کراچی:
سندھ اسمبلی میں پہلی بار مسیحی عائلی قوانین میں بڑی اصلاحات کی پیش رفت ہوئی ہے، رکن صوبائی اسمبلی و ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے "مسیحی خاندانی قوانین کا بل 2026" کا مسودہ سندھ اسمبلی میں جمع کرا دیا۔
ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید اس بل کے محرک اور انچارج رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی خاندانی قوانین کے بل 2026ء کی تیاری میں مذہبی قیادت سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔
مجوزہ بل میں مسیحی مرد و عورت دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ شادی کے لیے دونوں فریقین کی آزادانہ اور رضاکارانہ رضامندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
بل میں مسیحی شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے قانونی طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔ مسیحی خاندانی قوانین کے بل میں طلاق، عدالتی علیحدگی، نان نفقہ اور مالی معاونت سے متعلق قانونی طریقہ کار شامل ہے اس کے علاوہ مسیحی خاندانوں کی جائیداد کے تحفظ اور دوبارہ شادی سے متعلق قانونی شقیں بھی بل کا حصہ ہیں۔
بچوں کی تحویل، تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے بھی قانونی تحفظ تجویز کیا گیا ہے۔ بل میں زنا، ظلم و تشدد، دوسری شادی اور ترکِ تعلق کو شادی کے خاتمے کی قانونی بنیادیں بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ عائلی مقدمات 6 ماہ کے اندر نمٹانے کی ہدایت بھی مجوزہ قانون کا حصہ ہے۔
بل کے مقاصد کے بیان کے مطابق مسیحی خاندانی قوانین کا بل مساوات، وقار، قانونی عمل اور عدم امتیاز کے اصولوں پر مبنی ہے۔ بل کا اہم مقصد خواتین اور بچوں کو واضح قانونی تحفظ فراہم کرنا اور مسیحی مذہبی عقائد و روایات کے احترام کو یقینی بنانا قرار دیا گیا ہے۔
اگر بل منظور ہو گیا تو سندھ میں مسیحی شادی ایکٹ 1872 اور طلاق ایکٹ 1869 منسوخ ہو جائیں گے اور ان پرانے قوانین کی جگہ سندھ میں نیا جامع مسیحی عائلی قانونی نظام نافذ ہوگا۔