مصنوعی منشیات

رپورٹ کے مطابق منشیات کی منڈی پہلے سے بھی زیادہ متنوع اور خطرناک ہو گئی ہے


شہلا اعجاز September 13, 2026

عمر انتالیس سال، شکل خوب صورت، ادائیں دل فریب، لوگوں میں مقبول اور جانی پہچانی وہ خاتون جس کا نام ہے سارہ خلیفہ، مصری ٹی وی چینل کی ایک اینکر ہے۔ اس اینکر کو عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

آخر اس خوب صورت خاتون کا جرم کیا ہے؟ قتل یا کچھ اور۔۔۔ لیکن یہ جان کر سخت حیرت ہوئی کہ وہ موصوفہ منشیات بنانے والے اجزا کی امپورٹ میں ملوث تھی، ان کا تعلق ایک ایسے گروہ سے تھا جو یہ کام کرتا تھا، ان کے پاس غیر قانونی آتشیں اسلحہ بھی تھا۔

سارہ خلیفہ کا ایک پروگرام ’’مشن امپاسبل‘‘ بہت مقبول تھا، یہ پروگرام جرائم سے متعلق تھا جس میں مختلف مجرمانہ مقدموں جو مختلف موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ سارہ خلیفہ کے اس طرح کے پروگرام پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز سے بھی نشر ہوتے رہتے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اینکر خود مجرموں سے تعلق جوڑ لے۔

یہ کہانی کیسے آگے بڑھی سارہ کس طرح خود ایک کہانی کا حصہ بنیں، کون جانتا ہے، لیکن قانون کا طاقت ور شکنجہ انھیں جکڑ چکا ہے۔ اس جرم میں ان کے ساتھ گیارہ افراد بھی شامل تھے جو اب عدالت کے حتمی پروانے کے منتظر ہیں۔ مصر کے بڑے مفتی سے مذہبی رائے جاننے کے بعد ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا اور تاحال یہ فیصلہ جوں کا توں قائم ہے۔

مصنوعی منشیات کی تیاری کے لیے درآمد اجزا جو قریباً سات سو پچاس کلو گرام تفتیش کے دوران ضبط کر لیا گیا تھا، یہ مواد ان اپارٹمنٹس سے ملے جنھیں منشیات کی لیبارٹریز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ سارہ خلیفہ اپنے تمام جرائم سے انکاری ہیں لیکن شواہد گواہوں کے بیانات اور ڈیجیٹل شواہد کے مطابق سارہ خلیفہ کا اس گروپ سے تعلق اور سرگرمیوں کا ثبوت ملتا ہے۔

مصر میں ریپ، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور قتل جیسے جرائم جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہوں، سزائے موت برقرار ہے۔

آخر یہ مصنوعی منشیات ہیں کیا؟ مصنوعی منشیات ایک خطرناک نشے کی جانب اشارہ کرتا ہے جسے کیمیائی اجزا سے تجربہ گاہوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ یہ قدرتی نشہ آور جیسے چرس، افیون کی طرح نہیں ہوتی۔ قدرتی منشیات سے زیادہ انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے استعمال سے انسان کے حواس معطل ہو جاتے ہیں جس میں آئس یا کرسٹل میتھ جو پاؤڈر یا نشے کے ٹکڑوں جیسا ہوتا ہے، اس کے علاوہ مصنوعی چرس اور ایم ڈی ایم اے وغیرہ یہ منشیات اس قدر خطرناک ہوتی ہیں کہ پہلی بار ہی جو اس کا مزہ چکھ لے پھر اس سے دامن چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان تجربہ گاہوں میں کیمیائی مواد کے تناسب کا بھی کوئی باقاعدہ فارمولا نہیں لہٰذا یہ انسان کو فوری طور پر موت کے گھاٹ بھی اتار دیتا ہے کیونکہ کسی خطرناک کیمیا کے بڑھنے یا کم ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔

مصنوعی منشیات کے بننے میں جن کیمیکلز کے استعمال پر پابندی لگی ہو، اگر وہ باآسانی کسی اثر و رسوخ والی شخصیت کی بدولت فراہم ہو رہی ہو اور اس کا فائدہ سونے چاندی کے ڈھیر سے بھی بڑھ کر ہو تو آنکھیں تو خیرہ ہو جاتی ہیں ،یہ جانے بغیر کہ ان کے ذرا سے فائدے یا خواہشات کے سمندر میں ڈبکی لگانے سے کتنی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 33 کروڑ دس لاکھ افراد نے کسی نہ کسی طرح منشیات استعمال کیں۔ ان کی عمریں پندرہ سے چونسٹھ سال کے درمیان یعنی عالمی آبادی کا 6.2 فی صد ہے۔ ایک دہائی قبل یہ شرح 5.2 فی صد تھی۔

رپورٹ کے مطابق منشیات کی منڈی پہلے سے بھی زیادہ متنوع اور خطرناک ہو گئی ہے، بیشتر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون سی منشیات استعمال کر رہے ہیں اور امدادی کارکن بھی یہ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح کی ڈرگز کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں۔

2022 میں افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد ہیروئن کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اب منشیات فروش مصنوعی افیون خرید رہے ہیں۔ یہ مختلف کیمیائی عوامل سے بنی اور مراحل سے گزری منشیات زیادہ طاقتور اور مہلک ہیں۔

جدید ترین طریقوں اور کیمیائی عوامل سے حاصل شدہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے بھی جدید انداز اپنائے گئے ہیں۔ زہر کے سوداگروں کی رسائی دور تک ہے جو نشان دہی کر رہی ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں اور کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ اب انسان کو منشیات سے بھی ہتھیاروں کی مانند نمٹنا پڑے گا۔ اس بات کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ 2021 میں شمالی امریکا میں سنتھیٹک افیون سے ہونے والی اموات ستر ہزار سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔

مصنوعی منشیات کے بننے میں اس وقت تیزی دیکھی گئی جب تین سال قبل افغانستان میں افیون کی کاشت پر پابندی عائد کی گئی ،اس قدرتی افیون کی کاشت کو روکنے اور تباہ کرنے کے عمل کے دوران مصنوعی طور پر منشیات کی پیداوار کو پسندیدہ قرار دیا گیا جو بننے میں آسان اور مقدار میں بھی اضافہ شامل تھا گویا چھوٹی سی ڈبیا میں بڑا سا اونٹ ہی نہیں بلکہ پورا قافلہ شامل تھا۔

دنیا اب مصنوعی منشیات کے اس طوفان سے پریشان ہے، آیندہ آنے والی نسلوں میں اس رجحان کو کیسے روکا جائے؟ یہ ایک بڑا اہم سوال ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدام کرنے چاہئیں یا ہو رہے ہیں اور اگر فائدہ مند ہیں تو اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بدقسمتی سے دنیا بھر کی طرح ہمارے ملک میں بھی منشیات کے عادی افراد کھلے عام اپنے شوق پورے کرتے سرکاری اور غیر سرکاری اشیا و املاک کو نقصان پہنچاتے گھوم رہے ہیں کیونکہ اپنے نشے کی خاطر انھیں زہر کے سوداگروں کا پیٹ بھرنا ہی پڑتا ہے، بس اس پیٹ پر ہاتھ ڈال دیں پھر دیکھیں۔