ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ڈیفنس میں مبینہ بااثر خاتون کی جانب سے بھائی بہن پر تشددکے معاملے پر مقدمہ درج کرنے اور عبوری ضمانت میں توثیق کی درخواست پر تفتیشی افسر نوٹس جاری کردیئے جبکہ وکیل نے انکشاف کیا کہ متاثرہ بہن بھائی کو گرفتار کر کے 4 دن حوالات میں بھی رکھا گیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ڈیفنس میں مبینہ بااثر خاتون کی جانب سے بھائی بہن پر تشدد کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے اور عبوری ضمانت میں توثیق کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران معطل تفتیشی افسرعمران عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ دونوں خاندانوں میں گاڑی ہٹانے پر جھگڑا ہوا تھا، متاثرہ خاتون نے بھی مدعی مریم کے بال پکڑے ہوئے۔
متاثرہ خاندان کے وکیل نے موقف دیا کہ معطل افسر غلط بیانی کر رہے ہیں، مدعی مقدمہ مریم نے پہلے ان کے موکلین کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے تشدد کرنے والی خاتون مریم کو گرفتار کرنے کے بجائے ان کے موکلین کو زدوکوب کیا اور گرفتار کیا اور پھر چار دن جیل میں رہنے کے بعد ضمانت ہوئی۔
وکیل نے بتایا کہ ہم جب ان کے پاس مقدمہ درج کروانے گئے تو پولیس نے کہا ہمیں پر اوپر سے دباؤ ہے، ہم نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تو ڈی آئی جی ساؤتھ نے انکوائری کرنے کا حکم دیا۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ڈی آئی جی ساؤتھ کی انکوائری کے بعد عمران سمیت پولیس اہلکار معطل کئے گئے۔ اب جو ایف آئی آر درج کی جارہی ہے اس کی دفعات درست نہیں لگائی جارہیں۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ بی کلاس کرنے کی رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ہے۔