ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے موسم کی پیش گوئی کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ اور گوگل ریسرچ نے ویدر نیکسٹ تھری متعارف کرایا ہے جو عالمی سطح پر موسم کی پیش گوئی کا جدید ماڈل ہے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق زمین کے گرد مدار میں ساکن رہنے والے سیاروں سے براہِ راست حاصل ہونے والی لائیو تصاویر اور حقیقی دنیا میں زمین پر قائم اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے، ویدر نیکسٹ 3 روایتی، سْست اور کمپیوٹنگ کے زیادہ وسائل استعمال کرنے والے عددی تخمینوں پر انحصار ختم کر دیتا ہے۔
اس کے نتیجے میں ایک ایسا عملی نظام سامنے آیا ہے جو دن کے ہر گھنٹے تازہ موسمی پیش گوئی جاری کرتا ہے۔ اس کی مقامی ریزولوشن 5 کلومیٹر تک ہے جو اس کے پیشرو ماڈل کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ واضح اور تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ نظام ہر گھنٹے تازہ پیش گوئی فراہم کرتا ہے، جس سے طوفانوں، موسمی محاذوں اور شدید موسمی حالات کے تیزی سے بدلتے رجحانات میں اہم اضافی وقت میسر آتا ہے۔
انتہائی اعلیٰ ریزولوشن: زمین کے قریب درجہ حرارت اور نمی کی 5 کلومیٹر (0.05) تک جبکہ زمین کے گرد ہواوٴں کی 10 کلومیٹر (0.1) تک پیمائش فراہم کرتا ہے جس سے اُن علاقوں میں بھی اور انتہائی مقامی سطح پر بھی موسم کی درست معلومات حاصل ہوتی ہیں جہاں روایتی طور پر موسم کا ڈیٹا اور سہولیات محدود ہوں بارش کے حوالے سے پیش گوئی میں غیر معمولی درستی: موسم کی پیش گوئی کے حوالے سے روایتی عددی معیاری ماڈلز کے مقابلے میں بارش سے متعلق اہم پیمانوں پر غلطی کے اشاریوں میں 50 فیصد تک کمی کرتا ہے۔ صاف توانائی کے بہتر استعمال میں معاونت: گرڈ آپریٹرز اور صاف توانائی پیدا کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے خصوصی نوعیت کا ڈیٹا فراہم کرتا ہے جن میں 100 میٹر بلند ٹربائن کے لیے اس سطح پر ہوا کی رفتار، مختلف سطحوں پر بادلوں کی موجودگی اور شمسی تابکاری کی شدت شامل ہیں ویدر نیکسٹ 3 پہلے ہی متعارف کرایا جا چکا ہے اور آج سے گوگل سرچ، جیمنائی ، گوگل میپس، گوگل میپس پلیٹ فارم ویدر اے پی آئی اور گوگل ارتھ انجن میں بھی موسم سے متعلق سہولیات کو تقویت دے رہا ہے۔
اس اپ ڈیٹ سے طویل مدتی موسمی پیش گوئیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ایک دن یا اُس سے زیادہ پہلے کی منصوبہ بندی کرتے وقت، لوگوں کو بارش کی پیش گوئی میں 50 فی صد تک زیادہ درستگی نظر آئے گی اور یہ بہتری اُن علاقوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہوگی جہاں ماضی میں موسمی پیش گوئیاں نسبتاً کم قابلِ اعتماد رہی ہیں۔