مائیکرو پلاسٹکس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے ممکنہ تعلق کا انکشاف

تحقیق بارسلونا میں ہونے والی یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی (ای آر ایس) کانگریس میں پیش کی گئی


ویب ڈیسک September 07, 2026

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں مائیکرو پلاسٹکس موجود ہونے اور نسبتاً زیادہ مقدار میں ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق نتائج اس بات کے مزید شواہد فراہم کرتے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹکس سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مائیکرو پلاسٹکس پھیپھڑوں کے کینسر یا کسی دوسری بیماری کا براہِ راست سبب بنتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی کالج ڈبلن اسکول آف میڈیسن، آئرلینڈ، اور یونیورسٹی آف تھیسالی، یونان سے وابستہ ڈاکٹر ایلیاس ڈیمیاس نے پیش کی۔

ڈاکٹر ایلیاس ڈیمیاس کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس اب ماحول کا ایک عام حصہ بن چکے ہیں لیکن انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد ان ذرات کے اثرات کے بارے میں اب بھی بہت کم معلومات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پھیپھڑوں میں مائیکرو پلاسٹکس کی معمول کی سطح کیا ہے، مختلف افراد میں اس کی مقدار کس حد تک مختلف ہوتی ہے اور آیا ان ذرات کا بیماریوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ روزمرہ کی زندگی میں سانس کے ذریعے ان ذرات کے جسم میں داخل ہونے کے امکانات کے پیش نظر مزید تحقیق ضروری ہے تاکہ مائیکرو پلاسٹکس کے طویل مدتی اثرات اور ممکنہ صحت کے خطرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ نتائج کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مائیکرو پلاسٹکس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان براہِ راست وجہ اور اثر کا تعلق ثابت کرنے کے لیے مزید اور وسیع پیمانے پر تحقیق درکار ہوگی۔

تحقیق بارسلونا میں ہونے والی یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی (ای آر ایس) کانگریس میں پیش کی گئی۔