ملازمت ضرور کیجیے مگر جال میں مت پھنسئے

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایسے ملازمتی اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں جن میں لکھا جاتا ہے کہ اگر آپ پراعتماد ہیں ، گریجویٹ ہے


وسعت اللہ خان September 12, 2026

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایسے ملازمتی اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں جن میں لکھا جاتا ہے کہ اگر آپ پراعتماد ہیں ، گریجویٹ ہے ، آن لائن کام کی شد بد رکھتے ہیں اور انگریزی پر بھی عبور ہے تو پھر دیر کس بات کی۔ابھی آن لائن فارم بھرئیے ، ایک شاندار تنخواہ اور سنہرا مستقبل آپ کا منتظر ہے۔ویزہ کا حصول اور فلائٹ ہمارے ذمے۔

اگر میں اور آپ عرصے سے روزگار کی تلاش میں جوتیاں چٹخا چٹخا کر مایوس ہو چکے ہیں ، آس پاس کے لوگوں اور رشتے داروں کے طعنے سہہ سہہ کر پک چکے ہیں یا لمبے عرصے سے ایسی کسی جاب کی تلاش میں ہیں جو آپ کے خیال میں آپ کی قابلیت و صلاحیت کے ہم پلہ ہو تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ ایسی کسی بھی آن لائن روزگاری پیش کش پر یہ جانے بغیر لپک لیں گے کہ یہ واقعی جینوئن آفر ہے یا پھر ایسا جال ہے جس میں پھنس کر آپ انسانی اسمگلروں اور آپ کی صلاحیتوں کے خون پر خود کو پالنے والے کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں۔

عین ممکن ہے کہ جس ملازمت کے سحر میں آپ خود کو جکڑ چکے ہیں اس کا وجود ہی نہ ہو۔جب آپ بتائی گئی منزل پر اتریں تو آپ سے پاسپورٹ لے لیا جائے۔آپ کو ایک ایسے کمپاؤنڈ میں لے جایا جائے جہاں آپ کو کسی آن لائن فراڈ نظام کا ایک کل پرزہ بنا دیا جائے۔ سخت پہرے کے سبب آپ بھاگنے کا سوچ بھی نہ سکیں اور کوشش کرتے ہوئے پکڑے جائیں تو شدید تشدد کا نشانہ بنیں۔

وہاں آپ کا کام بس یہ ہو گا کہ چکنی چپڑی باتوں ، غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے ہزاروں میل دور بیٹھے سادہ لوح اجنبیوں سے دوستی گانٹھیں ، ضرورت پڑے تو محبت کا ڈرامہ رچائیں ، شکار کی مالی حیثیت کا اندازہ لگائیں اور پھر اسے ڈجیٹل فراڈ کے ذریعے کنگلہ کر دیں۔آپ جتنے زیادہ لوگوں سے رقم اینٹھیں گے اتنی ہی واہ واہ ہو گی۔ٹارگٹ پورا نہیں ہو گا تو آپ کو بطور سزا بھوکا بھی رکھا جا سکتا ہے اور قیدِ تنہائی میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔یعنی اب آپ ایک غلام ہیں۔

اگر آپ ہر صورت میں آزاد ہو کر گھر لوٹنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے مالک کی مرضی ہے کہ وہ کتنا تاوان لے کر آپ کو چھوڑنے پر تیار ہے۔وہ آپ کے اہلِ خانہ اور جاننے والوں سے رابطہ کر کے آپ کی آزادی کی قیمت لگائے گا۔بھلے یہ پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے آپ کے گھر والوں کو اپنی املاک اور کھیت ہی کیوں نہ بیچنا پڑ جائیں یا بھاری قرض اٹھانا پڑ جائے۔

آپ کے مجرم باس کی دونوں طرف سے چاندی ہے۔یعنی آپ کی ٹیکنالوجی میں مہارت کے ذریعے وہ جبراً آپ کو معصوم عورتوں اور مردوں کو لوٹنے کی خاطر استعمال کر رہا ہے اور آپ کو آزاد کرنے کے لیے آپ کے خاندان سے بھاری رقم بھی اینٹھ رہا ہے ۔

اس وقت لگ بھگ اسی ممالک کے تقریباً تین لاکھ باصلاحیت نوجوان ایسے خرکار عقوبت خانوں میں پھنس چکے ہیں۔ زیادہ تر عقوبت خانے کمپوچیا اور میانمار سمیت کئی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں مقامی اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے قائم ہیں۔صرف ایشیائی ممالک کے لوگوں کو اس فراڈ انڈسٹری کے ذریعے گذشتہ برس لگ بھگ ایک سو چودہ ارب ڈالر سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اتنی بڑی جرائم پیشہ صنعت مقامی اہلکاروں سے ساز باز کے بغیر نہیں پنپ سکتی۔یہ سارا فراڈی کاروبار گلوبل ہے۔اگر ایک جگہ اس کے خلاف کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو یہ راتوں رات کسی اور جگہ نمودار ہو جاتا ہے۔

سرکاریں اگر اس جرم کا تعاقب کرتی بھی ہیں تو نیم دلانہ اور غیر مربوط انداز سے۔ہر محکمہ دوسرے محکمے سے بے خبر اپنے اپنے دائرے میں گھوم رہا ہوتا ہے۔ مثلاً لیبر ڈپارٹمنٹ کی توجہ صرف بلالائسنس ریکروٹنگ ایجنٹوں کا سراغ لگانے پر ہوتی ہے۔امیگریشن والے مشکوک اور غیر مشکوک مسافروں کے بارے میں اندازہ لگاتے رہ جاتے ہیں۔پولیس کی نظر صرف آن لائن فراڈ کے متاثرین کی شکایات تک ہی ہوتی ہے۔سفارت خانے بیرونِ ملک پھنس جانے والے شہریوں کی مدد تک محدود ہوتے ہیں۔چالاک جرائم پیشہ گروہ مختلف محکموں کے درمیان اس عدم رابطے کے بیچ میں سے اکثر آسانی سے راستہ بنا لیتے ہیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کے مطابق ان خامیوں پر قابو پانے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ محکمے ایک مستقل رابطہ جاتی لڑی میں پروئے جائیں تاکہ بروقت بلارکاوٹ معلومات کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔سرکاری سطح پر ایسا میکنزم تشکیل دیا جائے جو بیرونِ ملک ملازمت کے جھانسوں ، ریکروٹرز ، متاثرین کو دئیے جانے والے کنٹریکٹس کی اصلیت اور ویزوں کے مشکوک اجرا کی چھان پھٹک کر سکے۔مگر یہ کام بین الریاستی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

 اس مسئلے کی بیخ کنی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منسلک ٹیک کمپنیوں کا تعاون بھی ضروری ہے تاکہ انکا ایلگورتھم سسٹم ان پلیٹ فارمز پر مشکوک روزگاری اشتہارات کو بلاک کر سکے اور عوام الناس کی آگہی کے اعلانات کو اپنے پلیٹ فارمز پر زیادہ سے زیادہ جگہ دیں۔بین الاقوامی تعاون اس معاملے میں اب تک اس لیے زیادہ موثر نہیں کیونکہ اربوں ڈالر کی اس فراڈ انڈسٹری میں بہت سے بااختیاروں کو صرف اپنے فائدے سے مطلب ہے۔

ایمی پوپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ جبراً اس فراڈ انڈسٹری کا کل پرزہ بننے پر مجبور کیے گئے انھیں مجرم سمجھنے کے بجائے ہیومین ٹریفکنگ کے متاثرین سمجھا جائے اور ایسے فراڈز کی روک تھام کے لیے ان کے تلخ تجربات سے مدد لی جائے۔یوں نہ ہو کہ وہ ایک مصیبت سے نجات پا کر جب واپس لوٹیں تو انھیں اپنے ہی ملک میں ایک اور گرفتاری یا مقدمے کا سامنا ہو۔ان متاثرین کو مزید سزا کی نہیں بلکہ نفسیاتی و طبی کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ جائز طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

نوجوانوں کو بھی روزگار کی ہر پیش کش کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے کے بجائے دل سے زیادہ دماغ کی سننے کی ضرورت ہے۔کسی جال سے بچنے کے لیے اس کی باریکیوں پر تھوڑا سا دھیان دینا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔جینوئن کمپنیاں یا ادارے اپنے ملازمتی اشتہارات میں وہ پتہ اور رابطہ نمبر لکھتے ہیں جس کی کوئی بھی تصدیق کر سکے۔اس پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ ملازمت کی تفصیل اور کنٹریکٹ گول مول نہ ہو بلکہ اس میں کام کی نوعیت اور مدت وغیرہ واضح طور پر درج ہو اور ویزہ اسی کیٹیگری کا ہو جو مشتہر ملازمت کے لیے ضروری ہے ( اگر ملازمتی ویزہ سیاحت ، عمرے یا زیارات وغیرہ کی کیٹیگری کا ہے تو فوراً ٹھٹک جائیں )۔

کوئی ریکروٹر اگر فوری طور پر آپ سے ملازمت جوائن کرنے کا مطالبہ کرے تو یہ بھی سوچئے کہ اسے غیر معمولی عجلت کیوں ہے۔اور وہ آخر آپ کو اتنی غیر معمولی تنخواہ اور مراعات کی پیش کش کیوں کر رہا ہے جو اسی طرح کی جاب کی ہم پلہ مارکیٹ سے دوگنی، تگنی یا چوگنی ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)