مہنگی اسکن کیئر کے بجائے شہد جلد کےلیے کتنا مفید ہے؟

شہد کو جلد کی نگہداشت کے لیے مفید قدرتی اجزا میں شمار کیا جاتا ہے


ویب ڈیسک September 08, 2026

چمکدار اور صحت مند جلد کے لیے مہنگی بیوٹی مصنوعات کا استعمال عام ہے، تاہم جلد کی دیکھ بھال میں گھریلو چیزوں کو بھی خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر سیلف کیئر کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد خواتین سمیت بہت سے افراد جلد کو بہتر رکھنے کے لیے مختلف قدرتی طریقے آزما رہے ہیں، جن میں شہد بھی شامل ہے۔

شہد کو جلد کی نگہداشت کے لیے مفید قدرتی اجزا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں گلوکوز اور فرکٹوز سمیت مختلف وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، جبکہ اس کی غذائی خصوصیات اور انزائمز کی وجہ سے اسے بعض اسکن کیئر روٹینز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

شہد کی اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی سوزش خصوصیات مہاسوں سے متاثرہ جلد کو سکون پہنچانے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جلد میں کولیجن کی پیداوار کو سپورٹ کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، جو جلد کی مضبوطی اور مجموعی ساخت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

شہد میں موجود بعض انزائمز جلد کو نسبتاً ہموار محسوس کرنے اور اس کی ظاہری چمک بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ہر شخص کی جلد مختلف ہوتی ہے، اس لیے چہرے پر براہ راست شہد لگانے سے پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر آزمانا بہتر ہے، خاص طور پر حساس جلد رکھنے والے افراد کو احتیاط کرنی چاہیے۔

شہد صرف جلد پر لگانے تک محدود نہیں بلکہ اسے خوراک کا حصہ بنانے سے بھی اس کے غذائی اجزا حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مناسب مقدار میں استعمال کیا جانے والا شہد وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے، جبکہ متوازن غذا مجموعی طور پر جلد کی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

روزمرہ خوراک میں شہد شامل کرنا بھی مشکل نہیں۔ ناشتے میں مکھن یا جام کے متبادل کے طور پر ٹوسٹ یا پین کیکس پر شہد استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اسموتھیز اور جوس میں بھی ذائقے اور قدرتی مٹھاس کے لیے شہد شامل کیا جاسکتا ہے۔

اگرچہ شہد کو جلد کے لیے مختلف فوائد سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اسے کسی طبی یا جلدی بیماری کے باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ مہاسوں یا جلد کے کسی مستقل مسئلے کی صورت میں ماہرِ جلد سے مشورہ زیادہ بہتر انتخاب ہے۔