پاکستان کی جانب سے ایشین گیمز کے لیے بھیجے گئے دستے میں ثنا عارف کی کہانی خاصی متاثر کن ہے جنہوں نے صرف پانچ سال قبل 2021 میں تیراکی سیکھنا شروع کی تھی اور اب جاپان میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔
کویت میں پیدا ہونے والی اور لاہور میں پرورش پانے والی ثنا 2007 میں دوبارہ کویت منتقل ہوگئی تھیں۔ انہیں کھیلوں میں ہمیشہ دلچسپی رہی، تاہم تیراکی ان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھی اور انہوں نے 2021 میں اسے سیکھنا شروع کیا۔
صرف دو سال بعد 2023 میں انہوں نے ترکی میں اپنا پہلا آئرن مین 70.3 مکمل کیا، جس میں 1.9 کلومیٹر تیراکی، 90 کلومیٹر سائیکلنگ اور 21.1 کلومیٹر دوڑ شامل ہوتی ہے۔ وہ اب تک تین آئرن مین 70.3 مقابلے مکمل کرچکی ہیں۔
کویت میں ٹریننگ کے دوران بھی انہیں سخت موسم کا سامنا رہا، جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجاتا ہے۔ ثنا اس سے قبل بتا چکی ہیں کہ وہ ٹریننگ کے لیے صبح 4 بجے بھی اٹھتی رہی ہیں۔
ایشین گیمز تک کیسے پہنچیں؟
2026 میں پاکستان نے ایشین گیمز کے لیے ٹرائیتھلون ٹیم کی تیاری شروع کی تو ثنا کو ٹرائلز کے لیے بلایا گیا۔ تیراکی، سائیکلنگ اور دوڑ میں انفرادی طور پر ان سے زیادہ تیز ایتھلیٹس بھی موجود تھے، تاہم ٹرائیتھلون میں تینوں کھیلوں کو ملا کر کارکردگی دکھانا ہوتی ہے۔
ثنا نے ٹرائلز میں اپنی جگہ بنائی اور اب جاپان میں پاکستان کی چار رکنی ٹرائیتھلون ٹیم کا حصہ ہیں۔ ٹیم میں ثنا کے علاوہ انیشا، محید صادق لون اور محمد مستغیث نور شامل ہیں۔
ایشین گیمز میں خواتین کا انفرادی ٹرائیتھلون مقابلہ 20 ستمبر کو گاماگوری سٹی ٹرائیتھلون وینیو میں ہوگا جس میں 750 میٹر تیراکی، 20 کلومیٹر سائیکلنگ اور 5 کلومیٹر دوڑ شامل ہے۔
ثنا کے لیے یہ سفر ایک پرانے خواب کی واپسی بھی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل انہوں نے ایک دوست سے پوچھا تھا کہ اولمپکس میں کیسے حصہ لیا جاسکتا ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہ خواہش پس منظر میں چلی گئی۔
بعد میں ٹرائیتھلون، ایشین گیمز کے ٹرائلز اور قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے موقع نے انہیں دوبارہ اسی خواب کے قریب پہنچا دیا۔
جاپان میں انہیں ایشیا کی بہترین ٹرائیتھلون ایتھلیٹس کا سامنا ہوگا اور وہ خود بھی مقابلے کی سختی سے آگاہ ہیں۔ تاہم 2021 میں تیراکی سیکھنے کے صرف پانچ سال بعد ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔