راولپنڈی؛ وارڈن کی موجودگی میں وکیل کا موٹرسائیکل سوار پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر نوٹس

موٹرسائیکل سوار پر ہاتھ اٹھانے والے وکیل کی جانب سے سوشل میڈیا پر وضاحت بھی آگئی اورکہا کہ واقعے کو غلط رنگ دیا گیا


صالح مغل September 12, 2026
فوٹو: اسکرین گریب

سی ٹی او راولپنڈی نے صدر کے علاقے میں لگژری گاڑی میں سوار وکیل کی جانب سے پولیس وارڈن کی موجودگی میں موٹرسائیکل سوار پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے وارڈن کو شوکاز نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا اور وکیل کا ردعمل بھی آگیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعہ راولپنڈی کی علاقے صدر میں موٹر سائیکل سوار کی جانب سے اوپر تلے مختلف اوقات میں گاڑی سے ٹکرانے پر پیش آیا اور ویڈیو میں ڈیوٹی ختم کرکے واپس پولیس لائن جاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار وارڈن کو بھی دیکھا جاسکتا ہے، گاڑی سوار جو وکیل بتایا جاتا ہے موٹر سائیکل سوار پر ہاتھ اٹھاتے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم نے نوٹس لیا اور شاہراہ پر دو فریقین کے مابین بدسلوکی دیکھنے کے باوجود ضلعی پولیس کو اطلاع نہ کرنے پر ی وارڈن کو شوکاز نوٹس جاری  کرکے جواب طلب کرلیا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بظاہر موٹرسائیکل سوار سے بدسلوکی کرنے والے وکیل کا بھی سوشل میڈیا پر مؤقف سامنے آگیا ہے، مہران اعجاز انور  چوہدری ایڈووکیٹ کی جانب سے فیس بک پر  تحریر کیا گیا کہ گزشتہ رات سے ایک ویڈیو اصل حقائق و واقعات کے برعکس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ویڈیو میں مجھے ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ ردعمل کے طور پر غصے کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے، میں اپنی فیملی بچوں کے ساتھ ان کے اسکول کی ضروریات کی چیزیں لینے صدر گیا، گاڑی حیدر روڈ پر پارک تھی، واپس گاڑی میں بیٹھا، بچے گاڑی میں سوار ہو رہے تھے تو پیچھے سے ایک موٹرسائیکل سوار تیز رفتاری میں آیا اور موٹرسائیکل سوار نے جس دروازے سے بچے سوار ہو رہے تھے اور ادھر زور دار ٹکر ماری۔

وکیل نے بتایا کہ میں نے بچوں کو سنبھالا، موٹر سائیکل سوار بجائے رکنے کے بھاگ گیا،کچھ ہی دیر میں حیدر چوک رش کی وجہ سے ٹریفک میں ہماری گاڑی کھڑی تھی کہ وہی موٹر سائیکل سوار جو راستے بند ہونے کی وجہ سے پھر اسی روڈ پر رانگ سائیڈ سے آیا اور گاڑی کو دوبارہ آگے سے ٹکر ماری اور اس دفعہ بھی رکنے کے بجائے پھر بھاگ گیا۔

انہوں نے کہا کہ وہاں موجود ٹریفک وارڈن بھی یہ سب دیکھ رہا تھا، اسے کہا کہ اس موٹر سائیکل سوار کو روکیں، جس کے پیچھے وہ ٹریفک وارڈن بھی گیا اور ہم بھی ساتھ ہی پہنچ گئے، موٹر سائیکل سوار کو روکنے کے بعد اس کی غفلت و لاپرواہی پر استفسار کیا لیکن بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے اس نے بدتمیزی شروع کر دی۔

مہران اعجاز انور چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ گاڑی میں بچے سوار ہو رہے تھے، تمھاری بے احتیاطی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے بچوں کا یا میرا نقصان ہو سکتا تھا، جس پر اس نے اشتعال انگیز بدتمیزی کی تاہم باوجود نقصان کے صلہ رحمی کرتے ہوئے بغیر کسی قانونی کارروائی کے ان کو موقع سے جانے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی یک طرفہ ویڈیو کو حقائق کے برعکس سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، دنیاوی نقصان ایک طرف لیکن مذکورہ شخص نے اپنی غفلت و لاپرواہی سے قانون شکنی کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ میری اور میرے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بدتمیزی اور بدتہذیبی کرتے ہوئے اشتعال انگیز رویہ روا رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر میرا مؤقف لیے بغیر جن اکاؤنٹس نے ویڈیو لگائی یا شیئر کی انہوں نے زیادتی کی ہے، کسی کا مؤقف لیے بغیر نہ صرف اس کی بلکہ اس کے پیشے کی ہتک کرنا اور اس کی ویڈیو اس طرح وائرل کرنا غير مناسب ہے اور صرف اتنا کہوں گا کہ یہ ناخوش گوار واقعہ وقوع پذیر نہیں ہونا چاہیے تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے میں ٹریفک وارڈن کا اتنا رول ہے کہ ڈیوٹی آف کرکے جاتے ہوئے سڑک پر ٹریفک دیکھ کر دونون فریقین اور گاڑیوں کو سائیڈ پر کرایا، واقعے کے بعد  فریقین نے معاملہ آپس میں سلجھا  لیا اور موقع سے چلے گئے، موٹر سائیکل سوار کی جانب سے بھی  کسی قسم کی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع نہیں کیاگیا۔