واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرلی ہے، جس میں صدر سے ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے اور امریکی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے یہ تیسری مرتبہ ہے کہ صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرارداد کی منظوری میں ڈیموکریٹس کے ساتھ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی۔
یہ ووٹنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹ ارکان نے اسے ایران جنگ کے حوالے سے اپنی اب تک کی اہم ترین کوشش قرار دیا ہے۔
قرارداد کی منظوری کے باوجود اس کے عملی طور پر نافذ ہونے کے لیے سینیٹ کے مرحلے سمیت مزید آئینی اور قانونی مراحل درکار ہوں گے۔ اس سے قبل بھی ایران جنگ کے معاملے پر کانگریس میں صدر کے اختیارات محدود کرنے کی کوششیں سامنے آچکی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کی مالی لاگت بھی امریکی سیاست میں زیر بحث ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق اگست 2026 تک جنگ پر امریکا کے تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے اور اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔