مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اب کسی ایک محاذ کی خبر نہیں رہی، یہ ایک ایسا پھیلتا ہوا سایہ بن چکی ہے جو نقشے پر سرحدوں سے زیادہ عالمی معیشت، سمندری راستوں اور سفارتی امکانات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
یمن کے پہاڑوں سے اٹھنے والا دھواں بحیرہ احمر، خلیج عمان اور آبنائے ہرمز تک پہنچ چکا ہے، ڈرون اور میزائل اب صرف فوجی تنصیبات کو نہیں، عالمی تجارت کے اعتماد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کا اجلاس محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور علاقائی جنگوں کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں سمجھا جاسکتا۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایس سی او ریٹس کے 46ویں اجلاس میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف تعاون، معلوماتی ڈھانچے کی بہتری، مشترکہ کارروائیوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے شدت پسند مقاصد کی روک تھام جیسے امور پر اتفاق ہوا۔ 2027 میں مشترکہ معلوماتی کارروائی اور عملی انسدادِ دہشت گردی مشق کا فیصلہ اس امر کا اعتراف ہے کہ آج کا دہشت گرد محض کسی پہاڑی غار، سرحدی پٹی یا خفیہ ٹھکانے میں نہیں بیٹھا،وہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی موجود ہے، جہاں ایک پیغام، ایک ویڈیو یا ایک خفیہ نیٹ ورک بسا اوقات سیکڑوں میل دور بیٹھے افراد کو ایک ہی مقصد کے لیے متحرک کرسکتا ہے۔یہ پیش رفت پاکستان کے لیے اہم ہے، مگر اس کی اصل اہمیت اجلاس کی میزبانی سے کہیں آگے ہے۔
پاکستان خود کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے انسانی، معاشی اور سیاسی نقصانات بھگت چکا ہے۔ چنانچہ اگر اسلام آباد علاقائی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے موثر نظام کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ محض سفارتی تشخص کا معاملہ نہیں، قومی سلامتی کے وسیع تر مفاد سے جڑا ہوا عمل ہے۔ تاہم اس تعاون کی کامیابی کا انحصار اعلامیوں، ورکنگ گروپس اور کانفرنسوں کی تعداد پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوگا کہ رکن ممالک حساس معلومات کتنی بروقت اور قابلِ اعتماد انداز میں ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں، سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کتنی عملی یکسوئی دکھاتے ہیں اور سیاسی اختلافات کے باوجود سلامتی کے مشترکہ مفاد کو کس حد تک مقدم رکھتے ہیں۔
یہ آخری نکتہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایس سی او ایک ایسے خطے کی تنظیم ہے جہاں رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد مکمل طور پر ہموار نہیں۔ ایک ہی میز پر بیٹھنے والے ممالک کے درمیان سیاسی، سرحدی اور تزویراتی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف تعاون کا دروازہ کھلا رکھنا اس تنظیم کی ضرورت بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر اختلافات کو سلامتی کے بنیادی تقاضوں پر غالب آنے دیا گیا تو مشترکہ معلوماتی نظام بھی محض رسمی ڈھانچہ بن جائے گا، لیکن اگر کم از کم ان خطرات پر اتفاق پیدا کیا جاسکے جو کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں تو ایس سی او ایک زیادہ موثر علاقائی حفاظتی بندوبست کی بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔
اسی تناظر میں اجلاس میں ایران پر نئے حملوں کی مذمت، ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور کشیدگی کم کرنے کی حمایت خاص توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقف اصولی بھی ہے اور جغرافیائی حقیقت سے پیدا ہونے والی ضرورت بھی۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، خلیج پاکستان کی معاشی زندگی سے جڑی ہوئی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے تصادم کے اثرات تیل کی قیمتوں سے لے کر سمندری تجارت، ترسیلِ زر اور داخلی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا اسلام آباد کا جنگ کے بجائے کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور دینا محض الفاظ نہیں، قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ ادھر یمن کی صورت حال بتا رہی ہے کہ علاقائی تنازعات کس طرح ایک دوسرے میں سرایت کرتے ہیں۔
حوثیوں کی کارروائیوں میں تیزی، یمنی محاذ پر جوابی پیش قدمی، سعودی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے، فضائی حملوں کے دعوے اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات ایک ایسے سلسلے کی کڑیاں ہیں جس میں ہر فریق اپنے اقدام کو دفاع، جواب یا مزاحمت کا نام دے سکتا ہے، مگر نتیجہ بہرحال عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ یمن کا المیہ یہ ہے کہ مقامی سیاسی تنازع اب علاقائی طاقتوں کے باہمی مقابلے اور عالمی تزویراتی مفادات کا میدان بن چکا ہے۔سب سے تشویش ناک پہلو سمندری راستوں کی سلامتی ہے۔ ہرمز کے قریب بارودی سرنگ سے سپر ٹینکر میں آگ لگنا اور عمانی ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملہ محض الگ الگ واقعات نہیں سمجھے جانے چاہئیں۔ عالمی تجارت سمندر کے راستوں پر اعتماد کی محتاج ہے۔
جب جہاز رانی کو ہر سفر میں میزائل، ڈرون، بارودی سرنگ یا کسی نامعلوم حملے کا خطرہ لاحق ہوجائے تو انشورنس کی لاگت بڑھتی ہے، جہازوں کے راستے تبدیل ہوتے ہیں، ترسیل کا وقت بڑھتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ صارفین اور درآمدی معیشتوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسا ملک، جو اپنی توانائی اور متعدد بنیادی اشیا کے لیے بیرونی دنیا سے وابستہ ہے، اس صورت حال سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی رابطے کی ہر کوشش کو جنگی بیان بازی سے زیادہ اہمیت ملنی چاہیے۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ طاقتور ترین عسکری قوتیں بھی بالآخر مذاکرات کی ضرورت سے فرار نہیں ہوسکتیں۔
سوال یہ نہیں کہ کون میدانِ جنگ میں کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا سیاسی راستہ نکالا جاسکتا ہے جس میں فریقین کو اپنی سلامتی کا احساس بھی ہو اور خطے کو مستقل جنگ سے نجات بھی ملے۔یمن کے معاملے میں براہِ راست حوثی رابطوں کا امریکی اعتراف بھی اس بدلتی ہوئی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جن قوتوں کو کل تک صرف عسکری دباؤ سے زیر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی، آج انھی سے کسی نہ کسی سطح پر بات چیت ضروری سمجھی جارہی ہے۔
اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سفارت کاری کو کمزوری سمجھنے کی روش آخرکار بحران کو طول دیتی ہے۔ مذاکرات کا مطلب کسی فریق کے تمام مطالبات تسلیم کرنا نہیں، بلکہ تنازع کو ایسے مقام پر لے آنا ہے جہاں بندوق کی زبان کی جگہ سیاسی مفاہمت لے سکے۔پاکستان کو اسی مقام پر اپنی سفارت کاری کی معنویت ثابت کرنا ہوگی۔ اسلام آباد کو کسی ایک طاقت کے کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے علاقائی امن کے ایک قابلِ اعتماد، اصولی اور متوازن داعی کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کرنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ ہمسائیگی، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تزویراتی روابط اور ایس سی او میں فعال کردار پاکستان کو ایک ایسا سفارتی مقام دیتے ہیں جس سے وہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی وقتی بیانات کے بجائے مستقل حکمتِ عملی پر استوار ہو۔
ایس سی او ریٹس کی صدارت روس کو منتقل ہونا بھی اسی وسیع تناظر میں اہم ہے۔ روس کو بڑی طاقت کے طور پر تنظیم کے آیندہ مرحلے کی ذمے داری مل رہی ہے۔ پاکستان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی موجودہ صدارت کے دوران شروع کیے گئے عملی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے روس کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے۔ مشترکہ معلوماتی نظام، سائبر اسپیس میں انتہاپسندی کی روک تھام اور عملی مشقیں اگر کاغذی کارروائی سے آگے بڑھیں تو یہ تعاون خطے کی سلامتی کے لیے حقیقی قدر پیدا کرسکتا ہے۔
تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے محض سیکیورٹی اداروں کے زاویے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ انتہاپسندی کا سدباب صرف نگرانی، گرفتاری اور فوجی کارروائی سے ممکن نہیں۔ جب تک نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار، سیاسی شرکت اور باعزت مستقبل کے مواقع پیدا نہیں ہوں گے، تشدد پسند نظریات کے لیے زمین مکمل طور پر خشک نہیں ہوگی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شدت پسند مواد کو روکنا ضروری ہے، مگر اس سے زیادہ ضروری یہ سمجھنا ہے کہ وہ مواد بعض معاشروں میں پذیرائی کیوں حاصل کرتا ہے۔ ریاستی طاقت خطرے کو دبا سکتی ہے؛ پائیدار امن کے لیے معاشرتی اعتماد پیدا کرنا پڑتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران اور اسلام آباد میں ہونے والی علاقائی انسدادِ دہشت گردی کانفرنس بظاہر دو مختلف خبریں ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک گہرا ربط موجود ہے۔
دونوں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ آج سلامتی سرحدوں کے اندر بند تصور نہیں کی جاسکتی۔ ایک ملک کی جنگ دوسرے ملک کی معیشت کو متاثر کرسکتی ہے، ایک گروہ کی ڈیجیٹل سرگرمی کئی ریاستوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور ایک سمندری حملہ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بدل سکتا ہے۔
پاکستان کو اس بدلتی ہوئی دنیا میں صرف بحرانوں کا ردعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ بحرانوں کی روک تھام میں حصہ لینے والی ریاست بننا ہوگا۔ اس کے لیے سفارت کاری میں تسلسل، سلامتی تعاون میں عملی پن، اقتصادی پالیسی میں دوراندیشی اور داخلی سطح پر انتہاپسندی کے خلاف جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ جنگیں میزائلوں سے شروع ہوسکتی ہیں، مگر ان کا اختتام عموماً مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ دانش مندی یہی ہے کہ میز تک پہنچنے کے لیے مزید لاشوں اور تباہ شدہ شہروں کا انتظار نہ کیا جائے۔
اسلام آباد کا حالیہ اجلاس اس سمت ایک موقع فراہم کرتا ہے، اگر پاکستان علاقائی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی، معلوماتی تعاون اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی سفارتی گنجائش استعمال کرتا ہے تو اس کی آواز محض ایک رکن ریاست کی آواز نہیں رہے گی۔ یہ اس خطے کی آواز بن سکتی ہے جو طویل جنگوں، دہشت گردی اور عدم استحکام سے تھک چکا ہے اور جسے اب فتح کے نعروں سے زیادہ امن کے قابلِ عمل راستے درکار ہیں۔