بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) صادق راہی،
6 ستمبر آتے ہی ہر پاکستانی کے ذہن میں 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے مناظر تازہ ہوجاتے ہیں جب سرحد پر کھڑے فوجی جوان کے پیچھے 12 کروڑ پاکستانیوں کا حوصلہ موجود تھا۔ اس جنگ نے ہمیں ایک بنیادی حقیقت سکھائی: قوم متحد ہو تو مشکلات کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ان پر کامیابی کے ساتھ قابو بھی پایا جا سکتا ہے اور فتح و نصرت آپ کے قدم چومتی ھے۔ جنگ ستمبر کے تقریباً ساٹھ برس بعد مئی 2025ء میں معرکہ حق نے اسی حقیقت کو ایک نئے انداز اور نئے زاویے سے ثابت کیا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ جنگ اب صرف توپ، ٹینک اور طیاروں کی نہیں رہی تھی۔ ڈرونز، پرسین ویپن، ایر ڈیفنس، الیکٹرانک وار فیر ، سرویلینس اور انفارمیشن وار فیر بھی میدانِ جنگ کا حصہ بن چکے تھے۔ لیکن پاکستانی قوم کا جذبہ وہی تھا۔ 1965ء میں بھی قوم افواج کے ساتھ کھڑی تھی، 2025ء میں بھی۔ یہی تسلسل 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کے سفر کو سمجھنے کی بہترین کنجی ہے۔
معرکہ حق: دفاع کا نیا اعتماد
بھارت کے آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کیا۔ پاکستان نے بھارتی عسکری اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ، بھارتی جنگی طیاروں بشمول رافیل کو تباہ کرنے کے پاکستانی داعوں کی نہ صرف بین الاقوامی رپورٹنگ ھوی بلکہ توثیق اور تاید بھی۔ پاکستان کے لیے اصل سبق کسی مخصوص عدد سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ اپنی خود مختاری کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے اس سے بھی اہم یہ کہ پاک بھارت جنگ نے ایک بار پھر قوم اور افواج کے درمیان اعتماد کو نمایاں کیا۔ اور یہی اعتماد پاکستان کا سب سے قیمتی / اَسٹرٹیجک اثاثہ ھے
اب جنگ کا مقصد بدلنا ہوگا
لیکن کیا ایک قوم ہمیشہ جنگ کی یادوں سے آگے نہیں بڑھتی؟ یقیناً بڑھتی ہے۔ مگر جنگ سے حاصل ہونے والے قومی اعتماد کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ جس ڈسپلن، پلاننگ کوارڈنیشن اور مجموعی جرات کا مظاہرہ دفاعی محاذ پر ہوتا ہے، وہی خوبیاں قومی ترقی کے ہر شعبے میں درکار ہیں۔ ہمیں اب معیشت کا معرکہ، تعلیم کا معرکہ، روزگار کا معرکہ، ٹیکنالوجی کا معرکہ، صنعت کا معرکہ اور اچھی حکمرانی کا معرکہ جیتنا ہے۔
پاکستان کا سفارتی قدکاٹھ
مئی 2025ء کے بعد پاکستان کی دفاعی ساکھ نے اسے سفارتی میدان میں بھی زیادہ اعتماد دیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025ء میں سٹرٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کیا۔ پھر 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جواینٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سیاسی و عسکری کوارڈینیشن، مشترکہ مشقوں اور سایبر، اے آی، ڈرونز، الیکٹرانک وار فیر اور دفاعی پیداوار میں تعاون کی نئی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ محض ایک فوجی معاہدہ نہیں۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ پاکستان اب علاقائی سلامتی کے نقشے ( architecture security) کی تشکیل میں بھی شریک ہے۔
پاکستان کی طاقت کا دوسرا رخ سفارت کاری ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان 2026ء کے بحران میں پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر مذاکرات اور مفاہمت میں کردار ادا کیا۔ معاہدہ بعد میں مشکلات کا شکار ہوا، لیکن پاکستان کا ثالث کے طور پر کردار ایک اہم سفارتی کامیابی اور ایم۔ پیش رفت ثابت ہوئی یہ پاکستان کی نئی فارن پالیسی کی شناخت کا حصہ بن سکتا ہے: مضبوط بھی، متوازن بھی۔
افغانستان: اب ابہام نہیں
پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ مگر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرسکتا۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے اسلام آباد کا پیغام واضح ہونا چاہیے۔ افغان عوام ہمارے بھائی ہیں؛ دہشت گرد تنظیمیں نہیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی قومی سلامتی کی قیمت پر نہیں۔ اب اصل کامیابی معیشت ہوگی دفاعی کامیابی قوم کو تحفظ دیتی ہے۔ سفارتی کامیابی ملک کو موثر بنا دیتی ہے۔ لیکن معاشی کامیابی قوم کو خوش حالی دیتی ہے۔ یہی اب پاکستان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ اس مقصد کے لئے سرمایہ کاری، منرلز، آی ٹی، ایکسپورٹ، انرجی اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں کو محض منصوبوں کی فہرست نہیں بلکہ ایک مربوط قومی اکنامک سٹرٹیجی بنانا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ آئے، صنعت لگائے، روزگار پیدا کرے اور برآمدات بڑھیں۔ ہمیں اپنے نوجوان کو سب سے بڑی نیشنل ریسورس سمجھنا ہوگا۔
پاکستان ایک عظیم منزل ہے۔دنیا پاکستان کو ابھی پوری طرح نہیں جانتی۔یہاں ہمالیہ اور قراقرم کی بلندیاں ہیں۔سندھ کے صحراؤں کی وسعت ہے۔گوادر کے ساحل ہیں۔موہنجودڑو اور گندھارا کی تہذیب ہے۔لاہور کا مغلیہ ورثہ ہے۔ملتان اور سندھ کی صوفی روایت ہے۔اور پاکستانی کھانے اور پاکستانی مہمان نوازی کا اپنا ایک جادو ہے۔ ایک غیر ملکی سیاح نے حال ہی میں اپنے پسندیدہ ملک، پسندیدہ کھانے اور دنیا کے بہترین لوگوں کے بارے میں کئے گئے تین سوالوں کے جواب میں کہا: پاکستان۔ پاکستانی کھانے اور پاکستانی لوگ۔ ہمیں اسی سافٹ پاور کو معاشی قوت میں بدلنا ہوگا۔ پاکستان صرف سیاحتی منزل یا ڈیسٹی نیشن نہیں؛ انویسٹمنٹ ڈیسٹی نیشن بھی بن سکتا ہے۔
79 برس کا اصل سبق آزادی صرف سرحد کی حفاظت کا نام نہیں۔ آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ قوم اپنے فیصلے خود کرے، اپنی معیشت مضبوط کرے، اپنے بچوں کو تعلیم دے، اپنے نوجوانوں کو روزگار دے اور اپنے اداروں کو مضبوط بنائے۔ 6 ستمبر کا جذبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوم جب متحد ہوجائے تو بڑی سے بڑی مشکل کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ اب ہمیں اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ 1965ء میں ہم نے پاکستان کا دفاع کیا۔2025ء میں ہم نے پاکستان کی دفاعی قوت کا اظہار کیا۔اب 2026ء اور اس کے بعد ہمیں پاکستان کی تعمیر کرنی ہے۔ یہی یوم دفاع پاکستان اور پاکستان کے 79ویں آزادی کا اصل پیغام ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل ہیں۔ پاکستان کے پاس نوجوان ہیں۔ پاکستان کے پاس جغرافیہ ہے۔ پاکستان کے پاس دفاعی طاقت ہے۔ پاکستان کے پاس سفارتی مواقع ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے پاس لوگ ہیں جو مشکل وقت میں کھڑے ہونا جانتے ہیں۔ اب صرف یہ طے کرنا ہے کہ کیا ہم امن اور ترقی کے میدان میں بھی اسی طرح متحد ہو سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو پاکستان واقعی ایک عظیم منزل بن سکتا ہے۔n