کھانے کے بعد سونف چبانا برصغیر کے کئی گھروں میں ایک پرانی روایت ہے، لیکن خوشبودار ان چھوٹے دانوں کا استعمال صرف ذائقے تک محدود نہیں۔ سونف میں متعدد غذائی اجزا اور نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں، جنہیں صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
سونف میں وٹامن سی، وٹامن اے اور غذائی فائبر کے ساتھ پوٹاشیم، مینگنیز، زنک، آئرن اور کیلشیم جیسے معدنی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی سوزش اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھنے والے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔
سونف کو نظامِ ہاضمہ کے لیے خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے ہاضماتی رس اور انزائمز کے اخراج میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اس میں موجود بعض مرکبات پیٹ کے مروڑ، اپھارے اور بدہضمی جیسی شکایات میں آرام پہنچانے میں معاون ہوسکتے ہیں۔ فائبر کی موجودگی آنتوں کی معمول کی حرکت برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
وزن کو متوازن رکھنے کی کوشش کرنے والے افراد بھی سونف کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے بار بار یا ضرورت سے زیادہ کھانے کا رجحان کم ہوسکتا ہے۔ تاہم وزن کم کرنے کے لیے مجموعی غذا اور جسمانی سرگرمی زیادہ اہم عوامل ہیں۔
سونف میں پوٹاشیم کی مناسب مقدار بھی پائی جاتی ہے، جو جسم میں سیال اور تیزاب و اساس کے توازن سمیت دل اور خون کی شریانوں کے معمول کے افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پوٹاشیم خون کی شریانوں کو پھیلانے اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے۔
جلد کے لیے سونف کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی مائکروبیل خصوصیات اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جلد کی صحت اور ظاہری تازگی برقرار رکھنے میں معاونت مل سکتی ہے۔
سونف کو آنکھوں کی صحت کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے، جو معمول کی بینائی کے لیے ضروری غذائی جز ہے۔ سونف میں پایا جانے والا اینتھول بھی اس کے طبی فوائد کے حوالے سے زیرِ بحث رہتا ہے، تاہم موتیا یا آنکھوں کی کسی بیماری سے بچاؤ یا علاج کے دعووں کو حتمی طبی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔