سوئٹزرلینڈ میں ماہرین نے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلنے سے روکنے کے لیے ایک منفرد تجربہ شروع کیا ہے، جس میں پلاسٹک کی مصنوعی چادروں کے بجائے بھیڑ کی اون سے تیار کردہ کمبل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ماحولیاتی گروپ سمِٹ فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف لوزان کے زیرِ قیادت ’کِیپ اِٹ کوُل‘ منصوبے کے تحت مغربی سوئٹزرلینڈ کے سان فلورون گلیشیئر پر جون میں اون سے بنے دو خصوصی کمبل بچھائے گئے۔ تقریباً 200 مربع میٹر رقبے پر پھیلائے گئے ان کمبلوں کی کارکردگی کا روایتی مصنوعی جیو ٹیکسٹائل کورز کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی نتائج نے محققین کو حیران کر دیا ہے۔ منصوبے کے منتظم تیموتھی اسٹینر کے مطابق ہر دو ہفتے بعد کی جانے والی پیمائش سے معلوم ہوا کہ اون کے کمبل گلیشیئر کے پگھلاؤ کو مصنوعی چادروں کی طرح مؤثر انداز میں محدود کر رہے ہیں۔
اس تجربے کا ایک مقصد سوئٹزرلینڈ میں ضائع ہونے والی بھیڑ کی اون کو مفید بنانا بھی ہے۔ اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال پیدا ہونے والی بھیڑ کی اون کا 40 سے 70 فی صد حصہ ضائع کر دیا جاتا ہے۔
تجربے میں شریک طلبا اور اون کے کمبل تیار کرنے والی سوئس کمپنی فِسولان کے ماہرین بھی نتائج سے خوش ہیں۔
کمپنی کے نمائندے نِکلاس سیگرسر نے کہا کہ انہیں ابتدا میں خدشہ تھا کہ اون اتنی مضبوط اور مستحکم نہیں ہوگی، تاہم اس کی پائیداری توقعات سے بہتر ثابت ہوئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ضرور ہے لیکن اون کے کمبل موسمیاتی تبدیلی کا مستقل حل نہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں صرف تقریباً 0.02 فی صد گلیشیئر رقبہ حفاظتی چادروں سے ڈھکا جاتا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے طویل مدتی تحفظ کا واحد مؤثر راستہ گرین ہاؤس گیسوں، خصوصاً فوسل فیولز سے پیدا ہونے والے اخراج میں نمایاں کمی ہے۔