پاکستان میں معاشی صورتحال کے حوالے سے عوامی اعتماد میں مزیدکمی سامنے آئی ہے۔ تازہ آزاد آئی پی ایس او ایس سروے کے مطابق صرف 14 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت مضبوط ہے، یعنی تقریباً ہر سات میں سے صرف ایک شخص معیشت کی مضبوطی پر یقین رکھتا ہے۔ چار ماہ قبل یہ شرح 20 فیصد تھی۔
سروے کے مطابق گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں معیشت کی مضبوطی کے تاثر میں 6 فیصدکمی ہوئی ہے، جسے امریکی ایران تنازع کے اثرات اور دوبارہ بڑھتے ہوئے معاشی خدشات سے جوڑاگیاہے۔ مردوں، بالغ افراد، بالائی طبقے اور پنجاب و سندھ کے رہائشیوں میں معاشی صورتحال کے حوالے سے نسبتاً زیادہ مثبت رائے پائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ہر چار میں سے ایک پاکستانی کو توقع ہے کہ ملکی معیشت مستقبل میں مضبوط ہوگی۔ شہری علاقوں، خوشحال طبقے اور بلوچستان میں مستقبل کے حوالے سے امید نسبتاً زیادہ ہے۔عوام کے بڑے خدشات میں مہنگائی میں اضافہ سرفہرست ہے، جس کے بعد بے روزگاری، غربت اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اب پانچویں بڑے عوامی مسئلے کے طور پر سامنے آئی ہے اور اضافی ٹیکسوں کے بوجھ سے بھی بڑا خدشہ بن گئی ہے۔
آئی پی ایس او ایس کے مطابق مہنگائی کے حوالے سے تشویش میں 9 فیصد کمی آئی، تاہم یہ اب بھی 69 فیصد پاکستانیوں کیلیے سب سے بڑامسئلہ ہے، بے روزگاری سے متعلق تشویش میں 68 فیصد کمی ہوئی، جبکہ غربت کے بارے میں خدشات میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔ بجلی کی قیمتوں پر تشویش 9 فیصد بڑھ کر 35 فیصد ہوگئی،جبکہ اضافی ٹیکسوں کے بارے میں تشویش میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، زیادہ ٹیکسوں اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے بھی عوامی معاشی احساسات کو متاثر کیا ہے۔ ٹولا ایسوسی ایٹس کے مطابق کمزورمقامی کرنسی کے باوجود جنوبی ایشیاکے خطے میں پاکستان میں پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں ڈالرکے لحاظ سے بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
ایک اور آئی پی ایس او ایس سروے کے مطابق صرف تین میں سے ایک پاکستانی سمجھتا ہے کہ حکومت نے ملک میں ایندھن کی دستیابی مؤثر انداز میں یقینی بنائی ہے، جبکہ تقریباً تین میں سے ایک اس کے برعکس رائے رکھتاہے۔ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے بھی عوامی رائے منقسم ہے، ہر پانچ میں سے دو پاکستانی سمجھتے ہیں کہ حکومت نے ایندھن کی قیمتوں کامؤثر انداز میں انتظام نہیں کیا، جبکہ تین میں سے اسے مؤثرقراردیتاہے،معاملے پر مختلف صوبوں اور سماجی طبقات میں رائے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
معاشی صورتحال پر مجموعی اعتمادمیں کمی کے ساتھ صرف 15 فیصد پاکستانی سرمایہ کاری کیلیے پُراعتماد ہیں۔ خواتین، شہری علاقوں، سندھ اور پنجاب کے رہائشیوں، خوشحال طبقے اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری کااعتماد نسبتاً زیادہ ہے۔اسی طرح صرف 16 فیصد پاکستانی اپنے روزگارکے تحفظ کے حوالے سے پُراعتمادہیں۔ خواتین، شہری آبادی، پنجاب، نچلے متوسط طبقے اور نوجوانوں میں ملازمت کے تحفظ کااحساس نسبتاً زیادہ پایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ملازمت کے تحفظ پر اعتماد اگست 2024 کی سطح، یعنی 16 فیصد، پر واپس آگیا ہے۔سروے کے مطابق صرف چار میں سے ایک پاکستانی سمجھتا ہے کہ ملک درست سمت میں جارہاہے۔
آئی پی ایس او ایس پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبد الستار نے کہاکہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی کی مجموعی تصویر مکمل اعتمادکے بجائے محتاط بحالی کی ہے، معاشی دباؤ اب بھی پاکستانیوں کی سب سے بڑی تشویش ہے، تاہم ذاتی سطح پر جذبات میں بتدریج بہتری،مستقبل کے بارے میں نسبتاً بہتر توقعات اورگھریلو اخراجات میں کچھ زیادہ اطمینان نظر آرہاہے،سرمایہ کاری، بڑی خریداریوں اورروزگارکے تحفظ پرکم اعتمادظاہرکرتاہے کہ پاکستانی ابھی اس امید کو مضبوط مالی فیصلوں میں تبدیل کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں۔