ایک باصلاحیت بے گھر پیانسٹ (جو ایک دہائی سے زائد عرصے تک بے گھر رہا اور اپنی موسیقی کے ذریعے مختلف فلاحی اداروں کے لیے تقریباً 40 ہزار پاؤنڈ جمع کر چکا ہے) اب بالآخر اپنے نئے گھر میں منتقل ہو گیا ہے۔
34 سالہ رائس وِن جونز جب سڑکوں پر زندگی گزار رہے تھے وہ اُس وقت چرچ پہنچے۔ انہوں نے چرچ انتظامیہ سے پوچھا کہ کیا وہ وہاں پیانو بجا سکتے ہیں۔ رائس کے مطابق پیانو بجانا انہیں ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور پرسکون رہنے میں مدد دیتا ہے۔ اس رات ان کی پرفارمنس کے اختتام پر حاضرین نے کھڑے ہو کر انہیں داد دی۔
سڑکوں پر زندگی گزارنے کے باوجود رائس نے اپنی موسیقی کا سلسلہ جاری رکھا اور متعدد مواقع پر شاندار پرفارمنس دے کر داد وصول کی۔ وہ بعد میں ’دی نائٹ چرچ پیانسٹ‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔
گزشتہ برس انہیں پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں بھی شرکت کا موقع ملا، جہاں ان کی ملاقات معروف شخصیات سے ہوئی۔ ان کی موسیقی نے مختلف فلاحی اداروں کے لیے تقریباً 40 ہزار پاؤنڈ جمع کرنے میں مدد کی۔
رائس (جو ماضی میں برطانوی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں) اب مغربی کارن وال میں کوسٹ لائن ہاؤسنگ کے زیرِ انتظام ایک نئے رہائشی منصوبے میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں انہیں بالآخر ایک مستقل ٹھکانہ مل گیا ہے۔
اپنے سفر پر بات کرتے ہوئے رائس نے کہا کہ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ بے گھر ہونا کسی فرد کی ناکامی کی علامت ہے۔ ان کے بقول لوگوں کے پس منظر اور حالات مختلف ہوتے ہیں اور بعض اوقات ناکامی فرد کی نہیں بلکہ ان حالات کی ہوتی ہے جنہوں نے اسے مشکلات سے دوچار کیا۔