زیادتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، پشاور ہائی کورٹ

یہ ریپ ایک بچی کے ساتھ ہوا ہو تو پھر اس صورت میں ایسا ملزم انسانیت کے دائرے سے نکل جاتا ہے، سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ


کورٹ رپورٹر September 11, 2026

پشاور:

پشاور(خبرنگار) پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریپ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں اور جب یہ ریپ ایک بچی کے ساتھ ہوا ہو تو پھر اس صورت میں ایسا ملزم انسانیت کے دائرے سے نکل جاتا ہے۔

یہ ریمارکس جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے مردان سے تعلق رکھنے والی سات سالہ بچی کے ریپ کے بعد قتل کرنے کے ملزم اختر حسین کی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کے فیصلے کے دوران دیئے۔

جج نے کہا کہ ایسے ملزم کے ساتھ رحم کرنا یا اسے کسی بھی قسم کی رعایت دینا درست نہیں اور اگر اس کے ساتھ  نرمی کی جائے  تو اس سے معاشرہ بےچینی کا شکار ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اور معاشرہ ایسے عناصر کی سرکوبی کریں جو ہمارے آئندہ نسلوں کے لئے مسائل پیدا کریں گے، اس معاشرے میں بچے بڑوں کو محافظ تصور کرتے ہیں لیکن جب یہ محافظ ان کی عزت لوٹتے ہیں تو پھر وہ انسانیت کے دائرے سے نکل کر وحشی بن جاتے ہیں اور ایسے افراد کو سخت سے سخت سزاء دینا وقت کی ضرورت ہے  اگر ہم ایسے ملزمان کو بے لگام چھوڑ دیں تو معاشرہ مزید تنزلی کی طرف جائے گا۔

ملزم نے 2020ء میں سات سال کی بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا جس پر ماتحت عدالت نے اسے تین بار پھانسی کی سزا سنادی تھی جس کے خلاف ملزم نے اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

اپیل پر تفصیلی فیصلہ آگیا جسے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تحریر کیا ہے جو 34 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے میں فاضل جسٹس نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےچینی اور ریپ جیسے سنگین جرائم میں اضافہ سے متعلق مختلف  وجوہات کا ذکر کیا۔ فیصلے کے مطابق ریپ کے کیسز میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا زیادہ تر شکار بچے بن رہے ہیں مگر بعض اوقات  ملزمان مختلف طریقوں سے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں موجودہ کیس میں ملزم کے وکیل  نے جو دلائل پیش کئے ہیں عدالت ان سے اتفاق نہیں کرتی کیونکہ ایک سات سالہ بچی کا ریپ کرکے اس کے بدن کو نوچ کر پھر قتل کیا گیا ہے اور یہ بھی ایک بچے یا کم عمر نوجوان نے نہیں کیا بلکہ دو بیویوں کے شوہر نے ایسا سنگین جرم کیا ہے اس لئے ایسے لوگ قانون اور مذہب کے نظر میں کسی رعایت کے مستحق نہیں اور اگر عدالتیں اس پر آنکھیں بند کر لے تومعاشرہ تنزلی کی طرف جائے گا۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے مختلف قرانی آیات کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں اس بگاڑ کا ذکر کیا گیا اور معاشرے میں اس قسم کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ معمولی تکنیکی کمزوری کو بنیاد بنا کر ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ جس بندے نے ایک سات سالہ بچی پر رحم نہیں کیا جو اپنی حفاظت تک نہیں کرسکتی تھی تو ایسے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں اور کیوں عدالتیں اور قانون ان کے ساتھ رعایت برتیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے اور جب تک ایسے عناصر کی سرکوبی نہیں ہوتی اور انہیں سزائے نہیں دی جاتی تو ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق اگر قانون پر عمل درآمد کیا جائے تو ایسے افراد کی سرکوبی کی جاسکتی ہے تاہم اگر قانون خاموش تماشائی رہے اور یہ لوگ اس طرح پھرتے رہے تو پھر معاشرے میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں اخلاقی طور پر ریپ جیسے مقدمات میں ملزمان کمزور کو نشانہ بناتے ہیں مگر قانون اس کے لئے ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اس  ہتھیار کے ذریعے ملزمان کو سزا دی جاتی ہے۔

جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے فیصلے میں قرار دیا کہ انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے لیکن جب یہ اشرف المخلوقات  اپنے اصل مقصد ہے ہٹ کر وحشیت کی طرف چلا جائے تو پھر معاشرہ کسی صورت بہتر نہیں ہو سکتا یہاں پر معاشرتی اقدار ہیں  اور اگر ہم اس کو بھول جائیں تو کوئی معاشرہ ترقی نہیں بلکہ پستی کی طرف چلتا جائے گا موجودہ صورت حال میں عدالتوں اور قانون کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملزمان کو ان کے کئے کی سخت سے سخت سزا دی جائے تب ہی یہ معاشرہ آگے بڑھ سکتا ہے اور اگر ان کوکھلا چھوڑ دیا جائے تو مزید تباہی  ہو گی جو کسی مہذب  معاشرے کیلئے تباہ کن ہے۔

فیصلے میں سات سالہ بچی کے اس وقت کی کیفیت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جب وہ اس ملزم کے سامنے چیخی ہوگی اور چلائی ہوگی مگر مجرم نے بڑی بےدردی کے ساتھ پہلے اس کا ریپ کیا اور باقاعدہ طور پر اسے قتل کیا اور عدالت میں اقبال جرم کرچکا ہے جس میں مجسٹریٹ نے اس کو باقاعدہ موقع دیا اور جب ملزم اس حد تک چلا جائے اور اپنے اوپر اقبال جرم بھی کرلے تو پھر قانون کو سخت سے سخت راہ اختیار کرنے ہوگی۔ فیصلے کے مطابق عدالتیں ایسے امور پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی کیونکہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی تو پھر اس حالات میں بہتری آنے کی کوئی امید نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کو دی گئی تین بار سزائے موت ایک درست فیصلہ ہے اور ہائی کورٹ نہیں سمجھتی کہ اس میں کسی بھی قسم کی رعایت کر کے یہ سزا کم یا ختم کی جائے ملزم کو اپنے کئے کی سزا بھگتنا ہوگی کیونکہ وہ اخلاقی طور پر پستی میں چلا گیا تھا اور انہوں نے وہ کام کیا ہے جس کی مثال کم ملتی ہے ایک سات سالہ بچی کے ساتھ ریپ اور اس کے بعد اس کا قتل اگر ایک طرف اس کے خاندان کے لئے بے چینی اور بےسکونی کا سبب ہے تو دوسری جانب اس نے معاشرے کو بھی جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے ایسے واقعات پر قابو پانے کے لئے عدالتوں اور قانون کو مزید سخت رویہ اپنا ہوگا۔

عدالت نے ملزم کی اپیل  مسترد کرتے ہوئے  تین بار پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔