کھیتوں کے فضلے سے توانائی، کمالیہ سے ایک نئی امید

جن چیزوں کو دنیا آج وسائل کے طور پر استعمال کر رہی ہے، ہم اسے فُضلہ قرار دے کر ضایع کر دیتے ہیں۔


غلام محی الدین September 10, 2026

جن چیزوں کو دنیا آج وسائل کے طور پر استعمال کر رہی ہے، ہم اسے فُضلہ قرار دے کر ضایع کر دیتے ہیں۔ ہمارے کھیتوں میں فصل تیار ہوتی ہے، اناج گھر آتا ہے، کپاس اور گنے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے، مگر اسی فصل کے بعد بچ جانے والی بے شمار ٹن زرعی باقیات ہمارے لیے ایک مسئلہ بن جاتی ہیں۔

کہیں انھیں کھیتوں میں جلا دیا جاتا ہے، کہیں یہ سڑتی رہتی ہیں اور کہیں کسان انھیں ٹھکانے لگانے کے لیے بھی خرچ برداشت کرتا ہے۔ دوسری طرف ہمارا ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اربوں ڈالر کا کوئلہ درآمد کرتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جس کا ایک عملی جواب کمالیہ سے سامنے آ رہا ہے۔

یونیورسٹی آف کمالیہ میں PLUS SAFER کے نام سے شروع ہونے والا منصوبہ بظاہر ایک صنعتی یا تحقیقی منصوبہ ہے، لیکن اگر اس کے ممکنہ اثرات کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے توانائی کے بحران کی شدت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

برطانوی حکومت کے Innovate UK Energy Catalyst پروگرام کے تحت تقریباً 1.25 ملین پاؤنڈ (46کروڑ روپے) کی معاونت سے اس منصوبے کے ذریعے پاکستان میں زرعی فضلے کو ماحول دوست کوئلے، بجلی، صنعتی حرارت اور دیگر مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے ایک  Plant Demonstration Scale Full قائم کیا جا رہا ہے۔ Northumbria University برطانیہ کے مطابق یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پراجیکٹ ہے۔

 Northumbria University کے مطابق اس عمل میں کپاس کی چھڑیوں اور گنے کی بگاس کو ایک انجینئرنگ عمل کے ذریعے بائیو کول میں تبدیل کیا جائے گا، جنھیں صنعتی بائیولرز، بھٹوں میں درآمدی کوئلے کے متبادل کے طور پر آزمایا جائے گا۔ منصوبے سے وابستہ تین بڑے پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز پہلے اس کوئلہ کو اپنے بائلرز (Boilers) میں آزمانے کی باقاعدہ حامی بھر چکے ہیں۔

 پاکستان ہر سال تقریباً 19 ملین ٹن کوئلہ درآمد کرتا ہے اور اس پر 2.5 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوتی ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں ہر سال فصلوں کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی اور سموگ الگ سے ایک مسئلہ ہے۔

ایک طرف درآمدی ایندھن پر انحصار اور دوسری طرف اپنے ہی کھیتوں میں موجود biomass کا ضیاع۔ اس منصوبے کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں زرعی فضلے سے صرف ایک چیز حاصل کرنے کا تصور نہیں۔ ایک ہی عمل کے ذریعے بائیو کوئلہ، بجلی، صنعتی حرارت، لکڑی کا سرکہ vinegar wood پیدا کرنے کا منصوبہ ہے جسے زمین کی زرخیزی بڑھانے، نقصان دہ کیڑوں سے تحفظ اور بیجوں کے پھوٹنے کے عمل میں تیزی لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اضافی حرارت کو مقامی ٹیکسٹائل کی صنعت میں رنگائی کے لیے استعمال میں لایا جائے گا، جب کہ اس سے پیدا ہونے والی گیس سے بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔

جنوبی پنجاب کی دیہاتی خواتین اس منصوبے میں بائیوماس سپلائی چین کا حصہ بن سکتی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 120 سے زیادہ گھرانوں کو زرعی فضلے کی فراہمی سے آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ کم از کم 60 فیصد تربیتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے مقامات خواتین کے لیے مختص رکھے جائیں گے جب کہ ادائیگیاں براہ راست خواتین کے موبائل پر ان کے اکاونٹ میں منتقل ہوں گی۔

 ہمارے دیہی معاشرے میں خواتین برسوں سے معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں، مگر ان کے کام کی باقاعدہ مالی قدر اکثر سامنے نہیں آتی۔آج کسان جسے فضلہ سمجھ کر ضایع کر رہا ہے کل کسی دیہی خاتون کے لیے باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ بن جائے تو یہ ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی کی شکل اختیار کر لے گا۔

اس سلسلے میں یونیورسٹی آف کمالیہ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ دیہی علاقے میں قائم یونیورسٹی کا بین الاقوامی تحقیقی کنسورشیم میں اس تجرباتی منصوبے کے عملی مظاہرے کے لیے ذمے داری ادا کرنا اس بات کی علامت ہے کہ جامعات کا کردار صرف کلاس روم، امتحان اور ڈگری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے بھی اسی تصور کو اجاگر کیا ہے کہ دیہی پاکستان کی جامعات ماحول دوست صاف توانائی، تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی اور معاشی ترقی کے مراکز بھی بن سکتی ہیں۔ اصل میں یہی وہ سمت ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔

ہمارے پاس زراعت ہے، مگر زرعی فضلے کے استعمال کا مؤثر نظام نہیں ہے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے، مگر روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ ہمارے پاس توانائی کی ضرورت ہے، مگر درآمدی ایندھن پر انحصار ہے۔ ہمارے پاس جامعات ہیں، مگر تحقیق اور صنعت کے درمیان کوئی تال میل نہیں۔ اگر ایک منصوبہ ان چاروں مسائل کو ایک ہی سلسلے میں جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے محض ایک یونیورسٹی کا منصوبہ سمجھنا شاید اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔

 PLUS SAFER صفر سے شروع نہیں ہوا۔یونیورسٹی آف نارتھمبریا کے مطابق اس سے پہلے project SAFER میں زرعی فضلہ کو توانائی اور فائیبر کے لیے استعمال کرنے پر کام کیا گیا، اور اسی تحقیق کے دوران کپاس کی چھڑیاں اور گنے کی بگاس میں توانائی پوٹینشل کی نشاندہی ہوئی۔ اب اسی تجربے کو لیبارٹری سے نکال کر تجارتی اور صنعتی سطح تک پہنچایا جا رہا ہے۔ لیکن یہاں احتیاط بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں ہم اکثر کسی نئے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی اسے انقلاب قرار دے دیتے ہیں لیکن اصل کامیابی اعلان میں نہیں عملدرآمد میں ہوتی ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ پلانٹ اپنی مقررہ صلاحیت کے مطابق چلتا ہے یا نہیں، بائیو کوئلہ واقعی صنعت کے لیے معاشی طور پر قابلِ قبول ثابت ہوتا ہے یا نہیں، خواتین کی آمدنی واقعی پائیدار بنتی ہے یا نہیں، اور کیا کسان زرعی باقیات کو جلانے کے بجائے انھیں تجارتی مال کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو کنسورشیم کے پاس پاکستان میں اس نمونے کو مزید 30 مقامات تک پھیلانے کا تصور موجود ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق اس طرح سالانہ ایک لاکھ ٹن سے زیادہ درآمدی کوئلہ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ ابھی ایک اندازہ ہے، کوئی حاصل شدہ نتیجہ نہیں، لیکن پاکستان جیسے ملک کے لیے ایسا اندازہ بھی اہم ہوتا ہے، بشرطیکہ اسے عملی منصوبہ بندی اور شفاف نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

بلا شبہ کمالیہ کا یہ منصوبہ اس لیے امید افزا لگتا ہے۔ کبھی کبھی ترقی کا راستہ کسی بڑے شہر کی بلند عمارت سے نہیں بلکہ ایک عام سے کھیت میں پڑی ہوئی کپاس کی چھڑی سے نکلتا ہے۔ کمالیہ میں ہونے والا یہ تجربہ اسی امکان کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔

اگر یہ کامیاب ہوا تو شاید مستقبل میں پاکستان میں فصل کا آخری حصہ بھی اتنا ہی قیمتی سمجھا جائے جتنا فصل کا پہلا حصہ۔ اور شاید وہ دن آئے جب جس دھوئیں کو آج ہم سموگ کی علامت سمجھتے ہیں، اسے روک کر اسی biomass سے پیدا ہونے والی توانائی کو ترقی کی علامت کہا جائے۔ کمالیہ سے شروع ہونے والی یہ کوشش اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں برطانوی تحقیق و سرمایہ، پاکستانی یونیورسٹی، مقامی صنعت، کسان اور دیہی خواتین ایک ہی پیداواری زنجیر میں نظر آتے ہیں۔ پاکستان کو اسی قسم کے ماڈلز کی ضرورت ہے، ایسے ماڈلز جو امداد پر نہیں بلکہ مقامی صلاحیت اور وسائل پر کھڑے ہوں۔

اگر کمالیہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ صرف ایک تجرباتی پلانٹ کی کامیابی نہیں ہوگی۔ یہ اس سوچ کی کامیابی ہوگی کہ پاکستان اپنے مسائل کا حل اپنے کھیتوں، اپنی جامعات، اپنے نوجوانوں اور اپنی خواتین کے ذریعے بھی تلاش کر سکتا ہے۔