جامعہ کراچی کے پروفیسر کو جان سے مارنے کی دھمکی، ملزم کونین کیخلاف ایک اور مقدمہ درج

ملزم نے دھمکی دی کہ اگر مقدمہ واپس نہیں لیا تو تمہیں جان سے مار دوں گا، مدعی مقدمہ کا دعویٰ


اسٹاف رپورٹر September 11, 2026

کراچی:

جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا، سچل تھانے میں مقدمے میں ملزم کونین علی شاہ کو نامزد کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کونین علی شاہ کو ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم نے عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر26/1483 بجرم دفعہ 506 اور 25 ڈی ٹیلی گرافٹ ایکٹ کے تحت سچل تھانے میں درج کر لیا گیا، مقدمہ ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی درج کیا گیا۔

مقدمے میں ملزم کونین علی شاہ ولد علی گوہر شاہ کو نامزد کیا گیا، مدعی مقدمہ پروفیسر عارف خان کے مطابق 8 ستمبر کو میرے اوپر کونین علی شاہ نے اپنے گن مینوں کے ساتھ ملکر تشدد کیا تھا اور اس واقعے کا مقدمہ سچل تھانے میں درج ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق 10 ستمبر کی دوپہر 2 بجے میرے موبائل فون پر واٹس ایپ کال موصول ہوئی، میں نے کال اٹھائی تو کونین علی شاہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف درج مقدمہ واپس لو، میں نے منع کیا تو کونین علی شاہ طیش میں آگیا اور کہا اگر مقدمہ واپس نہیں لیا تو تمہیں جان سے مار دوں گا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں لہٰذا میرا دعویٰ ہے کہ کونین علی شاہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مدعی کے دعوے پر پولیس نے جمعرت کو جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ جمعرات کی شب ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد ملزم کونین علی شاہ کو گرفتار کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کونین علی شاہ کو جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے درج مقدمے میں گرفتار کرکے تفتیش انویسٹی گیشن کے سپرد کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کونین علی شاہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی اور اس کے بھتیجے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ بھی سچل تھانے میں درج ہے تاہم ملزمان نے مذکورہ مقدمے میں عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

دوسری جانب، ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو ٹیلیفون پر دھکمیاں دینے کے مقدمے میں سچل پولیس نے گرفتار ملزم کونین گوہر علی شاہ کو عدالت میں پیش کر دیا۔