عوام کی نبض سمجھیں

ہر مقام پر اور ہر کام پر وزیر اعلیٰ کی تصویر لگا دینے سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوں گے


محمد مشتاق ایم اے September 02, 2026

ہمارے ملک میں آنے والی ہر حکومت اقتدار سے پہلے عوام کے سارے دکھ درد سمجھتی ہے اور اپنے آپ کو یوں ظاہر کرتی ہے کہ اس سے زیادہ عوام کا ہمدرد کوئی اور نہیں ہے اور اپوزیشن کے دور میں وہ حکومت وقت کے ہر اس کام پر تنقید کرتی ہے جس سے عوام پر معاشی بوجھ پڑے یا عوام کو زرا سی بھی تکلیف پہنچے۔

حکومت وقت پیٹرول کے ریٹ بڑھائے یا بجلی اورگیس کے، اپوزیشن جماعتیں دھڑا دھڑ عوام کے حق میں بیانات داغتی ہیں اور حکومت کو اس کے اقدامات واپس لینے کے لیے جلسے جلوس اور دھرنے تک دیتی ہیں، لیکن جب اپوزیشن کی یہ جماعتیں حکومت سنبھالتی ہیں تو اگلے دن ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی ہیں اور عوام کو پہچاننے ہی سے انکاری ہو جاتی ہیں اور ان کے دکھ درد بھی ایسے ہی بھول جاتی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

حکومت میں آکر وہ تمام وہی کام کرتی ہیں جن کی مخالفت وہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کرتے رہے ہوتے ہیں۔ حکومت میں آکر ان کو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مقبول نہیں بلکہ مضبوط فیصلے کرنے ہیں اور وہ مضبوط فیصلے وہی ہوتے ہیں جن سے عوام کے فائدے کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کا مزید ستیا ناس ہوتا ہے۔

موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ ہو چلا ہے ۔وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت اس وقت اپنی کارکردگی پر بہت خوش اور نازاں ہے اور اس کی دلیل کے طور پر وہ بے شمار منصوبے گنواتی ہے، جن کا آغاز اُس نے کیا اور تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہیں۔

بلا شبہ ان منصوبوں کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے مگر عوام ماضی اور مستقبل کے بجائے اپنے حال کو درست کرنے کی کوشش میں ہیں اور حکومت وقت سے چاہتے بھی یہی ہیں کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائے اور ایسے اقدامات کرے کہ جن کا براہ راست تعلق عوام کے آج سے ہو، نہ کہ گزرے ہوئے یا آنے والے کل سے۔

عوام کے آج سے مراد ایسے اقدامات ہیں کہ جن کی بدولت ان کی مہنگائی سے جھکی ہوئی کمر سیدھی ہو سکے۔ بے شک پنجاب حکومت نے ایسے کام کیے ہیں جو پہلے کسی نے نہیں کیے اور ان کا نتیجہ بھی سامنے آرہا ہے۔ ان میں ستھرا پنجاب، شہروں کی بیوٹی فیکیشن ،تجاوزات کا خاتمہ، سیف سٹیز کا قیام ، میٹرو بس، ہیلتھ سیکٹر ،مینوئل سرکاری کاموں کی کمپیوٹرائزیشن وغیرہ شامل ہیں لیکن یقین مانیں ان میں سے کوئی پراجیکٹ اور کام عوام کے دلوں میں حکومت کے لیے محبت تو کجا ایک چھوٹا سا نرم کونہ بھی پیدا نہیں کرسکا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری طرف بجلی ، گیس، پیٹرول اور روزمرہ کی اشیائے خور و نوش، گوشت اور ادویات کی قیمتیں اس قدر بڑھی ہیں کہ ہر عام آدمی حکومت سےتنگ آچکا ہے۔ اس کے بعد موٹر سائیکل پر ہیلمٹ اور دیگر قوانین پر آئے روز چالان نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

شہر کے اندر ہی موٹر سائیکل چلانا مشکل ہو گیا ہے اور مزید مسئلہ یہ ہے کہ ہر کسی کا چالان نہیں ہوتا بلکہ جس کا کوئی ریفرنس نہیں یا عہدہ نہیں، وہ پھنس گیا۔ٹریفک پولیس نے اس کام کو اپنا فرض بنا لیا ہے اور رات دن شہریوں کو روکنے اور چالان کرنے کے درپے ہے۔

اس کے ساتھ سونے پہ سہاگہ کہ رات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔ جب دل چاہتا ہے بند کردیتے ہیں اور کبھی بحال کرتے ہیں تو چند منٹ بعد پھر بند کردیتے ہیں۔ شام 7 بجے، رات 10 بجے، رات ایک بجے اور پھر صبح ہونے کے قریب 4 بجے جب بجلی نہیں ہو گی تو دن بھر کے تھکے مارے لوگ آرام کس وقت کریں گے اور اگلے دن کے لیے تازہ دم ہونے کے لیے ان کی نیند کیسے پوری ہو گی؟۔

رات ایک بجے اور صبح 4 بجے بجلی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی رات میں گھڑی بھر سکون اور آرام بھی نہ کر سکے۔اس پر مزید یہ کہ بجلی جانے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے بلکہ جب بھی مزاج یار بٹن بند کرنا چاہے اور اس حوالے سے نہ کوئی بتانے والا ہے نہ کوئی پوچھنے والا اور نہ ہی کوئی سمجھانے والا۔

دنیا میں موجود ہر ملک کی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ جو سہولتیں ان کے عوام کو حاصل ہیں، ان میں آنے والے دنوں، مہینوں اور برسوں میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو آسانی ہو، مگر ہمارے ہاں سفر آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کی طرف رواں دواں ہے۔

ایک استاد نے کلاس میں ایک غریب طالب علم سے پوچھا کہ 2 اور 2 کتنے ہوتے ہیں تو اس نے جواب دیا 4 روٹیاں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بھوکے آدمی کے لیے سب سے ضروری روٹی ہے اور پیاسے کے لیے پانی ۔ اگر ان کو روٹی اور پانی دینے کے بجائے اپنے منصوبے گنوانے شروع کردیں تو اس سے اس کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ لہٰذا حکومتوں کو چاہیے کہ عام آدمی کی سہولت کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

شہر کی کمیٹیاں روزمرہ اشیاء کا نرخ نامہ تو روزانہ جاری کرتی ہیں مگر ان پر عمل درآمد کون کروائے گا؟ جب کہ زائد نرخوں پر بیچنے والوں کو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔

دوسری طرف لوگ مختلف قسم کے ٹیکسوں سے پریشان ہیں کہ وہ کس طرح اور کس حد تک بڑھ گئے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور پھر بھی لیوی کے نام پر بڑھتا بھتہ عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔ تیل، گھی، سبزی، دالیں اور گوشت عام آدمی کی پہنچ سے دو ر ہو گئے ہیں۔

حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہر مقام پر اور ہر کام پر وزیر اعلیٰ کی تصویر لگا دینے سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوں گے ، بلکہ مقتدرہ قوتوں سے آخری گزارش ہے کہ عام آدمی اور معاشرے کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں اور پھر جو نظر آئے اسے حل کریں۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے، جس سے حکومت کو عوام کا اعتماد حاصل ہو سکتا ہے۔

ابھی بھی وقت ہے، عوام کی نبض کو سمجھیں اور اس کے مطابق اقدامات کریں، ورنہ آپ کے بڑے بڑے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور عوام اپنا کوئی اور مسیحا ڈھونڈنے چل نکلیں گے۔

بقول شاعر:

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

ہم نے تو دِل جلا کے سر عام رکھ دیا

پاکستان ہمیشہ زندہ باد


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
محمد مشتاق ایم اے
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔