ابھی تک اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے اور عام لوگوں اور سیاسی کارکنوں تک کو اس حوالے سے بہت ہی کم معلومات پہنچ پائی ہے۔ جب کوئی شخص جو کسی نظریہ کا پیروکار ہوتا ہے مگر جب وہ اسی نظریے کے اندر اپنے خیالات کو حتمی منوا لے اور لوگوں کا ایک گروہ اس کا ہمنوا ہوجائے تو یہ گروہ ’’نظریاتی فرقہ‘‘ بن جاتا ہے اور اس نظریاتی فرقے کا سربراہ گرو بن جاتا اور اس کا فرقہ اسے حتمی ثابت کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرتا ہے جس میں سب سے بڑا ہتھیار ’’تشدد‘‘ہوتا ہے۔
نظریاتی فرقے بنتے کس طرح ہیں؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ دراصل کوئی شخص جب کسی ایسے ماحول کا حصہ بنتا ہے جہاں مخصوص نظریاتی تعلیم/اسٹڈی سرکل ہوتے ہیں تو وہاں دی گئی تربیت کے نتیجے میں ان کی سوچ کا دائرہ اسی نظریے کو حتمی اور سچ مان کر اس کی ترویج پر آمادہ ہوجاتا ہے اور وہ اس گروہ کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
اب وہ اپنے دماغ کے بجائے اپنے نظریے کے بانیان کے نقطہ نظر اور افکار سے سوچتا ہے۔ تو شروع کرتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام میں نظریاتی فرقوں سے۔ سرمایہ داری نظام (Capitalism) بظاہر آزاد منڈی اور منافع پر مبنی معاشی ڈھانچہ ہے، لیکن اس کے اندر بھی حکومت کے کردار، ٹیکسوں کے نظام، اور انفرادی آزادیوں کی حدود پر شدید نظریاتی فرقہ واریت اور فکری تصادم پایا جاتا ہے۔سرمایہ داری نظام کے اندر پائے جانے والے بڑے نظریاتی مکاتبِ فکر/فرقے درج ذیل ہیں۔
1۔ کلاسیکی سرمایہ داری (Classical Capitalism)اس فکری مکتب کی بنیاد ایڈم اسمتھ نے اٹھارہویں صدی میں رکھی۔بنیادی نظریہ: منڈی کو کسی مداخلت کے بغیر آزاد چھوڑ دیا جائے، جسے انھوں نے ’’لائسیز فیئر‘‘(Laissez-faire) کہا۔طرزِ عمل: ان کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کے اندر ایک غیبی ہاتھ (Invisible Hand) ہوتا ہے جو طلب اور رسد (Demand & Supply) کو خودبخود متوازن رکھتا ہے۔ حکومت کا کام صرف سرحدوں کی حفاظت اور قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے، معیشت چلانا نہیں۔
2۔ کینزیان معیشت (Keynesian Economics)یہ مکتب فکر کے عظیم معاشی بحران (Great Depression) کے بعد برطانوی ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز کے نظریات سے ابھرا۔بنیادی نظریہ: مارکیٹ ہمیشہ خود کو ٹھیک نہیں کر سکتی۔ بحران کے وقت حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے۔طرزِ عمل: ان کا ماننا ہے کہ جب معیشت مندی کا شکار ہو، تو حکومت کو خود بھاری سرمایہ کاری کرنی چاہیے، نوکریاں پیدا کرنی چاہئیں اور عوام کی قوتِ خرید بڑھانی چاہیے تاکہ منڈی دوبارہ چل سکے۔ موجودہ دور کی زیادہ تر مغربی حکومتیں بحران کے وقت اسی نظریے پر عمل کرتی ہیں۔
3۔ مانیٹرزم / شکاگو اسکول (Monetarism / Chicago School)اس فرقے کے سب سے بڑے رہنما ملٹن فریڈمین تھے۔ یہ کینزیان معیشت کے سخت ترین مخالف ہیں۔بنیادی نظریہ: معیشت میں حکومت کی ضرورت سے زیادہ مداخلت اور نوٹ چھاپنا ہی تمام برائیوں (جیسے مہنگائی) کی جڑ ہے۔طرزِ عمل: ان کا ماننا ہے کہ حکومت کا معیشت میں صرف ایک ہی کام ہے۔ مرکزی بینک کے ذریعے مارکیٹ میں پیسے کی فراہمی (Money Supply) کو کنٹرول کرنا۔ باقی تمام ادارے (یہاں تک کہ تعلیم اور صحت بھی) نجی شعبے کے حوالے کر دیے جائیں۔
4۔ نو لبرل ازم (Neoliberalism)یہ 1980کی دہائی میں امریکی صدر رونالڈ ریگن اور برطانوی وزیر ِ اعظم مارگریٹ تھیچر کے دور میں دنیا کا سب سے طاقتور سرمایہ دارانہ فرقہ بن کر ابھرا۔بنیادی نظریہ: عالمی تجارت کی مکمل آزادی، نجکاری (Privatization) اور کارپوریشنز پر سے ٹیکسوں اور پابندیوں کا خاتمہ۔طرزِ عمل: یہ فرقہ ’’ڈاؤن سائزنگ‘‘ (سرکاری ملازمین کی چھانٹی) اور سماجی بہبود (Welfare) کے فنڈز میں کٹوتی کا حامی ہے تاکہ کاروباری طبقے کو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا موقع ملے۔
عالمی بینک (World Bank) اور آئی ایم ایف (IMF) اسی نظریے کے تحت کام کرتے ہیں۔5۔ لبرٹیرین ازم اور اینارکو-کیپیٹل ازم (Libertarianism)یہ سرمایہ داری نظام کا سب سے انتہا پسند اور کٹر فرقہ ہے۔
بنیادی نظریہ: فرد کی آزادی مطلق ہے اور حکومت ایک ’’ڈاکو‘‘ ہے جو ٹیکس کے نام پر زبردستی لوگوں کی دولت چھینتی ہے۔طرزِ عمل : یہ ہر قسم کے انکم ٹیکس کے خاتمے اور پولیس، عدالتوں، حتیٰ کہ سڑکوں تک کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔
کمیونسٹ فرقوں کی طرح یہ لوگ ایک دوسرے کو قتل تو نہیں کرتے، لیکن ان کی نظریاتی جنگ مغربی ممالک کی سیاست کا مرکز ہے۔
امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی عام طور پر کینزیان معیشت (حکومتی مداخلت اور ویلفیئر) کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے،جب کہ ریپبلکن پارٹی نو لبرل ازم اور مانیٹرزم (کم ٹیکس، آزاد مارکیٹ) کی کٹر حامی ہے، اور ان دونوں کے درمیان پالیسیوں پر شدید ترین سیاسی جنگ رہتی ہے ۔
کمیونزم (Communism) کے نظریاتی فرقے، بظاہر یہ ایک غیر مذہبی اور مادی فلسفہ ہے، لیکن اس کی تاریخ میں نظریاتی فرقہ واریت، عدم برداشت کا رجحان زیادہ شدید رہا ہے۔ کارل مارکس کے بنیادی نظریات کے بعد، انقلاب لانے کے طریقوں اور طاقت کے استعمال پر کمیونسٹ تحریک کئی متصادم اور کٹر فرقوں میں تقسیم ہو گئی۔
کمیونزم کے بڑے نظریاتی فرقے اور ان کے اختلافات درج ذیل ہیں۔1۔ مارکسزم-لینن ازم (Marxism-Leninism) یہ کمیونزم کا سب سے بڑا اور روایتی دھارا ہے جس کی بنیاد ولادیمیر لینن نے سوویت یونین کے قیام کے وقت رکھی۔
بنیادی نظریہ: کارل مارکس کا خیال تھا کہ انقلاب خودبخود صنعتی ممالک کے مزدوروں کے ذریعے آئے گا۔ لینن نے اس میں تبدیلی کی کہ مزدور خود انقلاب نہیں لا سکتے، بلکہ ایک انتہائی منظم اور کٹر انقلابیوں کی جماعت (Vanguard Party) کی ضرورت ہے جو زبردستی اقتدار پر قبضہ کرے گی۔
2۔ اسٹالن ازم (Stalinism) لینن کی وفات کے بعد جوزف اسٹالن کے دور میں یہ طرزِ فکر ابھرا۔بنیادی نظریہ: اس کا بنیادی اصول تھا ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ (Socialism in One Country)۔ یعنی عالمی انقلاب کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے صرف سوویت یونین کو مضبوط کیا جائے۔