وزن کم کرنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جی ایل پی-1 ادویات (جن میں ویگووی اور اوزیمپک شامل ہیں) ایک بار پھر تحقیق کا موضوع بن گئی ہیں۔ نئی تحقیق میں ان ادویات کے استعمال اور مردوں میں جینیاتی طور پر بال جھڑنے کے خطرے کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔
جرنل آف انویسٹیگیٹیو ڈرماٹولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں نیویارک یونیورسٹی گروسمین اسکول آف میڈیسن کے سائنس دانوں نے جی ایل پی-1 ادویات اور بالوں کے جھڑنے کے ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا۔
ماضی میں بعض مریضوں نے جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال کے دوران بال جھڑنے کی شکایت کی تھی۔ تاہم، اس حوالے سے مضبوط سائنسی شواہد محدود تھے۔
نئی تحقیق میں ماہرین نے جینیاتی تجزیے کی ایک تکنیک استعمال کی تاکہ ادویات کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
نتائج کے مطابق ایسے مرد جن میں بال جھڑنے کا جینیاتی رجحان پہلے سے موجود تھا ان میں جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال کا بال جھڑنے کے تقریباً 7 فی صد اضافی خطرے سے تعلق پایا گیا۔
تحقیق کی سینئر محقق اور جامعہ سے تعلق رکھنے والی جینیات کی ماہر لِن پیٹوخوفا کے مطابق یہ مطالعہ جی ایل پی-1 ادویات اور بال جھڑنے کے درمیان پہلا جینیاتی تعلق پیش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نتائج ایک ممکنہ تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ البتہ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جی ایل پی-1 ادویات ہر شخص میں بال جھڑنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس تعلق کو سمجھنے اور اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔