مکہ معاہدہ… وعدہ فردا کا منتظر

امریکا ایران جنگ کا دائرہ پھیلتا ہوا مشرق وسطیٰ کے امن کو تہہ و بالا کر رہا ہے۔


ایم جے گوہر September 17, 2026

امریکا ایران جنگ کا دائرہ پھیلتا ہوا مشرق وسطیٰ کے امن کو تہہ و بالا کر رہا ہے۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اور حوثیوں کے حملوں نے جنگ کی شدت کو مہمیز کر دیا ہے۔ امریکا اور ایران ایک دوسرے پر وقفے وقفے سے حملے کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز جنگ کا نیا میدان بنی ہوئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایران بھی ہرمز پر اپنے کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے جنگی کارروائیاں کر رہا ہے۔ دونوں ممالک معاہدہ اسلام آباد کو نظرانداز کرکے ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات، آئل ٹینکروں، تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنا رہے ہیں جس سے پوری دنیا میں توانائی کے شعبے میں تیل کی کمیابی سے بحران پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

تیل کی عالمی منڈیوں میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکا ہے، اگر امریکا ایران جنگ مزید جاری رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ تیل سے جڑی تمام معاشی واقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی اور مہنگائی و گرانی کا ایک عالمی طوفان برپا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال جنگ روکنے اور اسلام آباد امن معاہدے کی اس کی روح کے مطابق پاسداری کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ اگرچہ پاکستان اپنا ثالثی کردار احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے تمام سفارتی ذرائع استعمال کرکے کشیدگی کم کرانے اور جنگ رکوانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

اس ضمن میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور خاص امریکی اور ایرانی قیادت اور خلیجی دوست ملکوں سعودی عرب، قطر، عمان اور ترکیہ کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ بات چیت اور امن معاہدے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ چار روز پیشتر انھوں نے کہا تھا کہ امریکا مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہش مند نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان اور ہر روز ایران کو ایک نئی دھمکی دینا اس امر کا عکاس ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو مزید طول دینا چاہتے ہیں۔

البتہ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات جو نومبر 26 میں متوقع ہیں، کے بعد جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ امریکی صدر کو یہ خوش فہمی ہے کہ ان کے ووٹرز ایران کے خلاف جنگ سے بہت خوش ہیں کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو امریکا کی فتح ہے۔ حالانکہ تمام سروے رپورٹس اعلانیہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی کمی کا ریکارڈ دکھا رہی ہیں جس سے ان کی انتخابی شکست کے آثار ہویدا ہو رہے ہیں۔ جب کہ ایران کی غیرمعمولی مزاحمت سے اس کی فتح کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

ادھر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جس سے یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی اور جنگی طوالت کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ حوثیوں نے متعدد سعودی شہروں پر حملے کرکے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا اور اس کی بندرگاہ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے فرمانروا محمد بن سلیمان سے غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مکہ معاہدہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور پاکستان وقت آنے پر معاہدے کے تحت کارروائی کرے گا۔ مکہ معاہدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خلوص نیت سے کی گئی کاوشوں کا ثمر ہے جس نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کو ایک متحد دفاعی قطار میں کھڑا کر دیا ہے جو تینوں ملکوں کے ایک دوسرے کے خلاف دفاع کا مظہر ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد نے امریکی صدر سے حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی جو انھوں نے بوجوہ مسترد کر دی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مکہ معاہدہ وعدہ فردا کا منتظر ہے جیساکہ مکہ معاہدے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔