کبھی ڈاکیا سائیکل کی گھنٹی بجاتا گلی میں داخل ہوتا، تو کبھی اخبار والا دروازے پر دستک دیتا، کیونکہ اُس دن مہینے کا وہ رسالہ آنے والا تھا جس کا انتظار پورا مہینہ رہتا تھا۔
آج کی نسل کے پاس انگلی کے ایک اشارے پر ہزاروں ویڈیوز، گیمز اور ریلز موجود ہیں، مگر اُس ایک رسالے کے آنے پر جو خوشی، جو بےتابی اور جو چاشنی ہوتی تھی، وہ شاید ہی کسی اسکرین سے مل سکے۔ آئیے، اُس دور میں تھوڑا سا واپس چلتے ہیں۔
بچپن کی دنیا، وہ رسالے جنہوں نے زبان اور تخیل دونوں سکھائے
1۔ تعلیم و تربیت
اردو دنیا کے بچوں کے رسالوں میں سب سے پرانا اور سب سے بزرگ نام ’تعلیم و تربیت‘کا ہے۔ اسے فیروز سنز لاہور نے اپریل 1941 میں شروع کیا تھا، یعنی یہ رسالہ خود پاکستان کے قیام سے بھی سات سال پرانا ہے، اور حیرت انگیز طور پر آج تک شائع ہورہا ہے۔ اس کی مدت العمر ہی اس بات کی گواہ ہے کہ اسے ’پاکستان کا قدیم ترین بچوں کا رسالہ‘ کہا جاتا ہے۔
اس کے مدیر سعید لخت اپنے دور میں اتنے مقبول تھے کہ 1961 میں انہیں اردو لکھنے والوں میں بچوں کا سب سے پسندیدہ مصنف قرار دیا گیا۔ رسالے میں نعت، صوفیانہ حکمت سے بھری کہانیاں، معمے، دس منٹ کے مختصر ڈرامے، تصویری گیلری اور پاکستان کی تاریخ سے متعلق مضامین شامل ہوتے تھے ، یہ ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک نسل کی اخلاقی و لسانی تربیت گاہ تھا۔
2۔ نونہال
دوسرا بڑا اور شاید سب سے زیادہ محبوب نام ’نونہال‘ کا ہے، جسے حکیم محمد سعید نے 1953 میں ہمدرد لیبارٹریز کے پلیٹ فارم سے شروع کیا تھا۔ نونہال کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے مدیر تھے۔ مسعود احمد برکاتی، جنھوں نے اس رسالے کی باگ ڈور سنبھالی اور مسلسل 65 برس تک، بغیر کسی وقفے کے اسے چلاتے رہے، یہاں تک کہ دسمبر 2017 میں 87 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ سوچیے، ایک ہی شخص نے ایک ہی رسالے کی مدیری میں نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزارا، یہ خود ایک ریکارڈ ہے۔
نونہال کا صفحہ’نونہال لغت‘ آج بھی پرانے قارئین کو یاد ہے، جس میں مشکل الفاظ کے آسان مطالب دیے جاتے تھے اور جس نے لاکھوں بچوں کو درست اور خوبصورت اردو لکھنا سکھایا۔ آج کے دور میں اس طرح کے رسالوں کی اس لیے بھی اہمیت بڑھ گئی ہے کہ اس سوشل میڈیائی دور میں سب کچھ ہے، لیکن زبان اور تہذیب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اخلاقی کہانیاں، پراسرار قصے، کارٹون اور معلوماتی ٹکڑے اسے ہر عمر کے بچے کے لیے دلچسپ بناتے تھے۔ برکاتی صاحب کے بعد آج بھی رسالہ انہی کی یاد میں ان کی تحریریں شائع کر کے ان کی روایت زندہ رکھے ہوئے ہے۔
3۔ بچوں کا باغ اور بچوں کی دنیا
’بچوں کا باغ‘اور’بچوں کی دنیا‘بھی اُس دور کے گھروں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ ان رسالوں میں رنگین تصویروں، مختصر کہانیوں، نظموں اور معموں کی بھرمار ہوتی تھی جو چھوٹے بچوں کو گھنٹوں مصروف رکھتی تھی۔ یہ رسالے عمر کے اس نازک حصے کے لیے تھے جب بچہ ابھی پڑھنا سیکھ ہی رہا ہوتا ہے ،اور یہی وہ عمر ہے جب کتاب سے محبت جڑ پکڑتی ہے یا نہیں پکڑتی۔ آج کے بچے کو موبائل پر رنگین کارٹون تو مل جاتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ کبھی ایک پرچہ ہاتھ میں پکڑ کر، اس کی خوشبو سونگھ کر، صفحہ در صفحہ پڑھنے میں کیا سرور تھا۔
لڑکپن کی دہلیز، ڈائجسٹوں کی رنگین اور پراسرار دنیا
جیسے جیسے یہی بچے تھوڑے بڑے ہوئے، ان کے ہاتھ میں پتلے رسالوں کی جگہ موٹے موٹے ڈائجسٹ آ گئے۔ ایسے ڈائجسٹ، جنہیں دوستوں کے ساتھ باری باری پڑھا جاتا تھا، اور جن کے اگلے شمارے کا انتظار کیلنڈر پر نشان لگا کر کیا جاتا تھا۔
1۔ اردو ڈائجسٹ
1959 میں لاہور سے ’اردو ڈائجسٹ‘ شائع ہوا۔ پاکستان کا پہلا ڈائجسٹ، جسے الطاف حسن قریشی اور اعجاز حسن قریشی نے امریکی ’ریڈرز ڈائجسٹ‘ کے انداز پر ترتیب دیا۔ اس میں دنیا بھر کے ادب، تاریخ، سائنس، صحت اور کامیاب لوگوں کے تجربات کے تراجم اور مضامین شائع ہوتے تھے۔ اردو ڈائجسٹ کی کامیابی نے پورے ملک میں ڈائجسٹ کلچر کی بنیاد رکھ دی، اور اسی سے متاثر ہوکر بعد میں درجنوں دیگر ڈائجسٹ وجود میں آئے۔
2۔ سب رنگ ڈائجسٹ
1970 میں شکیل عادل زادہ نے ’سب رنگ ڈائجسٹ‘شروع کیا۔ شکیل صاحب نے یہ عزم کیا تھا کہ اگر یہ ڈائجسٹ ناکام ہوا تو وہ زندگی بھر شادی نہیں کریں گے۔ خوش قسمتی سے پہلا ہی شمارہ اتنا مقبول ہوا کہ اشاعت دیکھتے ہی دیکھتے ڈیڑھ لاکھ تک جا پہنچی۔ اسی ڈائجسٹ میں 1975 سے شکیل عادل زادہ کا اپنا لکھا ناول ’بازیگر‘قسط وار شائع ہونا شروع ہوا۔ نوجوان بابر زمان خان کی ایک پراسرار اور خطرات سے بھری کہانی، جس نے قارئین کو برسوں اپنی گرفت میں رکھا۔
3۔ سسپنس، جاسوسی اور سرگزشت
کراچی میں معراج رسول نے 1971 میں ’جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکیشنز‘ کی بنیاد رکھی، جس کے تحت تین بڑے نام سامنے آئے: (1) سسپنس ڈائجسٹ، جس کا پہلا شمارہ جنوری 1972 میں شائع ہوا، اور جو سماجی، رومانوی اور تاریخی موضوعات پر مبنی کہانیوں کی وجہ سے پاکستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والا اردو ڈائجسٹ بن گیا۔ (2) جاسوسی ڈائجسٹ، جس میں سرورق کی تین کہانیوں کا سلسلہ سب سے مقبول تھا۔ ایک ہی جلد میں تین مختلف رنگ، تین مختلف موڈ، تین مختلف دنیائیں۔ قاری ایک کہانی ختم کرتا تو دوسری اسے فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی۔ (3) سرگزشت جس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں افسانوی رنگ اور حقیقی سوانح کا ایسا امتزاج پیش کیا جاتا تھا کہ قاری کو فرق کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ مشہور و عام دونوں طرح کے لوگوں کی کہانیاں اس خوبصورتی سے بیان ہوتیں کہ وہ سچی داستان کم اور دلچسپ ناول زیادہ لگتیں۔
آج کی جین زی نسل، جو ایک ہی وقت میں تین اسکرینیں دیکھ لیتی ہے، شاید اس بات کا اندازہ ہی نہ لگا سکے کہ ایک ہی جلد میں تین کہانیوں کا یہ سفر کتنا سکون اور کتنی رغبت دیتا تھا۔
اردو ناول اور کہانیوں کے عظیم لکھاری
محی الدین نواب
اور پھر آتا ہے وہ نام جو اردو ڈائجسٹ ادب کی تاریخ میں سب سے نمایاں ہے، محی الدین نواب کا لازوال ناول ’دیوتا‘۔ یہ سلسلہ فروری 1977 میں سسپنس ڈائجسٹ میں شروع ہوا اور مسلسل 33 برس تک، جنوری 2010 تک، ہر ماہ بلاناغہ قسط وار شائع ہوتا رہا۔ 396 اقساط، 56 جلدیں اور ایک کروڑ سے زائد الفاظ، جو اسے دنیا کا سب سے طویل مسلسل شائع ہونے والا افسانوی سلسلہ بناتے ہیں۔
کہانی کا آغاز ایسے ہوتا ہے: فرہاد علی تیمور نامی ایک نوجوان کے والدین بچپن ہی میں انتقال کرجاتے ہیں، اور اس کے رشتہ دار اس کی جائیداد پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اپنا حق واپس لینے کے لیے فرہاد ٹیلی پیتھی یعنی ذہنوں کو پڑھنے اور قابو کرنے کا علم سیکھنا شروع کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اس علم میں اتنی مہارت حاصل کر لیتا ہے کہ دوستوں کے لیے سہارا اور دشمنوں کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ کہانی میں فرہاد کا مقابلہ ایک خفیہ عالمی تنظیم ’سپر ماسٹر‘ اور مختلف زیرِ زمین مافیاؤں سے ہوتا رہتا ہے، اور یہ معرکہ براعظموں، جزیروں اور حکومتی ایوانوں تک پھیل جاتا ہے۔ فرہاد کو ایک محب وطن پاکستانی کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو دنیا بھر میں گھومتا ہے مگر جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔
محی الدین نواب نے یہ کردار اپنے پڑوسی، معروف شاعر و دانشور رئیس امروہوی، کی تصوف و ٹیلی پیتھی پر لکھی کتابوں سے متاثر ہو کر تخلیق کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محی الدین نواب نے دیوتا لکھنے سے پہلے، تقریباً 1970 میں، خود ابنِ صفی کی مشہورِ زمانہ’عمران سیریز‘پر بھی دو ناول لکھے تھے۔ یعنی اردو جاسوسی ادب کے دو سب سے بڑے سلسلوں (عمران سیریز اور دیوتا) کا آپس میں یہ باریک سا تعلق بھی موجود ہے۔ دیوتا اتنا مقبول ہوا کہ اس کی وجہ سے سسپنس ڈائجسٹ کی فروخت اپنے تمام حریف ڈائجسٹوں سے کہیں آگے نکل گئی، اور محی الدین نواب اپنے دور کے مصروف ترین رائٹر بن گئے۔
ذرا سوچیے، ایک کردار، ایک ہی قلم سے، تینتیس برس تک، ہر مہینے زندہ رہا۔ آج کی نسل جو کسی ویب سیریز کا ایک سیزن ہی مشکل سے مکمل دیکھ پاتی ہے، وہ اس تسلسل، اس صبر اور اس محبت کا تصور بھی نہیں کر سکتی جو دیوتا کے قارئین اور خود اس کے خالق نے تین دہائیوں تک نبھائی۔
ایم اے راحت
ایم اے راحت، اصل نام مرغوب علی راحت، اردو ڈائجسٹ ادب کے ان نایاب لکھاریوں میں سے تھے جنہوں نے ہزاروں ناول اور سیکڑوں کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے 1963 میں ابنِ صفی کی تخلیق کردہ عمران سیریز اور جاسوسی دنیا (فریدی و حمید سیریز) سے لکھنا شروع کیا، اور تحقیق کے مطابق وہ اُن تمام مصنفین میں سب سے زیادہ عمران سیریز کے ناول لکھنے والے قلم کار تھے۔ وہ نجمہ صفی، نغمہ صفی، نجم صافی اور ’ن صفی‘جیسے متعدد قلمی ناموں سے بھی لکھتے رہے۔
ان کا پہلا بڑا بریک سب رنگ ڈائجسٹ اور جاسوسی ڈائجسٹ سے ہوا، جہاں ان کی تحریروں نے لاکھوں قارئین کو گرویدہ بنا لیا۔ ان کی خاص پہچان ان کے سنسنی خیز اور جادوئی انداز میں لکھے گئے ناول تھے، جن میں :’بلڈی میری‘،’کالا جادو‘،’نمرود کا شہر‘،’ جناتی دنیا‘،’خوفناک‘اور’طالوت‘جیسے نام شامل ہیں۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ قاری کو ایسی خیالی اور حقیقی دنیا کے درمیان لا کھڑا کرتے تھے کہ پڑھنے والا گھنٹوں کتاب چھوڑنا بھول جاتا۔
اسلم راہی ایم اے
انہی برسوں میں اسلم راہی ایم اے کا ناول ’ابلیکا‘بھی قارئین کے حلقے میں بےحد مقبول ہوا۔ یہ ناول طاغوتی قوتوں اور نیکی کے ایک عظیم نمائندے کے درمیان ولولہ انگیز کشمکش، اور حق و باطل کی ازلی جنگ کی انوکھی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس دنیا میں دو بڑی باہم متصادم خفیہ تنظیمیں سامنے آتی ہیں ’یوناف‘اور’بیوسا‘جن کے درمیان طاقت، سازش اور نظریے کی جنگ پوری کہانی کو آگے بڑھاتی ہے۔ اسلم راہی کا یہ ناول اتنا مقبول ہوا کہ قارئین اس کے اگلے حصے کے لیے بےتاب رہتے، بالکل ویسے ہی جیسے دیوتا کے قارئین سپر ماسٹر کے اگلے وار کا انتظار کرتے تھے۔
ابنِ صفی
اور اب بات کرتے ہیں اس بنیاد کی جس پر بعد کے تمام جاسوسی و ماورائی ادب کی عمارت کھڑی ہوئی ’ابنِ صفی‘اصل نام اسرار احمد۔۔ انہوں نے 1955 میں عمران سیریز کا پہلا ناول شائع کیا، اور ساتھ ہی جاسوسی دنیا یعنی ’فریدی و حمید سیریز‘بھی تخلیق کی۔ عمران سیریز کا مرکزی کردار علی عمران ایک بظاہر کھلنڈرا اور شریر نوجوان ہے، جس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی، مگر درپردہ وہ ایک خفیہ ایجنسی کا سربراہ اور ملک کا سب سے قابل جاسوس ہے۔ جاسوسی دنیا میں کرنل فریدی اور کیپٹن حمید کا جوڑا اسی طرح مقبول ہوا جیسے بعد میں دنیا میں شرلاک ہومز اور واٹسن کا جوڑا مشہور ہوا۔
ابنِ صفی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے کرداروں پر بعد میں تقریباً ڈھائی سو مصنفین نے (بغیر اجازت) لکھنے کی کوشش کی مگر تحقیق کے مطابق ابنِ صفی جیسا کوئی بھی ان کے اپنے کرداروں پر نہیں لکھ سکا۔
مظہر کلیم ایم اے
انہی ڈھائی سو مصنفین میں سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ پڑھا جانے والا نام مظہر کلیم ایم اے کا تھا۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے مظہر کلیم پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے اور ناول نگاری کو جزوقتی مشغلے کے طور پر اپناتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مظہر کلیم نے عمران سیریز پر لکھنا اُس وقت شروع کیا جب ابنِ صفی خود حیات تھے اور اپنے کرداروں پر ناول لکھ رہے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ابنِ صفی کے کرداروں پر لکھا بلکہ اس میں مزید توسیع کی اور کئی نئے کردار بھی متعارف کروائے۔
اگرچہ کچھ ناقدین انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ انہوں نے دوسرے کے کردار پر لکھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایم اے راحت، صفدر شاہین اور ایچ اقبال جیسے کئی دوسرے مصنفین نے بھی عمران سیریز پر طبع آزمائی کی، مگر جو مقبولیت اور پذیرائی مظہر کلیم کو ملی، وہ کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ آج بھی عمران سیریز کا نام لیتے ہی بہت سے قارئین کے ذہن میں مظہر کلیم کا نام ابنِ صفی کے ساتھ ہی آتا ہے۔
آج کے نوجوان اور مصروفیات
اگر ہم آج کے نوجوان کا ایک عام دن دیکھیں تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے: آنکھ کھلتے ہی موبائل اسکرین، پھر انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی وہ لامتناہی ریلز جو پندرہ سے تیس سیکنڈ میں ختم ہو کر اگلی ریلز میں بدل جاتی ہیں۔ نتیجہ صرف اور صرف وقت کا ضیاع اور آنکھوں کا درد، حصول کچھ نہیں۔ اسکول یا کالج سے واپسی پر پب جی، فری فائر اور کال آف ڈیوٹی جیسے موبائل گیمز میں گھنٹوں گزر جاتے ہیں۔ رات کو نیٹ فلکس یا یوٹیوب پر کسی ویب سیریز کے کئی ایپی سوڈز ایک ساتھ ’بِنج واچ‘ کیے جاتے ہیں، اور اس دوران بھی دوسرا ہاتھ واٹس ایپ یا سنیپ چیٹ پر مصروف رہتا ہے۔ توجہ کا دورانیہ اتنا مختصر ہوچکا ہے کہ اگر کوئی ویڈیو تیس سیکنڈ میں دلچسپ نہ لگے تو انگوٹھا خودبخود اگلی ویڈیو کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
یہ نسل بے کار یا سست نہیں، بلکہ اس کے پاس مصروفیت کی کوئی کمی نہیں۔ کمی ہے تو صرف اس ایک تجربے کی جو تخیل کو خود کام پر لگاتا ہے۔ کسی کہانی کو صرف الفاظ سے پڑھ کر اپنے ذہن میں تصویر بنانا، کسی کردار کے ساتھ صفحہ در صفحہ سفر کرنا، اور اگلی قسط کے لیے پورا ایک مہینہ صبر سے انتظار کرنا۔ آج کی تفریح ’فوری‘ ہے، ایک کلک اور مکمل کہانی حاضر؛ جبکہ ہماری نسل کی تفریح ’تدریجی‘ تھی، جس میں کچھ سیکھنے کا عمل ہوتا، علم و آگاہی پیدا ہوتی تھی۔
اس ساری بحث کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ہم آج کی ٹیکنالوجی یا نوجوان نسل کو مورد الزام ٹھہرائیں۔ یاد رکھیے! وقت کے ساتھ ذرائع بدلتے ہیں، اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن ہمیں اصل ضرورت اس سوشل میڈیائی دور میں اپنے اخلاق کو سب سے بلند رکھنے کی ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں ہمیں اپنے کردار کو اپنے عمل سے محفوظ کرنا ہے۔ یہ ناولز، یہ کہانیاں ان سب میں کہیں نہ کہیں اخلاقیات کا عنصر، زبان کی خوب صورتی ضرور ہوتی تھی، لیکن آج نہ اخلاق اور نہ ہی ہماری زبان میں ادب ہے۔
ہمیں اس وقت اپنے گھروں اور اسکول کی سطح پر مطالعے کی عادت کو دوبارہ اپنانے کے لیے کام کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی والدین اور اساتذہ اگر خود مطالعے کی عادت اپنائیں گے تو بچوں میں تجسس خودبخود پیدا ہوگا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔