’’بھارت کا چھوٹا بھائی بننا قبول نہیں‘‘ بنگلہ دیش کا اعلان

بنگلہ دیش نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ باہمی تعلقات خود مختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں پر استوار ہوں گے


جاوید اقبال September 01, 2026

بھارت جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے۔اس کی بنیادی وجہ سرحدی تنازعات، ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور داخلی سیاست کو خارجہ پالیسی پر ترجیح جیسے عوامل ہیں۔

انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کی وجہ سے اس وقت بھارت کے اپنے 7 ہمسائیہ ممالک میں سے 6 کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بالخصوص بی جے پی کی موجودہ حکومت نے جب سے بھارت کی سیاست پر غلبہ حاصل کیا ہے اس کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشمکش بھی انہی بھارتی پالیسیوں کے قدرتی ردعمل کی ایک مثال ہے۔

بھارت کے اسی رویئے کی بنا پر بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی BRICS سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے انہیں BIMSTEC کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے پیشِ نظر ڈھاکہ نے دعوت قبول کرنے سے معذرت کر لی۔

بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناو تو کئی دہائیوں سے چلا آ رہا تھا لیکن یہ تناو عوامی سطح پر نمایاں تھا جبکہ بیگم حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت بنگلہ دیش کے عوامی احساسات کی ترجمانی کرنے کے بجائے بھارت مخالف آوازوں کو کچلنے پر کمر بستہ تھی۔ عوام کو اس بُری طرح سے نظر انداز کیا جا رہا تھا کہ ان کا غصہ اندر ہی اندر ایک آتش فشاں بن چکا تھا جو حالیہ طلبا تحریک کی صورت میں پھٹ پڑا اور حسینہ واجد کو ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ بھارت کے ساتھ خراب تعلقات کی وجوہات میں طلبا بغاوت کے بعد حسینہ کا بھارت میں پناہ لینا اور پانی کا تنازع ( تیستا معاہدہ) جو 10 سال سے لٹکا ہوا ہے ‘ سر فہرست ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب بھارت میں مقیم بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کی، جس پر ڈھاکہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے بنگلہ دیش اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم نے دورہ بھارت سے پہلے واضح پیغام دیا کہ جب تک شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا جائے گا اس وقت تک بنگلہ دیش کے وزیراعظم بھارت کا دورہ نہیں کریں گے۔ بنگلہ دیش نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات باہمی برابری اور احترام کی بنیاد پر قائم ہوں گے، نہ کہ بھارتی ترجیحات یا کسی قسم کے دباؤ کے تحت۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارت پر واضح کیا ہے کہ قومی مفاد پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کو بھارت میں پناہ دینے اور نئی دہلی سے سیاسی بیانات جاری کرنے کی اجازت دینے پر کھل کر احتجاج کیا ہے۔

ڈھاکہ نے اسے دوطرفہ اعتماد کے لیے ’انتہائی قابل اعتراض‘ قرار دیا ہے۔ ڈھاکہ کا واضح مطالبہ شیخ حسینہ اور دیگر مطلوب افراد کی حوالگی ہے۔ بھارت پر واضح کر دیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اب وسیع تر تعلقات کی خاطر اس معاملے کو پسِ پشت نہیں ڈالے گا۔ بنگلہ دیش کے موقف کے مطابق یہ صرف ایک شخصیت کا معاملہ نہیں ہے یہ خودمختاری اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کا سوال بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ’بڑا بھائی، چھوٹا بھائی‘ والا ڈھانچہ ناقابل قبول ہے۔ مستقبل کے تعلقات خودمختار مساوات کی بنیاد پر ہوں گے۔

شیخ حسینہ واجد کے معاملے کے بعد ڈھاکہ کے رویے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش اب اپنی خارجہ پالیسی میں "بنگلہ دیش فرسٹ" کے اصول کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے جس کا بنیادی مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور فیصلوں میں خودمختاری برقرار رکھنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ڈھاکہ کسی ایک بڑی طاقت کے ساتھ غیر ضروری وابستگی کے بجائے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قومی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں نئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جس میں خطے کے ممالک کے تمام ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کا رشتہ بنیادی جز قرار دیا گیا ہے۔ چین کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط اور بڑھتا ہوا تعاون بنگلہ دیش کی گہری حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ چین کے ساتھ تجارت، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، رابطوں اور اسٹریٹجک تعاون میں توسیع بھارت کے لیے ایک بڑا جغرافیائی اور سیاسی چیلنج ہے۔

 تیستا پانی کی تقسیم جیسے طویل عرصے سے غیر حل شدہ مسائل بنگلہ دیش کو متبادل شراکت داریاں تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

 بنگلہ دیش کا موجودہ موقف جنوبی ایشیا کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ چھوٹی ریاستیں اب کسی ایک علاقائی طاقت پر انحصار کے بجائے اسٹریٹجک خودمختاری چاہتی ہیں۔ ڈھاکہ نے اپنے مؤقف سے واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بنگلہ دیش سیاسی طور پر کسی دوسرے ملک کا تابع ہو۔ بنگلہ دیش نے بھارتی حکومت کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ اگر نئی دہلی واقعی مستحکم اور دیرپا تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے یکطرفہ توقعات کے بجائے باہمی احترام، مساوات اور دوطرفہ مفاد پر مبنی تعلقات کو ترجیح دینا ہوگی۔ ڈھاکہ کا پیغام واضح ہے: دوستی جاری رہے گی، لیکن برابر کی سطح پر۔ تعاون ہوگا، لیکن خودمختاری کی قیمت پر نہیں۔

بنگلہ دیش حکومت کے اصولی موقف نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھارت کی شرائط پر نہیں ہوگی بلکہ بنگلہ دیش کے قومی مفاد اور خودمختاری کی بنیاد پر ہوگی جو جنوبی ایشیا کے علاقائی توازن میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔

خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش کے حوالے سے نئی صورتحال نے بھارت کی اس روایتی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں جس کے تحت وہ اپنے پڑوسی ممالک کو اپنے اسٹریٹجک دائرہ اثر میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بھارت کے لیے جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی سیاست ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لئے بھی نئے مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ اس بات کے امکانات روشن ہوئے ہیں کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ماضی کی تلخیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ایسے مستقبل کی تعمیر کی طرف آگے بڑھے جو دونوں ملکوں کے عوام کے لئے دوستی اور ترقی کی راہیں روشن کر دے۔