موبائل فون چوری کے علاوہ دیگر جرائم میں کمی ہوئی، امن و امان کنٹرول میں ہے، آئی جی سندھ

فریال تالپور کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سندھ کا اجلاس، بلوچستان سے سندھ منشیات لائے جانے کا انکشاف


محمد سلیم جھنڈیر September 16, 2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر )انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ صوبے میں موبائل فون چوری کے علاوہ دیگر تمام سیکٹرز میں بہتری آئی ہے اور امن و امان کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرپرسن فریال تالپور کی زیر صدارت ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ اجلاس میں منشیات کے مسئلے پر تفصیلی غور ہوا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ منشیات بلوچستان سے سندھ آتی ہے اور وہاں منشیات کی فیکٹریاں قائم ہوگئی ہیں، جس کو روکنا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں آئی جی بلوچستان سے رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے اور بلوچستان اور سندھ حکومت آپس میں بھی اس معاملے پر بات کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے رواں برس منشیات کے 9 ہزار کیسز پکڑے ہیں اور گزشتہ شب ایک بہت بڑے منشیات فروش کو مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ انمول پنکی کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈاکٹر سمیعہ کو ملنے والی دھمکیوں کی معلومات لی ہیں، جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ تاہم مذکورہ مقدمہ کمیشن میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر مزید بات نہیں کروں گا۔

سرجانی ٹاؤن واقعے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واقعے کا نوٹس لے لیا ہے، ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ اسی طرح وکیل کی جانب سے پولیس اہلکار پر تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

کھپرو کے علی حسن چانہیو کے معاملے پر آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ وہ اغوا نہیں ہوئے تھے بلکہ لین دین کے معاملے پر انہیں حبس بے جا میں رکھا گیا تھا، تمام ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔