ایوب خان کے دور میں ہونے والی ترقی کے فوائد کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو سکی، دولت چند بڑے کاروباری گروہوں میں زیادہ مرتکز ہوئی، مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان معاشی تفاوت بڑھا، انسانی ترقی کے شعبوں کو معاشی ترقی کے مقابلے میں کم ترجیح ملی، بیرونی امداد پر انحصار نمایاں رہا اور سیاسی آزادی محدود رہی۔ راقم کی کوشش ہے کہ آیندہ کے کالموں میں ماضی کے مزید حکمرانوں کی کار کردگی کا اسی طرح سے جائزہ لیا جائے تاکہ قارئین خود سے فیصلہ کرسکیں کون عوام کی حقیقی خدمت کرسکا۔