ڈارک میٹر کی تلاش، سائنس دانوں کو پراسرار ذرے کا اشارہ مل گیا

یہ غیر معمولی واقعہ جنوبی ڈکوٹا میں قائم سینفورڈ انڈرگراؤنڈ ریسرچ فیسلٹی میں تجربے کے دوران ریکارڈ کیا گیا


ویب ڈیسک September 06, 2026
(تصویر: رائٹرز)

ڈارک میٹر کی حقیقت جاننے کی کوشش میں سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی ذراتی تعامل (انٹریکشن) ریکارڈ کیا ہے، جسے اس پراسرار اور نظر نہ آنے والے مادے کی نوعیت کے بارے میں اب تک کے مضبوط ترین اشاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، محققین نے واضح کیا ہے کہ اسے ابھی دریافت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ غیر معمولی واقعہ جنوبی ڈکوٹا میں قائم سینفورڈ انڈرگراؤنڈ ریسرچ فیسلٹی میں تقریباً ایک میل کی گہرائی میں ہونے والے لَکس-زیپلِن (ایل زیڈ) تجربے کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔

ایل زیڈ تجربے میں تقریباً 10 ٹن انتہائی خالص مائع زینون استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وِیکلی انٹریکٹنگ میسو پارٹیکلز (WIMPs) نامی ذرات کی تلاش کی جا سکے، جو ڈارک میٹر کے اہم نظریاتی امیدواروں میں شامل ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو ایک ایسا ذراتی تعامل ملا جس کی معروف پسِ منظر کے عمل سے وضاحت کرنا تاحال مشکل ثابت ہوا ہے۔ تجزیے میں اس سگنل کی عالمی شماریاتی اہمیت 2.6 سگما نکلی، جس میں ’’look-elsewhere effect‘‘ کو بھی مدِنظر رکھا گیا۔ یہ سطح کسی سائنسی دریافت کا اعلان کرنے کے لیے درکار معیار سے کافی کم ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق کائنات کے کل مادے کا تقریباً 85 فی صد ڈارک میٹر پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔ اسے براہِ راست دیکھا نہیں جا سکتا۔ تاہم، کہکشاؤں اور کائناتی ڈھانچوں پر اس کے کششِ ثقل کے اثرات سے اس کی موجودگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

ایل زیڈ ٹیم مزید ڈیٹا جمع کرتی رہے گی۔ اگر آنے والے مشاہدات میں یہی سگنل مزید مضبوط ہوتا ہے تو یہ ڈارک میٹر کی تلاش میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ سگنل غائب ہونے کی صورت میں یہ کسی نامعلوم پسِ منظر کے عمل کا نتیجہ بھی نکل سکتا ہے۔