ایف بی آر: سوشل میڈیا آمدنی پر ٹیکس عائد، تنخواہ دار کو ریلیف، جائیداد، عالمی ادائیگیوں پر ایڈوانس ٹیکس میں کمی

10 ملین سے زائد آمدن پر 9 فیصد سرچارج ختم، ایف بی آر جرمانوں کی مالیت میں بڑا اضافہ، ٹرانزیکشن کی نگرانی مزید سخت


ارشاد انصاری September 09, 2026

ایف بی آرنے فیس لیس آڈٹ، اسیسمنٹ اور اپیل سے لے کر الگورتھمک سیٹلمنٹ، سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ٹیکس، لائف انشورنس کی بعض ادائیگیوں پر 15 فیصد تک حتمی ٹیکس عائد کردیا، بینکنگ لین دین کی ڈیجیٹل نگرانی کا نیا نظام متعارف کروا دیا جبکہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں بھی اضافہ کردیا۔

الیکٹرانک وسائل نصب، استعمال یا برقرار نہ رکھنے پر پہلے ڈیفالٹ کی صورت میں ٹرن اوور کا ایک فیصد یا 10 لاکھ روپے جو زیادہ ہو وہ جرمانہ ہوگا جبکہ بعد کے ہر سہ ماہی ڈیفالٹ پر 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، بین الاقوامی کریڈٹ، ڈیبٹ یا پری پیڈ کارڈز کے ذریعے ادائیگی پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح بھی 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردی گئی ہے اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات پر ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔

تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس شرحوں میں ریلیف دیا گیا ہے جس کے مطابق 6 لاکھ سے کم سالانہ آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 10 ملین روپے سے زائد آمدن پر 9 فیصد سرچارج ختم، جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح کم، بین الاقوامی کارڈز پر ٹیکس 5 فیصد سے گھٹا کر 0.5 فیصد، 50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے بیشتر افراد پر سپر ٹیکس ختم جبکہ بڑے کاروبار، ایکسپورٹرز، سروسز، ای کامرس اور الیکٹرانک انضمام کے شعبوں میں ٹیکس اور تعمیلی نظام مزید سخت کردیا گیا ہے انکم ٹیکس نظام میں فیس لیس آڈٹ، اسیسمنٹ، اپیل اور دائر اختیار کا جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

بورڈ نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرسکے گا، جہاں مخصوص کیس اور ٹیکس سال کے لیے آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ الگ افسران کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ ٹیکس دہندگان اور ان کے نمائندوں سے تمام رابطے الیکٹرانک ذرائع سے ہوں گے۔

سماعت یا حلفیہ بیان کی ضرورت کی صورت میں ای سماعت ہوگی اور متعلقہ افسر کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔

اس حوالے سے ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کی گئی اہم ترامیم کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 نے ملک کے ٹیکس نظام کا نقشہ بدل دیا ہے حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ 2026 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کی جانیوالی اہم ترامیم کے تحت انکم ٹیکس نظام میں فیس لیس آڈٹ، اسیسمنٹ اور اپیل کا جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق نیشنل فیس لیس سینٹر میں کارروائیاں الیکٹرانک ذرائع سے ہوں گی جبکہ فیس لیس کارروائی کے دوران متعلقہ ٹیکس افسر کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ ٹیکس تنازعات کے تصفیے کے لیے الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت سیٹلمنٹ آفر قبول کرنے کے لیے ٹیکس دہندہ کو 10 دن کی مہلت ہوگی۔ ہائی کورٹ میں ریفرنس اور اعلیٰ عدالتوں میں اپیل یا نظرثانی دائر کرنے سے قبل آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری بھی لازمی قرار دی گئی ہےْ

فنانس ایکٹ کے تحت لائف انشورنس کی بعض ادائیگیوں پر 15 فیصد تک حتمی ٹیکس عائد کیا گیا ہے ایک سال کے اندر لائف انشورنس کی ادائیگی پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد جبکہ ایک سال بعد اور چار سال مکمل ہونے سے پہلے ادائیگی پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا، تاہم موت یا معذوری کی صورت میں لائف انشورنس کی ادائیگی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔

سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس

اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جو مقامی شخص کے لیے کم از کم ٹیکس تصور ہوگا۔

تنخواہ دار طبقے کیلیے ٹیکس کی شرح تبدیل

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ 6 لاکھ روپے تک سالانہ قابل ٹیکس آمدن پر ٹیکس کی شرح صفر مقرر کی گئی ہے جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد قابل ٹیکس آمدن پر شرح 35 فیصد ہوگی۔

تنخواہ دار افراد پر 10 ملین روپے سے زائد آمدن کا 9 فیصد سرچارج بھی ختم کردیا گیا ہے تاہم دیگر افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے 10 فیصد سرچارج برقرار رہے گا۔

دوسری جانب سیکشن 7 ای کے تحت ڈیڈ انکم پر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، ای کامرس کے شعبے میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے اور 20 کروڑ روپے سے زائد ٹرن اوور پر ای کامرس ٹیکس ایڈجسٹ ایبل ہوگا جبکہ 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والوں کو نارمل ٹیکس نظام اختیار کرنے کا آپشن دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے انضمام نہ کرنے پر اخراجات کے 3 فیصد کی کٹوتی ہوگی، جبکہ الیکٹرانک وسائل میں سرمایہ کاری پر 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

بینک ٹرانزکشنز کیلیے نئی پابندیاں

بینکنگ نظام کے حوالے سے بھی نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں، جس کے تحت 10 کروڑ روپے سے زائد بینک ڈپازٹس یا انخلا کی معلومات سینٹرل ڈیٹا ہب کو فراہم کی جائیں گی اور بینکنگ ڈیٹا کا ٹیکس معلومات سے الگورتھمک بنیاد پر موازنہ ہوگا جبکہ غیر مقیم شپنگ کے لیے مجاز شپنگ ایجنٹ کو ٹیکس ذمہ داریوں کا پابند کردیا گیا ہے۔

جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح تبدیل

غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر 1.25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

عالمی کریڈٹ، ڈیپبٹ اور پری پیڈ کارڈز پر ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے 0.5 فیصد

بین الاقوامی کریڈٹ، ڈیبٹ اور پری پیڈ کارڈز پر ایڈوانس ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردیا گیا ہے جبکہ ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات پر ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔

سروسز کے شعبے میں بعض خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کردی گئی ہے۔ آزاد پیشہ ورانہ خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس 15 فیصد، ٹرمینل اور پورٹ آپریٹنگ سروسز پر 12 فیصد جبکہ دیگر غیر متعین خدمات پر 14 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ قرضی سیکیورٹیز کی فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس بھی 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردیا گیا ہے۔

سپر ٹیکس میں اہم تبدیلیاں

فنانس ایکٹ کے تحت سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ 50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے بیشتر افراد پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر دیگر افراد کے لیے سپر ٹیکس 8 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

80 فیصد سے زائد ٹرن اوور برآمدات رکھنے والے اہل ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے جبکہ درآمد گندگان کے لیے ایک فیصد ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس بھی ختم کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایڈوانس ٹیکس 1.25 فیصد کم از کم ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

آئی ٹی برآمدات پر ٹیکس کی شرح

آئی ٹی اور آئی ٹی ای خدمات کی برآمدات پر 0.25 فیصد شرح ٹیکس سال 2029 تک برقرار رکھی گئی ہے۔

جرمانوں میں اضافہ

فنانس ایکٹ 2026 کے تحت الیکٹرانک وسائل سے متعلق خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر نے فیلڈ کمپلائنس کے لیے نیا ڈائریکٹوریٹ جنرل قائم کردیا ہے۔

چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار کا دائرہ بھی وسیع کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایف بی آر نے نئی ٹیکس دفعات پر عمل درآمد میں معاونت اور انفورسمنٹ کو منصفانہ انداز میں یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری سرکلر نمبر 02 آف 2026-27 کے مطابق انکم ٹیکس نظام میں فیس لیس آڈٹ، اسیسمنٹ، اپیل اور دائر اختیار کا جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت بورڈ نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرسکے گا، جہاں مخصوص کیس اور ٹیکس سال کے لیے آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ الگ افسران کے ذریعے کیا جائے گا جبکہ ٹیکس دہندگان اور ان کے نمائندوں سے تمام رابطے الیکٹرانک ذرائع سے ہوں گے۔

سماعت یا حلفیہ بیان کی ضرورت کی صورت میں ای ہیئرنگ ہوگی اور متعلقہ افسر کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی، ایف بی آر کے مطابق ٹیکس کارروائیوں کے تصفیے کے لیے الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت کارروائی کے مرحلے، ٹیکس دہندہ کی سابقہ تعمیلی تاریخ اور بے ضابطگی کی نوعیت سمیت دیگر عوامل کی بنیاد پر سیٹلمنٹ آفر پیش کی جاسکے گی، جسے ٹیکس دہندہ دس دن کے اندر آئی آر آئی ایس پر قبول کرکے مقررہ رقم جمع اور نظرثانی شدہ ریٹرن جمع کراسکے گا۔

پیش کش قبول ہونے پر متعلقہ آڈٹ، نوٹس یا کارروائی کے دائرے میں آنے والے مسائل ختم تصور ہوں گے، تاہم دیگر مسائل یا ٹیکس سال کے حوالے سے کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔

سرکلر کے مطابق ہائی کورٹ میں ریفرنس یا وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں اپیل یا نظرثانی دائر کرنے سے قبل آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ کمیٹی میں اعلیٰ عدالتوں کے ریٹائرڈ جج بطور چیئرمین، ٹیکس اور کمرشل مقدمات میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا وکیل اور گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ ایف بی آر افسر شامل ہوگام جبکہ چارٹرڈ اکاوٴنٹنٹ کو بطور غیر ووٹنگ رکن شامل کیا جاسکے گا۔ کمیٹی کی سفارشات متعلقہ کمشنر کے لیے پابند ہوں گی۔

انشورنس کاروبار

لائف انشورنس کاروبار سے حاصل ہونے والی بعض ادائیگیوں پر بھی نیا ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے، ٹیکس سال 2026 اور اس کے بعد انشورنس پالیسی، فیملی تکافل سرٹیفکیٹ یا اسی نوعیت کے انتظام کے تحت حاصل ہونے والی ادائیگی، بینیفٹ، سرنڈر ویلیو یا میچورٹی پروسیڈز پر، مجموعی ادائیگی میں سے ادا کردہ مجموعی پریمیم یا شراکت منہا کرنے کے بعد قابل ٹیکس رقم پر ٹیکس عائد ہوگا۔

موت یا معذوری کی صورت میں یا پالیسی، سرٹیفکیٹ یا پلان کے اجرا کے چار سال مکمل ہونے کے بعد کی ادائیگی اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی، ایک سال کے اندر ادائیگی پر شرح 15 فیصد جبکہ ایک سال کے بعد اور چار سال مکمل ہونے سے پہلے ادائیگی پر شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے اور یہ ٹیکس حتمی ٹیکس تصور ہوگا۔

سوشل میڈیا آمدن پر ٹرانزیکشن کے وقت ٹیکس کٹے گا

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر بھی پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ بینکنگ اور نان بینکنگ مالیاتی ادارے ایسے شخص کے اکاوٴنٹ میں رقم کریڈٹ یا وصول کرتے وقت پانچ فیصد ٹیکس کاٹیں گے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن ہوگی۔

مقامی شخص کے لیے یہ کم از کم ٹیکس جبکہ پاکستان میں مستقل ادارہ نہ رکھنے والے غیر مقیم شخص کے لیے حتمی ٹیکس ہوگا۔

تنخواہ دار افراد کا سلیب

تنخواہ دار افراد اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے مختلف ٹیکس سلیبز میں کمی کی گئی ہے۔

6 لاکھ روپے تک قابل ٹیکس آمدن پر ٹیکس کی شرح صفر، 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک اضافی رقم پر ایک فیصد، 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک 6 ہزار روپے، 12 لاکھ سے زائد رقم پر 11 فیصد، 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک ایک لاکھ 16 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ 22 لاکھ سے زائد رقم پر 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک 3 لاکھ 16 ہزار روپے جمع 32 لاکھ سے زائد رقم پر 25 فیصد، 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک 5 لاکھ 41 ہزار روپے جمع 41 لاکھ سے زائد رقم پر 29 فیصد جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک 9 لاکھ 76 ہزار روپے جمع 56 لاکھ سے زائد رقم پر 32 فیصد ہوگا۔

70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے، 70 لاکھ سے زائد رقم پر 35 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار افراد کے لیے 10 ملین روپے سے زائد قابل ٹیکس آمدن پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کردیا گیا ہے تاہم دیگر افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے 10 فیصد سرچارج برقرار رہے گا۔

ای کامرس کیلیے ٹیکس شرح

دوسری جانب سیکشن سات ای کے تحت ڈیڈ انکم پر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے اور اس سے متعلق شرح بھی ختم کردی گئی ہے ای کامرس ٹیکس نظام کے تحت 20 کروڑ روپے سے زائد سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے شخص کے لیے عائد ٹیکس ایڈجسٹ ایبل ہوگا، جبکہ 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والے شخص کو ٹیکس سال 2027 اور بعد کے لیے ریٹرن فائل کرتے وقت نارمل ٹیکس نظام اختیار کرنے کا آپشن دیا گیا ہے۔

کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک کرنے کا فریم ورک بھی مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق الیکٹرانک وسائل نصب نہ کرنے یا مربوط ادارے کے طور پر کام نہ کرنے کی صورت میں دعویٰ کردہ اخراجات کے تین فیصد کی کٹوتی کی جاسکے گی۔

دوسری جانب الیکٹرانک وسائل کی تنصیب، انضمام اور کنفیگریشن پر حقیقی سرمایہ کاری کی رقم کے 10 فیصد کے برابر ٹیکس کریڈٹ دستیاب ہوگا، جو نارمل ٹیکس کے خلاف استعمال کیا جاسکے گا۔

آن لائن والٹ اداروں کیلیے نیا نظام متعارف

بینکوں اور الیکٹرانک مالیاتی اداروں کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت رپورٹنگ مدت کے دوران ایک کروڑ نہیں بلکہ 10 کروڑ روپے سے زائد ڈپازٹس یا انخلا رکھنے والے اکاوٴنٹ ہولڈرز کی مقررہ معلومات سینٹرل ڈیٹا ہب پر الیکٹرانک طور پر اپ لوڈ کی جائیں گی۔

ان معلومات کا الگورتھمک بنیاد پر ٹیکس اور بینکنگ ڈیٹا سے موازنہ ہوگا اور مجموعی بے قاعدگی کی صورت میں معاملہ بورڈ کے کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم میں بھیجا جاسکے گا۔

شپنگ کمپنیوں

غیر مقیم شپنگ کے حوالے سے مجاز شپنگ ایجنٹ کو غیر مقیم جہاز مالک، چارٹرر یا آپریٹر کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے اور اسے ٹیکس اور متعلقہ ذمہ داریوں کا مشترکہ اور علیحدہ طور پر ذمہ دار بنایا گیا ہے۔

ہر جہاز یا سفر کے لیے مجموعی فریٹ اور متعلقہ رقوم پر ایک ریٹرن جمع کرانا ہوگا اور پورٹ کلیئرنس سے قبل ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کی الیکٹرانک تصدیق ضروری ہوگی حکومت کو معاشی قابل عملیت کی بنیاد پر کم از کم ٹیکس کی نوعیت رکھنے والے بعض ودہولڈنگ ٹیکسز کی شرح میں ایک فیصد تک کمی کا اختیار بھی دیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط و پابندیاں ہوں گی اور ایسی تمام کمی متعلقہ مالی سال میں قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرنا ہوگی۔

وراثتی جائیداد

وراثت میں ملنے والی غیر منقولہ جائیداد کے لیے اس کی لاگت اس وقت کی فیئر مارکیٹ ویلیو مقرر کی جائے گی جو سیکشن 68 کے تحت متعین ہوگی۔ محدود ذمہ داری شراکت داری (ایل ایل پی) کو ایسوسی ایشن آف پرسنز میں شامل کیا گیا ہے جبکہ بعض حالات میں ایل ایل پی سے رکن کو ملنے والا منافع اس رکن کی آمدن میں شامل ہوگا۔

کیپٹل گین کے حوالے سے بعض بینکنگ، میوچل فنڈ اور انشورنس اداروں کے لیے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان کے ذریعے کیپٹل گین کے حساب اور تعین کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔ فارن کرنسی اور نان ریزیڈنٹ اکاوٴنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے بعض کیپٹل گین پر بینکوں کو ٹیکس کٹوتی کرنا ہوگی۔

کمپنیوں کے لیے ٹیکس سال 2026 اور بعد میں ریٹرن کے ساتھ مالیاتی گوشوارے صرف الیکٹرانک طور پر قابل مطالعہ فائل فارمیٹ میں جمع کرانا ہوں گے۔

ایف بی آر نے بعض پیچیدہ یا کثیر لین دین والے اکاوٴنٹس کی دوبارہ آڈٹ، انوینٹری کی دوبارہ قدر بندی یا ایکچوریل ویلیوایشن کے لیے بورڈ کے نامزد پینل سے ماہرین مقرر کرنے کا اختیار بھی متعارف کرایا ہے۔

سپر ٹیکس کے حوالے سے اہم تبدیلیاں

فنانس ایکٹ کے تحت سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، بینکنگ کمپنی کی 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد، بعض مخصوص افراد کی 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد اور کھاد کی فروخت سے آمدن حاصل کرنے والے شخص کی 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس برقرار رہے گا۔

دیگر افراد کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ تاہم 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے برآمد کنندگان کے لیے، اگر ٹیکس سال کی وصول شدہ برآمدی آمدن ان کے مجموعی ٹرن اوور کے 80 فیصد سے زیادہ ہو، سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔

جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس شرح میں کمی

غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔ جائیداد کی فروخت یا منتقلی پر مجموعی وصول شدہ رقم کا 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

مربوط ادارے کی جانب سے آئی ٹی پلیٹ فارم کو مربوط نہ کرنے یا ڈیٹا شیئر نہ کرنے پر پہلے ڈیفالٹ میں پانچ لاکھ اور بعد کے ہر ڈیفالٹ میں 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے تصویر، اسکین شدہ دستاویز، پاس ورڈ سے محفوظ یا ناقابل رسائی فائل کی صورت میں جمع کرانے کو خالی یا نامکمل دستاویز تصور کیا جائے گا۔

ذرائع سے کٹوتی شدہ اور جمع شدہ ٹیکس سے زائد کریڈٹ کا دعویٰ کرنے پر بھی اتنی ہی رقم کے برابر جرمانہ عائد ہوگا۔

ٹیکس لسٹ میں شامل نہ ہونے والوں پر سرچارج میں اضافہ

ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد کے لیے سرچارج میں اضافہ کیا گیا ہے، تاہم فرد کمشنر کے سامنے یہ حلفیہ یقین دہانی کراکے اس شرط سے مستثنیٰ ہوسکتا ہے کہ وہ یقین دہانی جمع کرانے کی تاریخ سے چھ ماہ تک کسی جائیداد کی خرید، حصول یا ملکیت یا فائدہ مند مفاد حاصل نہیں کرے گا۔

ایکسپورٹرز کیلیے ایڈوانس ٹیکس ختم

ایکسپورٹرز کے لیے سیکشن 147(6C) کے تحت ایک فیصد ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا ہے ایکسپورٹس پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 1.25 فیصد کم از کم ٹیکس مقرر کی گئی ہے جبکہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات پر 0.25 فیصد کی کم شرح ٹیکس سال 2029 تک بڑھا دی گئی ہے۔

ایف بی آر نے فیلڈ کمپلائنس کے لیے نیا ڈائریکٹوریٹ جنرل قائم کرنے اور آڈیٹرز، آڈٹ مینٹورز اور سیکٹرل ماہرین کو بعض شرائط کے تحت معلومات کی فراہمی کی اجازت دینے سمیت دیگر انتظامی ترامیم بھی کی ہیں جبکہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے خصوصی طریقہ کار کا دائرہ بھی وسیع کیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے کہا ہے کہ بورڈ نئی متعارف کرائی گئی قانونی دفعات پر عمل درآمد میں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا اور انفورسمنٹ سے متعلق دفعات پر منصفانہ انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کاروباری برادری اور ایف بی آر کے نمائندوں پر مشتمل ریڈریسل کمیٹیاں بھی موجود ہوں گی۔