کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سیکٹر 7-D میں گھر سے خاتون اور دو بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ ایک بچی زخمی حالت میں ملی جسے اسپتال منتقل کیا تھا، پولیس نے مقتولہ کے شوہر کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق تمام افراد کو تیز دھار آلے کے وار سے نشانہ بنایا گیا، جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 34 سالہ مہوش، 6 سالہ حرہا اور 5 سالہ حنین کے نام سے ہوئی ہے جبکہ 18 ماہ کی بچی اشمیرہ کو شدید زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا مگر دوران علاج دم توڑ گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق خاتون بچوں کی والدہ تھی۔
ایس ایچ او سرجانی پولیس ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ لاشوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ویسٹ سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے پولیس کو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے اور حقائق جلد سامنے لانے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے مقتولہ کے پڑوسیوں کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے، جبکہ مذید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جاں بحق افراد کی شناخت اور موت کی وجوہات کے حوالے سے تمام قانونی کارروائی مکمل کی جائے جبکہ ملوث عناصر کے بارے میں شواہد ملنے پر فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے تحقیقات میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے اور پیش رفت سے آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سخت نوٹس لیا اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن میں چھریوں کے وار سے معصوم بچوں اور خاتون کا قتل انتہائی دردناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے پولیس کو واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔