پیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور بھی بے نتیجہ، پیشرفت نہ ہوسکی

حکومتی کمیٹی نے ایک بار پھر مہلت مانگ لی، جماعت اسلامی کا پالیسی ریٹ میں تین فیصد کمی کا بھی مطالبہ


ویب ڈیسک September 16, 2026
فوٹو: فائل

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے حوالے سے مذاکرات کا چوتھا دور بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا اور کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہوا جس میں جماعت اسلامی کمیٹی کی قیادت لیاقت بلوچ نے کی،

جماعت اسلامی کے وفد میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان، ضیاءالدین انصاری ایڈووکیٹ اور نوید علی بیگ شامل تھے،

حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی جبکہ ٹیم میں رانا ثناءاللہ خان، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل ہیں۔

جماعت اسلامی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ لیاقت بلوچ میڈیا سے گفتگو 

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی کمیٹی کے سربراہ لیاقت بلوچ نے کہا کہ  جماعت اسلامی اور حکومت کے مذاکرات پنجاب ہاؤس میں ہوئے اور یہ مذاکرات کا چوتھا دور تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے مہنگائی سے نجات کے لئے مسلسل جدوجہد شروع کر رکھی ہے، جماعت اسلامی نے احتجاج کا راستہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ آئی پی پیز پر بھی حکومت کہتی رہی کہ عالمی معاہدوں کی موجودگی میں کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت بھی ہم نے تکنیکی بنیادوں پر ثابت کیا تھا کہ بات ہوسکتی ہے، کل ٹاسک فورس کے سربراہ جنرل ظفر نے تسلیم کیا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کا موقف درست تھا۔ پیٹرولیم بھتہ لیوی پر بھی احتجاج جاری ہے جبکہ 45 مقامات پر دھرنے دیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے واضح کہہ دیا ہے کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہو گا، ہم نے یہ نہیں کہا کہ آپ آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکل جائیں بلکہ دیگر تجاویز دی ہیں، پالیسی ریٹ تین فیصد کم کرنے سے سیکڑوں ارب کی بچت ہوگی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ پانچ ریفائنریز کو بغیر وجہ کے منافع دیا جا رہا ہے، ہم نے کہا ہے کہ جو وزارتیں صوبوِں کو جا چکیں وہ وفاق میں کیوں موجود ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بلیک میل کرنے کے لیے عوم کو ریلیف سے محروم کیا جا رہا یے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کا دھندا بن گیا ہے۔

جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ بنیادی مسئلہ بیڈ گوننس اور حکومت کے اللوں تللوں کا ہے، ہم نے تمام چیزیں دلائل کے ساتھ پیش کی ہیں۔ لیاقت بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے کل تک کا وقت لیا ہے۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز 7 ستمبر کو ہوا تھا جبکہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کی صورت میں 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی 20 لیٹر پیٹرول پر وزیر اعظم کے 100 روپے فی لیٹر ریلیف کو مسترد کردیا ہے جبکہ ملک بھر میں پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے 31 روز سے دھرنے جاری ہیں۔