برطانیہ کی پی ٹی خاتون ٹیچر 30 سالہ برون وین جیمز اس سے قبل بھی دو نوعمر طالبات کے ساتھ 9 جنسی جرائم کا بھی اعتراف بھی کرچکی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی عدالت ونچسٹر کراؤن کورٹ نے مذکورہ خاتون ٹیچر کو ایک 16 سالہ طالب علم کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے کے 3 جرائم میں مجرم قرار دے دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ جیمز نے 16 سالہ طالب علم کے ساتھ سوشل میڈیا ایپ اسنیپ چیٹ پر رابطہ قائم کیا اور دونوں کے درمیان ایک ’دل لگی بھرے‘ تعلقات کی صورت پیدا ہوئی۔
استغاثہ نے بتایا کہ خاتون ٹیچر نے لڑکے سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ کہیں دور چلا جائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون ٹیچر نے اپنے گھر میں تقریباً تین یا چار مرتبہ طالبعلم کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔
متاثرہ نوجوان نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس وقت لگتا تھا کہ ٹیچر واقعی اس کی پروا کرتی ہے تاہم بعد میں اسے احساس ہوا کہ یہ سب غلط تھا۔
خاتون ٹیچر جیمز نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ لڑکے نے ’کول‘ دکھائی دینے کے لیے یہ الزامات گھڑے ہیں۔
جیوری نے تینوں الزامات پر 11 کے مقابلے میں ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا جبکہ اسی لڑکے کے ساتھ جنسی استحصال کے ایک چوتھے الزام سے خاتون ٹیچر کو باعزت بری کردیا گیا۔
خیال رہے کہ مذکورہ خاتون ٹیچر نے رواں برس جنوری میں دو دیگر نوعمر طالبات کے ساتھ 9 بار جنسی جرائم کا اعتراف بھی کیا تھا۔
ان میں ایک ساؤتھمپٹن کے بٹرن پارک اسکول جبکہ دوسری چپپنہم کے ہارڈن ہُوش اسکول میں زیر تعلیم تھی۔
ان جرائم میں طالبات کے ساتھ جنسی سرگرمی کے 6، بچے کے ساتھ جنسی نوعیت کی گفتگو کے 2 اور بچے کی نامناسب تصاویر بنانے کا ایک جرم شامل تھا۔
’شکاری رویے کا مسلسل نمونہ‘
سینئر کراؤن پراسیکیوٹر بیتھنی ایڈمز نے کہا کہ ٹیچر برون وین جیمز کو بچوں کی تعلیم اور حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن اس نے اپنے منصب کا اعتماد استعمال کرتے ہوئے تین طلبہ کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق جیمز نے اپنی اتھارٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متاثرہ بچوں کو الگ تھلگ کیا اور انہیں ایسے رویے کا عادی بنانے کی کوشش کی جسے معمول سمجھا جائے۔
پراسیکیوٹر نے اس معاملے کو محض غلط فیصلہ نہیں بلکہ بچوں کے خلاف مسلسل شکاری رویے کا نمونہ قرار دیا۔
برطانوی بچوں کے تحفظ کے ادارے این ایس پی سی سی نے بھی کہا کہ جیمز نے اعتماد کے منصب کا غلط استعمال کیا، جہاں اسے بچوں کی مدد، حفاظت اور تعلیم کی ذمہ داری ادا کرنا تھی۔
جیمز کو فیصلہ سنائے جانے کے بعد فوری طور پر جیل نہیں بھیجا گیا بلکہ جج نے اسے پاسپورٹ جمع کرانے اور الیکٹرانک ٹیگ کے ذریعے نگرانی کا حکم دیا۔ اسے پیر کے روز جیل منتقل کیا جائے گا، جہاں سزا سنانے کی کارروائی ہوگی۔