پاکستان کے سب سے بڑے ہیلتھ سیکٹر ایونٹ 23ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کا آغاز

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت ہیلتھ سیکٹر میں بلندیوں کی جانب بڑھ رہا ہے


اسٹاف رپورٹر September 10, 2026

پاکستان کے سب سے بڑے ہیلتھ سیکٹر ایونٹ 23ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کا کراچی ایکسپو سینٹر میں آغاز ہوگیا۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے نمائش کا افتتاح کیا، جس میں 10 سے زائد ممالک کے نمائندے، 30 سے زائد بین الاقوامی مقررین، اسپتال، طبی جامعات اور ہیلتھ کیئر انڈسٹری سے وابستہ ملکی و غیرملکی ادارے شریک ہیں۔

ہیلتھ ایشیا 2026 کے پانچ ہالز میں 600 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 200 سے زائد ملکی و بین الاقوامی کمپنیاں جدید طبی آلات، سرجیکل مصنوعات اور ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی پیش کررہی ہیں، نمائش کے دوران صحت کے مختلف شعبوں سے متعلق 30 سے زائد کانفرنسز اور ورکشاپس منعقد ہوں گی جبکہ 100 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط متوقع ہیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت ہیلتھ سیکٹر میں بلندیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، ہیلتھ سیکٹر میں چینی کمپنی کے ساتھ 663 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جبکہ ای کامرس گیٹ وے اس شعبے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 26 کروڑ کی آبادی کا ملک بن چکا ہے، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی گروتھ 38 فیصد ہوئی ہے، حکومت نے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا ہے اور میڈیکل ڈیوائسز کی لائسنسنگ بھی ڈیجیٹل کردی گئی ہے، ماضی میں لائسنس کے حصول میں دو سال لگتے تھے جبکہ اب 21 دن میں لائسنس جاری کیا جارہا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بچوں کو 13 بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی جارہی ہیں اور جلد ملک میں ویکسین کی پیداوار بھی شروع ہوجائے گی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ویکسین پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، ملک میں 118 میڈیکل کالجز ہیں اور میڈیکل ایجوکیشن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نرسنگ کونسل میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں، دنیا کو 25 لاکھ جبکہ پاکستان کو 9 لاکھ نرسز کی ضرورت ہے، نرسنگ کی تعلیم کو کاروبار بنانے کے سلسلے کو ختم کیا جارہا ہے اور بین الاقوامی معیار کی نرسنگ تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کے حوالے سے ہر اسپتال میں مریض کا میڈیکل ریکارڈ برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، نادرا سے بات چیت جاری ہے اور تجویز ہے کہ ہر شہری کا شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہو۔پاکستان میں سالانہ 67 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور 2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن سکتا ہے، اتنی بڑی آبادی کا معمولی حصہ بھی بیمار ہو تو صحت کے نظام پر شدید دباؤ پڑے گا، اس لیے کونسلر سے وزیر تک ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق پاکستان اس وقت ڈبلیو ایچ او لیول ٹو کی وجہ سے صرف 52 ممالک کو ادویات برآمد کرسکتا ہے، ڈبلیو ایچ او لیول تھری حاصل ہونے کے بعد مزید 100 ممالک کو ادویات برآمد کرنے کی اجازت مل سکے گی اور پاکستان کی دوا سازی کی برآمدات 52 سے بڑھ کر 152 ممالک تک پہنچ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران جاں بحق ہوتی ہیں، غذائی کمی کے باعث بچوں کی اموات اور ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا مسئلہ بھی سنگین ہے، 43 فیصد بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما متاثر ہورہی ہے، حکومت نے انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا آغاز کردیا ہے، گزشتہ 30 سال کے کام کے مقابلے میں گزشتہ 13 ماہ کی کارکردگی نمایاں ہے۔