سندھ گرین ریسٹورنٹ کے مالک کے بیٹے کا جامعہ کراچی کے سنیئر پروفیسر پر شدید تشدد، لہولہان کردیا

صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین عارف ساقی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا


اسٹاف رپورٹر September 08, 2026

کراچی کے علاقے تھانہ سچل  کی حدود میں صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئر مین عارف ساقی کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سچل تھانے کے علاقے صفوراچورنگی کے قریب معمولی تنازع پر جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹرپروفیسرعارف خان ساقی کو بااثر افراد کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کرلہولہان کردیا گیا۔

شدید زخمی ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کوسچل تھانے منتقل کردیا گیا، شدید زخمی ڈاکٹرپروفیسرعارف خان ساقی کا سچل تھانے میں لیا گیا۔

ویڈیو بیان میں انھوں نے بتایا کہ ہم آئن لائن بائک رائیڈ بک گرانے کے بعد گھر سے جامعہ کراچی جا رہے تھے، جسے ہی رم جھم ٹاؤر سے صفورا چورنگی پر واقع سندھ گرین ریسٹورنٹ پر پہنچے توسندھ گرین ریسٹورنٹ سے ایک ڈالا سڑک پرسیدھا ہونے کے لیے باہر نکل رہا تھا۔

اسی دوران ایک سیکیورٹی گارڈ باہر آیا اور اس نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا ہم رک گئے، اسی دوران ڈالا ریورس کرتے ہوئے تیزی سے آیا اورموٹرسائیکل کو ٹکرماردی۔

ڈالے والا  جانے لگا تو میں نے اسے کہا کہ آن لائن بائک رائیڈرغریب انسان ہے، کسی کی موٹرسائیکل لیکر آئن لائن بائک چلا رہا ہے اور اپنی روٹی روزی کما رہا ہے، یہ موٹرسائیکل کا نقصان برداشت نہیں کرسکتا ہے، لہذا اس کا جو بھی نقصان ہو وہ پورا کیا جائے۔

اسی دوران سندھ گرین ریسٹورینٹ کے مالک کا بیٹا باہر نکلا اور پہلے ہوا میں فائر کیے اورمجھے پستول کے بٹ مار کر لہولہان کردیا اورہم دونوں کو گھسیٹ کر سندھ گرین ہوٹل میں لے گئے اور ہم سے موبائل فونز بھی چھین لیے جو انھوں نے بعد میں ہمیں واپس کردیے۔

انھوں نے بتایا کہ بدترین تشدد کرتے ہوئے انہیں سندھ گرین ریسٹورنٹ میں لے جایا گیا جہاں نہیں حبس بیجا میں رکھا گیا اوروہاں بھی ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورسروں پر بٹ مارے گئے۔

اس دوران ملیر سے پولیس کے سپاہی آئے اور انہیں سچل تھانے پہنچایا گیا، رابطہ کرنے پر ایس ایچ اوسچل اعجاز پٹھان نے دعویٰ کیا کہ جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسرعارف خان ساقی کا گاڑیاں ٹکرانے پر جھگڑا ہوا تھا اور جھگڑے کے دوران سندھ گرین ہوٹل کے مالک کے بیٹے کے گن مینوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے سندھ گرین ریسٹورنٹ کے مالک کے بیٹے کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے واقعے کی تصدیق سے گریز بھی کیا۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ چیئرمین ڈاکٹرپروفیسرعارف خان ساقی تھانے میں موجود ہیں اور اس کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر شیخ محمد ذیشان اقبال جوائنٹ سیکریٹری انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا کہا ہے کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی شعبۂ اسلامک لرننگ کے استاد عارف خان ساقی کو زودوکوب کرنے اورغیر قانونی طورپرحبسِ بیجا میں رکھنے کی پرزور مذمت کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں اساتذہ کا وقار، احترام اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے، بدقسمتی سے مملکت خداداد پاکستان میں اساتذہ سب سے مظلوم اقلیت بنتی جارہی ہے، ہم مقتدرحلقوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اورجولوگ بھی اس میں ملوث ہیں، ان کو قرار واقعی سزا دے کر معاشرے میں استاد کی عزت کو مقدم بنایا جائے۔

بعد ازاں سچل پولیس نے سینئر پروفیسر پر تشدد میں ملوث تین افراد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے کہا کہ ہوٹل مالک کا بیٹا فرار ہو گیا، زیر حراست افراد ہوٹل ملازم ہیں، مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔