لندن: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جمعرات کو ابتدائی ایشیائی کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت 101.28 ڈالر فی بیرل رہی۔ ایک روز قبل برینٹ کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی، جو جولائی کے بعد پہلی مرتبہ ہوا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایرانی سرکاری میڈیا کی وہ رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 امریکی بحری جہازوں، 8 آئل ٹینکرز اور 10 دیگر ’’غیر تعمیل کرنے والے‘‘ بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور معمول کے حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے یہاں بحری آمدورفت میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
ایرانی کارروائیوں کے دعوے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، جبکہ سرمایہ کار خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری آمدورفت کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔