پشاور ہائیکورٹ کا ممتاز عرف ممتازے کی لاش ورثا کے حوالے کرنے کا حکم

عدالت نے اسپتال انتظامیہ کو لاش کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کی ہدایت بھی کی


ویب ڈیسک September 01, 2026

پشاور ہائیکورٹ نے پولیس کو مطلوب اشتہاری ملزم ممتاز عرف ممتازے کی لاش اصل ورثا کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

ممتاز عرف ممتازے کی والدہ نے لاش کی حوالگی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے ان کے بیٹے کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا، تاہم ابھی تک لاش ورثا کے حوالے نہیں کی گئی۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاش والدہ اور بھائی کے حوالے کی جائے تاکہ اسے دفن کیا جا سکے، جبکہ قبرستان میں قبر کھودنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار نے کی۔ دورانِ سماعت جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ یہ اسلام آباد سے کون لایا تھا اور لاش اس وقت کس کے پاس ہے؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عبدالرؤف نے عدالت کو بتایا کہ لاش اس وقت اسپتال میں موجود ہے اور پولیس اسے اصل ورثا کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس لاش صرف اصل ورثا کے حوالے کرتی ہے۔

عدالت نے اسپتال انتظامیہ کو لاش کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کی ہدایت بھی کی، جبکہ عدالت نے قبر کھودنے میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے ممتاز عرف ممتازے کی لاش اصل ورثا کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔