یونانی دیو مالا (Greek Mythology) میں ہے کہ یونانی دیوتا ’’اٹلس‘‘(Atlas) نے آسمانوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھا ہے۔ ہمارے ہمہ قسم حکمرانوں کے دعوے اور بیانات ملاحظہ کیے جائیں تو یوں لگتا ہے جیسے انھوں نے بھی آسمانوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھا ہے۔ یہ بھی اپنے تئیں چھوٹے موٹے ’’اٹلس‘‘ ہیں ۔ دُنیا کے مسائل حل کرواتے ہمارے حکمران مگر اپنے بلکتے عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں ۔ہر روز اِن کی نااہلیاں عیاں ہو رہی ہیں ۔ یکم ستمبر 2026کی رات راولپنڈی اور اسلام آباد میں، مجموعی طور پر، 160ملی میٹر سے 200ملی میٹر بارش ہُوئی ۔ موسمِ برسات کی بس اِس ایک بارش نے جڑواں شہروں کے منتظمین کی بس کرا دی ۔ستھرا پنجاب کا غازہ بھی اِسی میں بہہ گیا۔
دونوں شہر ( جنہیں پورے پاکستان کے لیے آئیڈیل ثابت ہونا تھا) گلے گلے تک بارشی پانی میں ڈُوب گئے ۔ اسلام آباد کے پوش علاقے کی مہنگی ترین کوٹھیاں زیرآب آ گئیں ۔ فرنیچر تباہ ہو گئے اور لاتعداد کاریں پانی میں بہہ گئیں ۔ راولپنڈی کی تباہی تو دو چند نظر آ رہی ہے ۔ راولپنڈی کے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد کی ٹریفک پولیس چیف کے میڈیا میں جو بیانات اور اعلات سامنے آئے ہیں ، وہ ان کی انتظامی نااہلیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ راولپنڈی کی متعدد بستیاںاور اسلام آباد میں E11اورD12ایسے پوش اور جدید ترین مہنگے رہائشی علاقے درحقیقت مقامی بد انتظامی و بد طرزِ تعمیر کے کارن بارشی وحشت کا ہدف بنے ہیں ۔ چند گھنٹوں میںاربوں کھربوں کا نقصان ہو گیا ۔ ایسے میں بے کس عوام منہدم ہوتے نظام کے خلاف واویلا نہ کریں تو کیا کریں؟
راولپنڈی کے نالہ لئی نے بارشی پانی سے بپھر کر جس طرح تباہی مچائی ہے، اِس نے جڑواں شہروں کی طاقتور مگر ناکام انتظامیہ کو ایک بار پھر نادم بھی کر دیا ہے اور ان کی نااہلیوں کی پول بھی کھول دی ہے ۔ حکمرانوں کے اندھے لالچ نے بے بس عوام کو یہ روزِ بد دکھائے ہیں۔ بالیقین کہا جاتا ہے کہ اگر راولپنڈی اور اسلام آباد میں تعمیر ہونے والے نئے پوش علاقوں میں قدیم جاری اور فطری ندی نالوں کو منہدم کرکے ان کی جگہ بستیاں آباد کرنے کی مذموم کوششیں نہ کی جاتیں تو آج یہ منہ زور بارشی پانی بھی اِن کے انہدام کے درپے نہ ہوتا۔یہ قدرت کا انسانی لالچ سے انتقام ہے ۔واقعہ تو یہ ہے کہ ہر روز ہمارے سرکاری نظام کی نااہلی، نالائقی اور انہدام واضح سے واضح تر ہوتا جارہا ہے ۔ یوں عوامی غصے کا پارہ بھی ہائی سے ہائی تو ہورہا ہے ۔ اگست 2026کے آخری ہفتے اسلام آباد اور اِس کے آس پاس جن واقعات نے جنم لیا، اِن کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔
26اگست کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں آتشزدگی کا سانحہ جس نے 14نَو مولود بچوں کی جان لے لی اور 28اگست کو آزاد کشمیر میں ایک ایسے شخص کا وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانا جو عام انتخابات میں تو ہار گیا تھا ، مگر ٹیکنو کریٹ سیٹ پر جتوایا گیا تھا اور30اگست کو کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہلاکت خیز آگ بارے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا سامنے آنا ۔ حیرت انگیز بات ہے کہ 30اگست کو ، آٹھ ماہ کے طویل عرصے بعد، کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہلاکت خیز آگ (جس میں80افراد جل کر مر گئے تھے) بارے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تو کسی ایک شخص کو بھی ذمے دار نہ ٹھہرایا گیا۔ یعنی جو جل مرگئے ، بس مر گئے ؟ ایسے میں منہدم نظام کے خلاف عوامی غصے میں کیونکر اضافہ نہ ہو ؟
وطنِ عزیز میں ہر واقعہ پہلے واقعہ پر جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہو رہا ہے ۔26اگست کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال (PIMS) میں اچانک بھڑک اُٹھنے والی آگ نے غریب خاندانوں کے 14نَومولود بچوں کو جلا کر خاکستر کر ڈالا ۔ سارا ملک اب تک افسردہ اور اُداس ہے ۔ اِس خونی سانحہ نے ملک بھر کے عوام کو منہدم نظام کے خلاف مزید ناراض اور مشتعل کر دیا ۔ جناب شہباز شریف نے ترنت وفاقی سیکرٹری صحت کو معطّل کر کے حکومت کے خلاف یلغار کرتے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔پھر مذکورہ سانحہ کی تحقیق و تفتیش کے لیے وزیر اعظم نے کمیٹیوں پر کمیٹیاں بھی بنائیں ، مگر ہُوا کیا؟ سانحہ کے تیسرے دن پی ایم انکوائری کمیٹی نے وزیر اعظم کے حضور انکوائری رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ نے اسپتال مذکور کے10سینئر ترین افراد کوفوری ملازمتوں سے برخاست کرنے کی سفارش کی ۔ مگر نتیجہ کیا نکلا ؟ متعلقہ اسپتال کے صرف 8ڈاکٹروں اور افسروں کو معطل کیا گیا ۔ بس؟ وفاقی وزیر صحت اور وفاقی وزیر مملکت برائے صحت صاف بچا لیے گئے ۔
ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود ابھی تکPIMSبارے کمیٹیوں پر کمیٹیاں بن رہی ہیں ۔ حیرت تو یہ ہے کہ مذکورہ سانحہ کے پیش منظر میں وزارتِ قومی صحت کے سربراہ ( ڈاکٹر ریاض جنجوعہ) نے بہ امرِ مجبوری استعفیٰ تو دے دیا ہے ، مگر مستعفی ہوتے ہی یہ فرمایا:’’ سانحہ پمز پر سیاست کی جارہی ہے۔ اِس ادارے کو بِلا وجہ گھسیٹا جا رہا ہے ۔‘‘ وفاقی وزیر صحت بھی یہی لہجہ اختیار کیے ہُوئے ہیں۔اب تو یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے PIMSکا خونی سانحہ تیزی سے بدلتے حالات تلے دَب کر رہ گیا ہے ۔
پاکستان کے بڑے جس جذبے سے استنبول میں منعقد ہونے والے سہ ملکی دفاعی اتحاد کے پہلے اجلاس میں شریک ہُوئے ہیں ، جس طرح 2 ستمبر2026 کو سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے خلاف پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا ہے اور 2/3 ستمبر 2026کو جس طرح بشکیک ( کرغستان) میں SCOکے سربراہی اجلاس میں ہمارے وزیر اعظم صاحب بصد شوق شریک ہُوئے ہیں، اِن سب واقعات نے پمز سانحہ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے ۔ حکمرانوں کی اِس عالمی ہما ہمی میں غریب عوام کے دکھوں اور مصائب بھلا کسے یاد رہتے ہیں؟
لارڈز میں پاکستانی کرکٹروں کو جو شرمناک اور عبرتناک شکست ہُوئی ہے، اِس نے بھی عوامی غصے میں اضافہ کیا ہے ۔یہ دراصل ہماری کرکٹ کے انہدام کی نئی مثال ہے۔ منہدم نظام کے خلاف عوامی غصہ فرو نہیں ہورہا ۔ عوام جب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ اُن کے بنیادی حقوق غصب کیے جا رہے ہیں ۔ ووٹ اور میرٹ کی عزت پامال کی جارہی ہے تو عوامی غصے میں اضافہ فطری ہے ۔ 28اگست 2026 کو یہی کچھ تو ہُوا ۔ اس تاریخ کو آزاد کشمیر میں ایک ایسے شخص کو وزیر اعظم بنا کر نئی ’’تاریخ‘‘ رقم کی گئی جو شخص آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں بُری طرح ہار گیا تھا ۔ مگر ٹیکنو کریٹ کی سِیٹ پر جتوا کر اُسے وزارتِ عظمیٰ کا تاج پہنا دیا گیا ۔ آزاد جموں و کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کے دو بڑے اُمیدوار ( راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر) حیرت میں دیکھتے ہی رہ گئے ۔ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والوں نے یہ فیصلہ اور اقدام کرکے اپنے ہاتھوں ہی سے اپنے نعرے کی عزت اور معنویت کھو دی ہے ۔
ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر جیت کر وزیر اعظم بننا آزاد کشمیر کی سیاست میں اگرچہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اِس سے قبل بھی (1991میں)سردار عبدالقیوم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اور علما و مشائخ کی خصوصی سیِٹ پر رکن آزاد کشمیر اسمبلی بن کر وزیر اعظم بن گئے تھے ۔ مگر اِس کے باوجود اِس اقدام کی تحسین نہیں کی جا سکتی ۔ دونوں واقعات ہی جمہوری عمل کی تکذیب اور توہین ہیں ۔
یہ منظر بھی دیکھا گیا ہے کہ نَومنتخب وزیر اعظم، بیرسٹر افتخار گیلانی، حلف اٹھانے کے بعد شاہ غلام قادر کے گھر گئے اور اُنہیں منانے کی سعی کی۔ مگر یہ تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف عمل سمجھا گیا ہے۔آزاد کشمیر میں افتخار گیلانی صاحب کی نئی حکومت بننے کے بعد سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور ، اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین اور سابق صدرِ آزاد کشمیر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہُوئے یہ اعلان کیا ہے :’’ آزاد کشمیر کی موجودہ ’’کمپنی‘‘ زیادہ دیر نہیں چلے گی۔‘‘ یہ لوگ شائد نہیں جانتے کہ جنھوں نے ’’نئی کمپنی ‘‘ وضع کی ہے ، وہ اِسے چلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔