کراچی: گھر میں گھسے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، والد کا قاتلوں کی گرفتاری تک تدفین سے انکار

والد کی مدعیت میں مقدمہ درج، پولیس افسران کی مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش، لاش کے ہمراہ دھرنے کو 12 گھنٹے سے زائد ہوگئے


منور خان September 09, 2026

شہر قائد کے علاقے منگھوپیر مہران سٹی کے قریب گھر میں دوران ڈکیتی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق نوجوان روشم خان کے لواحقین کا قاتلوں کی گرفتاری کیلیے تھانے کے باہر دھرنا جاری ہے جبکہ والد نے ملزمان کی گرفتاری تک بیٹے کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق منگھوپیر کے علاقے مہران سٹی کے قریب گھر میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 17 سالہ روشم نامی بچے کی ہلاکت پر لواحقین اور علاقہ مکینوں کی جانب سے قاتلوں گرفتاری کے لیے منگھوپیر تھانے کے سامنے دھرنا جاری ہے۔

پولیس نے مقتول کے والد روائیداد خان کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 528 سال 2026 بجرم دفعات 302 ،  324 ، 457 ، 397 اور 511 چونتیس کے تحت نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف درج کرلیا جسے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔

واقعے پر اہلخانہ اور علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایا گیا اور ان کی جانب سے مقتول نوجوان کی لاش منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جسے 12 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔

مظاہرین سے بات چیت کرنے کے لیے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ویسٹ اور ایس ڈی پی او منگھوپیر سمیت دیگر پولیس افسران نے مقتول کے ورثا کے ملاقات کی اور انھیں اپنے تعاون اور ڈاکوؤں کی گرفتاری سے متعلق یقین دہائی کرائی۔

اس حوالے سے ڈی ایس پی منگھوپیر سید شاکر نے بتایا کہ مقتول کے ورثا سے بات چیت کا عمل جاری ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے منگل کی صبح 8 بجے سے دھرنا دیا گیا ہے جو کہ تاحال جاری ہے۔

دھرنے میں موجود مقتول کے ورثا کا مطالبہ ہے کہ روشم خان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا۔

مقتول نوجوان روشم خان حافظ قرآن، میٹرک پاس طالب علم ، 8 بہنوں اور 2 بھائیوں میں سب سے بڑا تھا جسے سفاک ڈاکوؤں نے پیر اور منگل کی درمیانی شب منگھوپیر مہران سٹی میں گھر کے اندر ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ سے قتل کر دیا تھا۔