محمد علی جناح واقعی قائداعظم تھے

ان کی بے مثال رہنمائی، پرخلوص اور انتھک جدو جہد کی بدولت انہیں قائد اعظم کہا جاتا ہے


محمد مشتاق ایم اے September 11, 2026

11 ستمبر 1948 بروز ہفتہ، رات دس بج کربیس منٹ پر کراچی کے گورنر ہاؤس میں اس شخص نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی جسے آج دنیا قائداعظم کے نام سے جانتی ہے۔ 

ان کا نام تو محمد علی جناح تھا لیکن ان کی بے مثال رہنمائی، پرخلوص اور انتھک جدو جہد کی بدولت انہیں قائد اعظم کہا جاتا ہے اور یہ بات یاد رہے کہ وہ صرف نام کے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بہت بڑ ے لیڈر تھے، جنہوں نے بیک وقت انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں اور اپنی صفوں میں چھپے دشمنوں سے چومکھی لڑائی لڑ کر برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا حصول ممکن بنایا۔

بظاہر یہ ایک دیوانے کا خواب لگتا تھا، لیکن اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بیماری کی نہ صرف پرواہ نہیں کی بلکہ لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی کہ کہیں نئے ملک پاکستان کا قیام کھٹائی میں نہ پڑ جائے اور اپنا مقصد پورا کر لینے کے بعد آخرکار ٹی بی اور کینسر سے جان کی بازی اس وقت ہار گئے جب پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے صرف 13 مہینے ہی ہوئے تھے۔

اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے اپنی جان پاکستان پر قربان کردی تو یہ بے جا نہ ہوگا، کیوں جب آرام کی سخت ضرورت تھی وہ اس وقت بھی لگاتار اور دن رات کام کرتے رہے، جس سے بیماری بہت پھیل گئی اور وہ 71 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

قائداعظم نے خود بھی ایمان، اتحاد اور نظم کو اپنی زندگی کا شعار بنایا اور اپنی قوم کو بھی اس کا سبق دیا۔ وقت کی پابندی کا یہ حال تھا کہ ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح فرماتی ہیں کہ ان کی زندگی گھڑی کے کانٹوں پر چلتی تھی۔ جہاں جانا ہوتا وہاں 5 منٹ پہلے پہنچ جاتے تاکہ میزبان کو انتظار نہ کرنا پڑے۔ پاکستان بننے کے بعد ایک میٹنگ میں ایک وزیر 7 منٹ لیٹ پہنچے تو قائد اعظم نے کہا کہ قوم کے لیے ایک ایک منٹ قیمتی ہے اور آپ پورے سات منٹ لیٹ پہنچے ہیں۔ اس کے بعد قائد اعظم کی کسی میٹنگ میں کبھی کوئی لیٹ نہیں ہوا۔ اسی طرح ایک میٹنگ میں کچھ لوگوں کے وقت پر نہ پہنچنے پر انہوں نے خالی کرسیاں اٹھوا دیں اور ان افسران کو میٹنگ کے دوران کھڑا ہونا پڑا، پھر اس کے بعد وہ بھی کبھی لیٹ نہ ہوئے۔ 

قائداعظم صبح سات بجے دفتر پہنچ جاتے تھے اور جب بھی دفتر سے نکلتے ساری لائٹس اور پنکھے بند کر دیتے تھے کہ یہ قوم کی امانت ہے۔ ایک بار طلبا نے ایک جلسہ رکھا اور طے پایا کہ کوئی بھی شخص بغیر ٹکٹ لیے جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہوگا. جب قائداعظم پہنچے تو طلباء ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگ گئے کہ اب قائداعظم سے ٹکٹ کا کون پوچھے تو قائداعظم ان کی پریشانی بھانپ گئے اور جیب سے ٹکٹ نکال کر ان کو دکھایا تو وہ حیران رہ گئے۔

آپ سفارش کے بھی بہت خلاف تھے۔ ایک بار جو نرس ان کی خدمت کررہی تھی ان کے پاس آئی اور درخواست کی کہ میری ٹرانسفر کی سفارش کردیں، تو انہوں نے اس کی بات سن کر کہا کہ تمہاری خدمت کا بہت شکریہ لیکن تمہاری ٹرانسفر محکمہ صحت کا کام ہے جس میں، میں دخل نہیں دے سکتا۔ ایک بار عدالت گئے تو وہاں بہت رش تھا لیکن دیکھا کہ ایک بااثر شخص وکیل کی سیٹ پربیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے کورٹ کو اطلاع دے کر وہ سیٹ خالی کرالی اور اس پر بیٹھ گئے۔ آپ بہت حاضر دماغ بھی تھے ایک بار گاندھی کے سامنے کھڑے تھے کہ آپ کی عینک نیچے گر گئی تو گاندھی کھڑے رہے کہ اب قائداعظم اس کے سامنے جھک کر اپنی عینک اٹھائیں گے لیکن انہوں نے اپنی جیب سے دوسری عینک نکال کر لگا لی۔

انگریز نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان اور ہندوستان کا پہلا گورنر بنانے کی تجویز دی تو قائد اعظم نے صاف انکار کردیا، جب کہ ہندوستان ایسا نہ کرسکا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن 15 اگست 1947 سے جون 1948 تک پہلا گورنر جنرل رہا۔ قائداعظم ایک دلیر، انصاف پسند اور پریکٹیکل آدمی تھے۔ انہوں نے زبانی کلامی ایس کوئی بڑھکیں نہیں ماریں جو آج کل کے سیاستدانوں کا طرہ امتیاز ہیں۔ 

انسان کے لیے سب سے قیمتی چیز اس کی صحت اور زندگی ہے اور قائد اعظم نے اپنے نصب العین یعنی پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے نہ اپنی صحت کی پرواہ کی اور نہ زندگی کی۔ جب پاکستان معرض وجود میں آگیا اور اس کے آئین کی بات سامنے آئی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں نئے آئین کی کیا ضرورت؟ ہمارا آئین وہی ہوگا جو آج سے 14 صدیاں پہلے حضور اکرم ﷺ بتا گئے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہم نے آئین میں ملک کا پورا نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھ دیا ہے اور پکارا بھی یہی نام جاتا ہے لیکن بعد کے اقدمات اور پالیسیوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم اس ملک کو نہ تو اسلامی بنا سکے اور نہ ہی جمہوری۔ اس کا سب سے بڑاثبوت یہ ہے کہ ہم یہاں نہ تو مکمل اسلامی نظام نافذ کرسکے ہیں، اور دوسری طرف ملک کا عام آدمی آج بھی ایک ایسے مسیحا کہ تلاش میں ہے جو اس کے دکھوں کا مداوا کرسکے۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے تک قائداعظم کی صحت بہت گرگئی تھی مگر پھر بھی انہوں نے کام جاری رکھا۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ان کو زیارت کے صحت افزا مقام پر لے جائیں کیوں کہ وہاں کی آب و ہوا پھیپھڑوں کی صحت کے لیے اچھی ہے ۔ قائداعظم نے وہاں دو مہینے قیام کیا لیکن صحت تھی کہ مزید بگڑتی گئی اور یہاں تک قائد اعظم کا وزن جو 90 کلو تھا کم ہو کر 50 کلو تک پہنچ گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں کراچی لے چلیں کیونکہ یہاں زیارت میں زیادہ میڈیکل سہولتیں نہیں ہیں اور قائد اعظم ٹی بی اور کینسر جیسی دو موذی بیماریوں کا شکار تھے۔

انہیں ستمبر 1948 میں کوئٹہ سے کراجی لایا گیا اور وہاں تقریباً 40 منٹس تک ایمبولینس کا انتظار ہوتا رہا اور پھر جب اس کے ذریعے قائداعظم کو کراچی ایئرپورٹ سے گورنر ہاؤس منتقل کیا جا رہا تھا تو راستے میں گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا۔ پھر جان لیوا انتظار کے بعد دوسری گاڑی کے ذریعے انہیں گورنر ہاؤس منتقل کیا گیا۔ جب شہر سے ان کی ایمبولینس گزر رہی تھی تو زندگی رواں دواں تھی، لوگ تھے، ٹریفک تھی، مگر کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان محبوب رہنما، ان کو اپنا ملک دینے والا لیڈر، ان کے درمیان سے زندگی اور موت کی کشمکش میں گزر رہا ہے ۔

11 ستمبر 1948 بروز ہفتہ، رات 10 بج کر 20 منٹ اس عظیم قائد نے آخری سانس لی کہ جس کی آمد کے لیے نرگس ہزاروں سال روتی ہے پھر جا کر چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ 

آج ہم نے ہر سرکاری دفتر میں اپنے پیچھے قائد اعظم کی کہیں قد آدم اور کہیں پورٹریٹ لگا رکھے ہیں، لیکن ملک کو چلانے کے لیے ان تعلیمات سے ہمارا دور کا واسطہ تک نہیں ہے۔ وہ کرپشن، اقربا پروری، سفارش ا ور ناانصافی کے جتنے زیادہ خلاف تھے ہم نے تو ان برائیوں کو گویا اپنے ایمان کا حصہ بنا لیا ہے۔ آج کل آئی اے کا زمانہ ہے تو آج کے نام نہاد لیڈر قائد اعظم کے ساتھ اپنی تصویریں اور وڈیوز تک بنوا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں لیکن اگر ہم میں سے کوئی بھی اپنے گریبان میں جھانکے تو اسے پتہ چلے کہ قائداعظم کہاں اور ہم کہاں۔ قائداعظم واقعی قائداعظم تھے۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے ۔ آمین۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
محمد مشتاق ایم اے
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔