جنگ کے دوران خارگ جزیرے پر 550 سے زائد حملے ہوئے، ایرانی وزیر کا حیران کن دعویٰ

24 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے


ویب ڈیسک September 08, 2026

تہران: ایرانی وزیر پٹرولیم محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرے کو 550 سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی وزارت پٹرولیم کی گزشتہ دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے محسن پاک نژاد نے کہا کہ وزارت نے حملوں اور دیگر مشکلات کے باوجود ملک کے تیل و گیس کے شعبے سے متعلق اہم منصوبوں پر کام جاری رکھا۔

ایرانی وزیر نے بتایا کہ تقریباً 23 سے 24 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط خارگ جزیرہ، جو ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے، حملوں کے دوران بار بار نشانہ بنا۔

ان کے مطابق خارگ جزیرے پر 550 سے زائد حملوں کے باوجود ایرانی عملے نے بمباری کے دوران بھی کام جاری رکھا اور آئل ٹینکرز میں تیل بھرنے کا عمل مکمل عزم کے ساتھ جاری رکھا۔

محسن پاک نژاد نے کہا کہ شدید حملوں کے باوجود تیل کی برآمدات سے متعلق سرگرمیوں کو جاری رکھنا ایرانی آئل ورکرز کی عزم و حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی وزیر کا یہ دعویٰ ملکی تیل کی برآمدات کے اہم مرکز خارگ جزیرے پر حملوں اور جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ تاہم 550 سے زائد حملوں کے دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔