محنت اور کوشش جاری رکھو اور فٹنس کا خیال رکھنا، انگلش کپتان جو روٹ نے رضا اللہ کو مفید مشوروں سے نواز دیا۔
ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے نوجوان کرکٹر کے مطابق میچ کے بعد انگلش کپتان خاص طور پر ان سے ملاقات کیلیے آئے اور حوصلہ بڑھایا۔
’ایکسپریس‘ کو برمنگھم سے خصوصی انٹرویو میں رضا اللہ نے کہا کہ عالمی سطح کے کھلاڑی سے اس طرح کی پذیرائی ملنا میرے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث بنی، روٹ نے میری کارکردگی کو سراہا۔
رضا اللہ نے اپنے سفر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز بڑے بھائی کے ساتھ کیا، وہ مجھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر گراؤنڈ لے کر جاتے تھے، 2019 میں ہارڈ بال کرکٹ شروع کی، اس سے قبل اور اس دوران ٹیپ بال سے بھی کھیلتا رہا۔
2022 میں انڈر 19 کے ٹرائلز دیے لیکن اس وقت انتخاب نہ ہوسکا، میں نے ہمت نہیں ہاری اور اگلے سال دوبارہ ٹرائلز میں حصہ لیا۔
رضا اللہ نے کہا 2023 میں مجھے ضلع کی ٹیم میں جگہ ملی، پھر ریجن کی نمائندگی کا موقع ملا، 2025 میں پشاور کی جانب سے مہمان پلیئر کے طور پر کھیلنے کا موقع ملا اور وہاں سنچری اور ففٹی بھی بنائی۔ اس کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں کارکردگی نمایاں رہی اور اننگز میں 3 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
رضا اللہ نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی کارکردگی نے مجھے مزید اعتماد دیا اور میں اسی دوران بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی مسلسل بہتری لانے کی کوشش کرتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ والدین ہمیشہ میرے لیے دعا کرتے رہے، میں اپنے بھائیوں، دوستوں اور خاص طور پر کوچز کا شکرگزار ہوں جنھوں نے پوری زندگی ساتھ دیا، حوصلہ بڑھایا اور کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔
مسلسل محنت کرکے ایک مکمل آل راؤنڈر بننا چاہتا ہوں
رضا اللہ نے کہا کہ میں خود کو صرف فاسٹ بولر تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں مسلسل محنت کرکے ایک مکمل آل راؤنڈر بننا چاہتا ہوں۔
رضا اللہ نے کہا کہ اچانک اتنی توجہ اور کامیابیاں ملنا کسی خواب سے کم نہیں تاہم میں اس تمام صورتحال کو اپنی ذات کا کمال نہیں سمجھتا، سب اللہ تعالیٰ کی مرضی اور فضل سے ہوتا ہے، اس لیے میں شکر ادا کرنے کے ساتھ محنت جاری رکھنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں میدان میں اپنی کرکٹ سے بھرپور لطف اندوز ہوتا اور ہر میچ کو ایک نیا تجربہ سمجھتا ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ روزانہ کسی نہ کسی سے کچھ نیا سیکھوں اور خامیوں کو دور کرتے ہوئے کھیل میں بہتری لاؤں۔
شہرت اپنی جگہ لیکن اصل توجہ کرکٹ پر ہی رہنی چاہیے
رضا اللہ نے کہا کہ کامیابی کے بعد ملنے والی شہرت اپنی جگہ لیکن اصل توجہ کرکٹ پر ہی رہنی چاہیے، ابھی میرا سفر شروع ہوا ہے اور مجھے مستقبل میں بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔
انگلینڈ کے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے ملنے والی پذیرائی کو رضا اللہ نے اپنے لیے بڑا حوصلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح کے پلیئرز کی طرف سے کارکردگی کو سراہا جانا خوشی کے ساتھ مزید محنت کی ترغیب بھی دلاتا ہے، میری خواہش ہے کہ پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاؤں، قومی ٹیم کو زیادہ سے زیادہ میچز جتواؤں۔
ملک کے لیے کھیلنا میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہونے کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے، میں آنے والے وقت میں ملنے والے ہر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور کارکردگی میں مسلسل بہتری لانے کی کوشش کروں گا۔
رات کو بورڈ آفیشل کی کال مس کردی صبح ٹیم میں شمولیت کا علم ہوا
رضا اللہ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ روانگی سے قبل میں تقریبا 2 ماہ کیمپ میں مصروف رہا، اس کے بعد چیمپئنز کپ میں گولڈ ٹیم کا حصہ بنا، پھر گھر واپس چلا گیا۔
ایک رات تقریبا 12 یا 2 بجے پی سی بی سے کال آئی، میں سو رہا تھا اس لیے مس کر گیا، صبح نماز فجر کے وقت مسجد جانے کے لیے اٹھا تو موبائل پر مس کالز دیکھیں، مجھے فوری طور پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا، میں نے ایسا ہی کیا، اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کھیلنے کے لیے بلایا جا رہا ہے، میرے ذہن میں یہی تھا کہ شاید ایشین گیمز کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کے حوالے سے بات ہوگی، اکیڈمی پہنچنے پر بتایا گیا کہ میں ٹیسٹ میچ کھیلنے انگلینڈ جا رہا ہوں۔
یہ سننے کے بعد میں نے مزید دعا کی اور خود کو مقابلے کے لیے تیار کرنا شروع کردیا، وہاں پہنچنے کے بعد میچ میں شامل کیے جانے کا علم بھی صرف ایک روز قبل ہوا، کپتان بابر اعظم اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اس حوالے سے بتایا، پھر میری تمام توجہ میچ کی تیاری پر مرکوز ہوگئی۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاسپورٹ ایک سال پہلے ہی بن چکا تھا۔
جو روٹ کی پہلی وکٹ حاصل کرنا انتہائی یادگار لمحہ رہا
تجربہ کار انگلش بیٹر جو روٹ کی پہلی وکٹ حاصل کرنے کو رضا اللہ نے انتہائی یادگار لمحہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے لمحے سے میں نے بھرپور لطف اٹھایا، مستقبل میں بھی اپنی کرکٹ سے اسی انداز میں لطف اندوز ہونے کی کوشش کروں گا۔
نوجوان فاسٹ بولر نے بتایا کہ چار وکٹیں حاصل کرنے کے باوجود رنز کچھ زیادہ ضرور دے دیے تھے، میں اس پہلو کو بہتر بنانے کی کوشش کروں گا تاہم مجھےاس پر زیادہ افسوس نہیں، میں نے اپنی طرف سے 100 فیصد کوشش کی اور آئندہ اس تجربے سے سیکھتے ہوئے مزید بہتر کارکردگی کی کوشش کروں گا۔
پہلے اور دوسرے دن کی بولنگ اسپیڈ میں اتنا زیادہ فرق نہیں تھا
رضا اللہ نے کہا کہ پہلے اور دوسرے دن کی بولنگ اسپیڈ میں اتنا زیادہ فرق نہیں تھا جتنا محسوس کیا گیا، پہلے روز رفتار تقریبا 144 سے 145 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، دوسرے روز 143 سے 144 کی اسپیڈ سے بھی بولنگ کی، بعد میں چند گیندوں کی رفتار 138 کلومیٹرکے قریب بھی رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے روز 8 جبکہ دوسرے دن 14 اوورز کیے، مسلسل بولنگ کے باعث جسمانی تھکن فطری بات ہے، اس کے باوجود میں نے اپنی طرف سے رفتار اور کارکردگی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
بیٹنگ کرتے ہوئے صرف قدرتی انداز میں کھیلنے کا سوچا
اپنی یادگار اننگز کے حوالے سے رضا اللہ نے کہا کہ جب میں میدان میں اترا تو میچ تقریباً اختتامی مرحلے میں تھا، میرے ذہن میں صرف یہی بات تھی کہ اپنے قدرتی انداز کے مطابق کھیلتے ہوئے کچھ کردار ادا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیٹنگ پر بھی مسلسل کام کر رہا ہوں، مستقبل میں موقع ملنے پر بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں موثر کارکردگی دکھانے کا خواہشمند ہوں۔
سنچری کے قریب پہنچ کر آؤٹ ہونے کے سوال پر رضا اللہ نے کہا کہ مستقبل میں مجھے سنچری کے بہت سے مواقع ملیں گے اور میں ان سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کروں گا، میں اپنی بیٹنگ کو بھی اسی سنجیدگی سے بہتر بنا رہا ہوں جس طرح بولنگ پر کام کرتا ہوں۔
اپنے آئیڈیل بولر وقار یونس سے اب تک ملاقات نہیں ہوئی
رضا اللہ نے کہا کہ میں کسی ایک کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل نہیں سمجھتا بلکہ مختلف کرکٹرز کو دیکھ کر ان کی اچھی چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، بولنگ میں سابق پاکستانی عظیم فاسٹ بولر وقار یونس میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں، ان کی بولنگ اور اسٹائل سے میں متاثر ہیں ، فاسٹ بولنگ کے شعبے میں ان سے بہت کچھ سیکھنے کی خواہش ہے۔
رضا اللہ نے دلچسپ انکشاف کیا کہ پسندیدہ فاسٹ بولر ہونے کے باوجود اب تک ان کی وقار یونس سے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انھیں سابق کپتان کی جانب سے اچھی کارکردگی دکھانے کے بعد کوئی پیغام موصول ہوا۔