سندھ کے محکمہ آبپاشی میں اربوں روپے کا میگا کرپشن اسکینڈل منظر عام پر آگیا، سیکریٹری ظریف کھیڑو سمیت اعلی افسران نیب کے نشانے پر آگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نیب سکھر نے کرپشن، سرکاری فنڈز میں خرد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کے تحت محکمے کے اعلیٰ حکام اور بااثر شخصیات کے خلاف دو مختلف اور وسیع پیمانے پر تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کی سرکاری زمینوں کی بدعنوانی سے متعلق تحقیقات میں صوبے کے پانچ اضلاع میں پھیلی تقریباً 84,977.59 ایکڑ اراضی کا سراغ لگایا گیا ہے۔ نیب دستاویزات کے مطابق پانچ سو سے زائد دیہاتوں میں موجود اس اراضی کا ریکارڈ درست کرنے اور اسے محکمہ آبپاشی کے نام منتقل کرنے کے لیے ریونیو حکام کو ہنگامی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دادو ضلع میں 38,854.72 اراضی سجاول میں 22,958.64 جامشورو میں 12,519.78 شہید بینظیر آباد میں 6,620.63، ٹنڈو محمد خان میں 4,023.82 ایکڑ اراضی موجود ہے۔
نیب سکھر نے کمشنر حیدرآباد، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں کو فوری ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری اراضی کی میوٹیشن کا عمل مکمل کر کے تصدیق شدہ دستاویزات کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کو ارسال کریں۔
دستاویزات کے مطابق کوٹری بیراج ریجن حیدرآباد کے چیف انجینئر اور دیگر ذمہ داروں کو بھی اس پیشرفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب محکمے کے فنڈز میں اربوں روپے کے غبن کی تحقیقات میں سیکرٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، چیف انجینئر منصور میمن، سکھر بیراج بحالی پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر پریتم داس اور معروف ٹھیکیدار پپو چنا سمیت دیگر شخصیات شاملِ تفتیش ہیں۔
نیب کی جانب سےسال 2020 سے اب تک کے اخراجات، ٹیکنیکل سنکشنز، ورک آرڈرز، ریوائزڈ پی سی ون اور میجرمنٹ بکس کا جائزہ، بالخصوص لائننگ آف اڈیرو لال، ناری چھچھ لور، بینظیر بھٹو سوئیٹ واٹر اسکیم ایل بی اوڈی اور آر بی او ڈی جیسے منصوبوں اور ٹھیکیدار پپو چنا کو دیے گئے ٹینڈرز کی تفصیلات سیکریٹری آبپاشی سے طلب کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ سیکریٹری سروسز سے نیب کی جانب سے نامزد افسران کے سروس ریکارڈ، پوسٹنگز، مراعات، اور ان کے اوران کے اہل خانہ کے اثاثوں کے گوشوارے طلب کیے گئے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر سکھر بیراج سے بیراج کے گیٹ نمبر 44 سے 59 کی مرمت اور بحالی پر آنے والے تمام اخراجات، ٹینڈر فائلز اور ایم بیز کی تفصیلات طلب کیے گئے ہیں۔