یک سنگھا یقیناً صدیوں سے ہر عمر، خطے اور صنف کے افراد کے لیے کشش، تحیر اور بے پناہ علمی و فن کارانہ دل چسپی کا باعث بنا رہا ہے۔ یہ اساطیری مخلوق اپنی من بھاتی شکل وشباہت، شعوری وخُلقی نیز صوفیانہ جاہ وجلال اور لامتناہی انفرادیت کے باعث عالمی اساطیر میں سب سے زیادہ مقبول و معروف مقام رکھتی ہے۔ ادب، بصری فنون، فلسفہ، اور ثقافت جیسے موضوعات میں دلچسپی رکھنے والے مفکرین اور عوام الناس کے تخیل پر اس کے نقوش نہایت گہرے اور دیرپا ہیں۔ یک سنگھا محض ایک فرضی جانور نہیں بلکہ انسان کے تخلیقی شعور، پاکیزگی کی تلاش اور مافوق الفطرت مظاہر کو سمجھنے کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کا ایک روشن استعارہ ہے۔
اگرچہ جدید دور میں آرٹ، لسانیات اور تاریخِ مذاہب کے حوالے سے اس کے بارے میں گہرے بحث و مباحث، سائنسی تحقیقات اور تقابلی مطالعات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کا کوئی حقیقی تاریخی و حیوانی وجود تھا یا یہ مخلوق محض تصوراتی، رویاوی اور علامتی ہے، اس سوال پر حتمی سائنسی اتفاقِ رائے تاحال قائم نہیں ہوسکا ہے۔ مغربی دنیا میں یک سنگھے کو ایک سفید گھوڑے کی مانند تصور کیا جاتا ہے جس کی پیشانی پر ایک چکردار، لمبا اور طلسماتی سینگ قائم ہوتا ہے، لیکن جب ہم اس کے اولین نقوش کی تلاش میں قدیم تاریخ کا سفر کرتے ہیں تو اس کے اولین اور سب سے مستند شواہد وادیٔ سندھ کی قدیم ترین تہذیب سے برآمد ہونے والے آثار میں نظر آتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کے باشعور عوام اور عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آثار سے دریافت شدہ ’’انڈس یونیکورن سیل‘‘ (وادیٔ سندھ کے یک سنگھے والی مہر) کے حوالے سے اس مخلوق سے بہ خوبی شناسا ہیں۔ یہ مہریں وادیٔ سندھ کی انتہائی پرپیچ اور نفیس کندہ کاری کا نادر شاہکار ہیں۔ ماہرینِ آثار قدیمہ سر جان مارشل (ڈائریکٹر جنرل آف دی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا) اور ای ایم میکے نے موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی کھدائیوں کے دوران ان مہروں کی کثرت کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا تھا۔
آثارِ قدیمہ کے کوائف:
٭ آثارِقدیمہ کا نام: انڈس یونیکورن سیل (وادیٔ سندھ کی یک سنگھی مہر)
٭ مادہ : سنگِ صابونی۔ حرارت پر پکایا ہوا نرم پتھر۔
٭ ابعاد : 3.5 سینٹی میٹر طول × 2.4 سینٹی میٹر عرض (تنوع کے ساتھ)
٭ تخمینہ عہد: 2600 قبل مسیح تا 1900 قبل مسیح (پختہ ہڑپائی دور)
٭ موجودہ مقام: نیشنل میوزیم آف پاکستان، کراچی (خصوصی گیلری)
یہ مہریں عام طور پر سنگِ صابونی سے تراشی گئی ہیں، جو ایک قسم کا نرم پتھر ہوتا ہے جسے تراشنے کے بعد شدید حرارت پر پکایا جاتا تھا تاکہ اس میں پائے داری اور چمک پیدا ہوسکے۔ ان مہروں کی اوسط لمبائی 3.5 سینٹی میٹر اور چوڑائی 2.4 سینٹی میٹر کے قریب ہوتی ہے۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور آثارِقدیمہ کی جدید تیکنیکوں کے مطابق یہ مہریں قبل مسیح کے تیسرے ہزارے (تقریباً 2600 تا 1900 قبل مسیح) سے تعلق رکھتی ہیں، یعنی یہ مغربی اساطیر میں یونیکورن کے ذکر سے ہزاروں سال قبل وجود میں آچکی تھیں۔
ان مہروں میں ایک انوکھا اور نہایت متوازن ڈیزائن کندہ ہے، جس میں ایک یونیکورن جیسی یک سنگھی مخلوق دکھائی گئی ہے۔ اس مخلوق کو کھڑی حالت میں دکھایا گیا ہے، جس کا جسم مضبوط اور باوقار ہے، گردن سیدھی اور خوبصورت ہے، اور اس کی پیشانی سے ایک خمیدہ اور چکردار سینگ اوپر کی جانب ابھرا ہوا ہے۔ مخلوق کے سامنے ایک پراسرار برتن یا نذرانے کا اسٹینڈ بنا ہوا ہے، جس کے دو حصے ہوتے ہیں۔
انڈس یونیکورن سیل کو وادیٔ سندھ کی تہذیب سے متعلق پراسرار ترین اور اہم ترین بصری نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے کیوںکہ تاحال کوئی بھی مکمل قطعیت کے ساتھ اس مہر کے دقیق مقصد یا تحریر کی قرأت کرنے میں کام یاب نہیں ہوسکا ہے۔ انڈس اسکرپٹ کی عدم خواندگی کے باعث اس کے گرد الگ الگ اندازے اور علمی اٹکلیں لگائی جاتی رہی ہیں:
الف: انتظامی و تجارتی نظریہ: ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ مہریں تجارتی گٹھڑیوں، سامان کی ترسیل اور تاجر برادری کے مخصوص نشان یا سگنیٹ کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ یونیکورن والی مہریں وادیٔ سندھ کی تمام مہروں کا تقریباً 60 سے 65 فی صد حصہ تشکیل دیتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاید کسی اعلیٰ ترین تجارتی گلڈ یا مرکزی حکم راں طبقے کا سرکاری نشان تھی۔
ب: مذہبی و مابعدالطبیعیاتی نظریہ: دوسرے مکتبِ فکر کا ماننا ہے کہ یہ مخلوق مافوق الفطرت وجود کی نمائندہ تھی، جو پاکیزگی، تحفظ، اور طاقت کی دیوتائی علامت تھی۔ برتن کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس مخلوق کی موجودگی میں معبدوں یا مقدس مقامات پر نذرانے پیش کیے جاتے تھے۔
انڈس یونیکورن سیل کا اصل نمونہ اس وقت کراچی کے نیشنل میوزیم آف پاکستان میں محفوظ ہے، جہاں یہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں اور محققین کی دل چسپی کا محور بنا ہوا ہے۔
یک سنگھے کا ذکر محض وادیٔ سندھ تک محدود نہیں رہا بلکہ میسوپوٹیمیا (بین النہرین)، قدیم یونان، اور روم کی تہذیبوں میں بھی اس کے واضح نقوش ملتے ہیں۔
قدیم بین النہرین کی سیلوں اور فن پارے میں ایک سینگ والے سانڈ اور گھوڑے نما جانوروں کی شبیہیں ملتی ہیں۔ میسوپوٹیمیا میں یک سنگھا قدرت کی زرخیزی اور غیر متزلزل طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ قدیم یونانیوں نے یک سنگھے کو اساطیر کا حصہ نہیں بلکہ حیاتیاتی حقیقت سمجھا! مشہور یونانی معالج اور مؤرخ کٹیٹیاس نے 5ویں صدی قبل مسیح میں اپنی کتاب انڈیکا میں لکھا کہ برصغیر ہند میں ایسے تیز رفتار جنگلی گدھے پائے جاتے ہیں جن کی پیشانی پر ایک لمبا سینگ ہوتا ہے۔ بعد ازآں ارسطو، پلنی دی ایلڈر ، اور ایلین نے بھی یک سنگھے کے بارے میں تفصیلی تفاصیل تحریر کیں۔
قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے طب و حکمت میں یک سنگھے کے سینگ کو ’’الکورن‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ باور کیا جاتا تھا کہ اس سینگ میں زہر کو زائل کرنے، مہلک بیماریوں سے شفا دینے اور آبِ حیات جیسی خصوصیات موجود ہیں۔ بادشاہ اور نوابین زہر خورانی سے بچنے کے لیے الکورن سے بنے پیالوں میں مشروبات نوش کرتے تھے۔
قرونِ وسطیٰ اور نشاط ثانیہ کے دوران یورپ کے مذہبی آرٹ، کیتھولک کلیسائی ادب اور علامتی مصوری میں یک سنگھے نے انتہائی معزز مقام حاصل کر لیا۔ عیسائی دیومالا میں یک سنگھے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات اور ان کی پاکیزگی سے تشبیہ دی گئی۔

اسی طرح عیسائی روایت میں یک سنگھے کا تعلق بی بی مریم سلام علیہا کی طہارت اور عصمت سے جوڑا گیا۔ داستانوں کے مطابق، یک سنگھا اتنا سرکش اور طاقتور ہوتا ہے کہ کوئی شکاری اسے پکڑ نہیں سکتا، لیکن اگر ایک کنواری اور پاکدامن دوشیزہ جنگل میں جا کر بیٹھ جائے تو یک سنگھا اپنا سر اس کی گود میں رکھ کر پرسکون سو جاتا ہے۔ یہ تمثیل مقدس مریم علیہ السلام کے معصومانہ تقدس کو ظاہر کرتی تھی۔
ادب اور ٹیکسٹائل آرٹ کی تاریخ میں یک سنگھے کی سب سے مشہور تصویر کشی 15ویں صدی عیسوی کے اختتام پر تیار کردہ ’’دی یونیکورن ٹیپسٹریز‘‘ میں ملتی ہے۔
ٹیپسٹری دراصل کپڑے پر بنائی جانے والی مصوری یا ٹیکسٹائل آرٹ کی ایک نفیس ترین صنف ہے جو عمودی لوم پر ریشم، اون اور طلائی و نقرئی دھاگوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ فن پارے محلات اور کلیساؤں کی آرائش، حرارت کی دیکھ بھال اور داستان گوئی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
فرانس اور نیدرلینڈز میں 1495ء تا 1505ء کے درمیان تیار کردہ یہ سات ٹیپسٹریز یک سنگھے کے شکار کا ایک لرزہ خیز اور روحانی منظر پیش کرتی ہیں۔ ان میں جنگلات، نایاب نباتات، قلعے، شرفاء، شکاری کتے اور دیگر اساطیری مخلوقات جیسے کہ گرفن ، ڈریگن اور فونیکس بھی دکھائے گئے ہیں۔ یہ شاہ کار اس وقت نیویارک کے مشہور زمانہ دی کلوئسٹرز میوزیم میں محفوظ ہیں اور قرونِ وسطیٰ کے یورپی آرٹ کا حتمی عروج سمجھے جاتے ہیں۔
دنیا کی اکثر مشرقی ثقافتوں میں یک سنگھا خیر، برکت اور امن کی اعلیٰ ترین علامت ہے۔ چینی دیومالا میں یک سنگھے کو ’’قیلین‘‘ کہا جاتا ہے۔ قیلین کو چار مقدس ترین جانوروں (ڈریگن، فونیکس، کچھوا، اور قیلین) میں شمار کیا جاتا ہے۔
چینی روایات میں قیلین کا ظہور کسی عظیم حکم راں کی آمد، عادلانہ دورِ حکومت یا کسی عظیم دانشور (جیسے کنفیوشس) کی پیدائش کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ قیلین اتنا رحم دل جاندار ہوتا ہے کہ وہ گھاس کے ایک تنکے کو بھی نقصان نہیں پہنچاتا اور کسی کیڑے مکوڑے پر قدم نہیں رکھتا۔
جب ہم وادیٔ سندھ سے آگے بڑھ کر برصغیر کے کلاسیکی ادب اور ہندوستانی اساطیر کا مطالعہ کرتے ہیں تو یک سنگھے سے ملتی جلتی متعدد مخلوقات سامنے آتی ہیں۔
ان میں سب سے نمایاں مخلوق ’’شربھ‘‘ ہے۔ سنسکرت متون اور پرانوں میں شربھ کو ایک شان دار اور مافوق الفطرت مخلوق کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو شیر، ہرن اور گھوڑے کا امتزاج ہے، اور اس کے سر پر ایک تیز اور خمیدہ سینگ ابھرا ہوتا ہے۔ شربھ کا تعلق بھگوان شِو کے ایک روپ سے بتایا جاتا ہے جو کہ نرسمہا (نصف انسان، نصف شیر) کے غضب کو شانت کرنے کے لیے ظہور پذیر ہوا تھا۔
شربھ کے علاوہ قدیم ویدک متون میں ’’ایک شرنگا‘‘ کا ذکر ملتا ہے، جو سنسکرت میں ’’ایک سینگ والا‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ مہابھارت اور وشنو پران میں بھگوان وشنو کے ’’متیسہ اوتار‘‘ (مچھلی کا روپ) کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جس کے سِر پر ایک ہی سینگ تھا جس سے نوح علیہ السلام کی کشتی کو باندھا گیا تھا۔
ہندوستانی فن اور شادی بیاہ کی روایات میں شربھ اور اکل سنگھے کی تصاویر کو خیروبرکت، دولہا اور دلہن کی سلامتی، اور زوجین کے مقدس اتحاد کے استعارے کے طور پر منڈپ اور کپڑوں پر نقش کیا جاتا تھا۔
اگرچہ یک سنگھے کے وجود کے بارے میں کوئی براہ راست جدید سائنسی ثبوت موجود نہیں، لیکن نامنامیاتی حیاتیات اور قدیم حیوانیات کے سائنسدانوں نے اس کی اصل کے بارے میں چند نہایت منطقی نظریات پیش کیے ہیں:
الف: ناروال اور بحری ممالیہ
شمالی قطبی سمندر میں پائی جانے والی ایک قسم کی وھیل ’’ناروال‘‘ کی پیشانی سے ایک لمبا چکردار دانت (ٹسک) نکلتا ہے جو بالکل یک سنگھے کے سینگ سے مشابہ ہوتا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں وائکنگز تاجر ان دانتوں کو یک سنگھے کا سینگ کہہ کر یورپ کے شاہی درباروں میں بے پناہ قیمت پر فروخت کرتے تھے۔
ب: ایلسموتھیریم_ پراگندہ دور کا گینڈا
قدیم حیوانیات کی تحقیق کے مطابق، ایک ناپید ہو جانے والا گینڈا جسے ایلاسموتھیریم کہا جاتا ہے، قبل از تاریخ یوریشیا کے میدانوں میں چرتا تھا۔ اس کی پیشانی پر ایک انتہائی وسیع اور لمبا سینگ موجود تھا۔ انسانوں کے آبا و اجداد کی اس جانور سے ملاقات نے یک سنگھے کی کہانیوں کو جنم دیا ہو گا۔
جدید دور میں یک سنگھا محض داستانوں کا حصہ نہیں رہا بلکہ مختلف سائنسی جریدوں میں اس پر گہرے مقالے شائع ہوئے ہیں:
الف: نیچر جرنل 2019۰: 2019ء میں جریدے میں مطبوعہ ایک تحقیقی مقالے کے مطابق، حیوانی ماہرین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یک سنگھے کا تصور قدیم انسانوں کے ذریعے قدرتی مظاہر اور نایاب حیاتیاتی میوٹیشنز کی تشریح کا نتیجہ تھا۔
ب: نفسیاتی کشش (Imagination, Cognition and Personality 2016): نفسیاتی ماہرین نے مطالعہ کیا کہ انسان یک سنگھے کی طرف کیوں مائل ہوتا ہے۔ 2016ء کی تحقیق سے پتا چلا کہ وہ افراد جو تخیلاتی تجربات اور فنتاسی میں دل چسپی رکھتے ہیں، ان کے اندر یک سنگھا امید اور اعلیٰ اخلاقی آئیڈیلز کو بیدار کرتا ہے۔
ج: عمرانیاتی اور صنفی تجزیہ ( 2018 Sociological Inquiry ): 2018 میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یک سنگھے کو نسوانیت، عدم مطابقت اور معاشرتی آزادی کی علامتی تحریک کے طور پر دیکھا گیا۔
د: ثقافتی و میڈیا مطالعات (2017 International Journal of Cultural Studies ): بچوں کے میڈیا اور پاپ کلچر میں یک سنگھے کی موجودگی پر کی گئی اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معصومیت اور آدرش پسندی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
تجارت اور برانڈنگ کی دنیا میں ’’یونیکورن‘‘ کا لفظ ان نوخیز کاروباری اداروں (اسٹارٹ اپس) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن کی مالیت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے۔(2019) Journal of Marketing Management کے مطابق یک سنگھا نایاب اشیاء ، لگڑری برانڈز اور منفرد سفری تجربات کا استعارہ ہے۔
دوسری جانب کرپٹو زولوجسٹ جو کہ نامعلوم اور پراسرار مخلوقات کا مطالعہ کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ یک سنگھا ماضی کا کوئی واقعی حقیقی جانور ہو سکتا ہے جو انسان کے ہاتھوں یا آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث معدوم ہو گیا، اور محض اس کا تصور ہمارے اجتماعی لاشعور میں باقی رہ گیا۔
موہن جو دڑو کی 4500 سال قدیم مہر سے لے کر نیویارک کے میوزیم میں سجی یونیکورن ٹیپسٹریز تک، اور قدیم سنسکرت متون سے لے کر جدید دور کی برانڈنگ تک یک سنگھا انسان کی معنوی تلاش کا ایک لاثانی سفر ہے۔ یہ مخلوق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کا تخیل محض مادیت تک محدود نہیں بلکہ وہ ہمیشہ سے خوبصورتی، پاکیزگی اور سحر انگیز امکانات کا متلاشی رہا ہے۔ موہن جو دڑو کا یک سنگھا سندھ کی قدیم تہذیب کے علمی و فنی عروج کا روشن ثبوت ہے۔
ماخذات:
٭ وکیپیڈیا ہندی، انگریزی
٭ انسائکلوپیڈیا آف برٹانیکا