اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی!

انور اقبال نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’آج سے نوے سال پہلے 1930 کی دہائی کے آغاز میں ہندوستان کے شمال مغربی پہاڑی مقام نتھیا گلی کا ایک منظر



اے کے ہنگل برصغیر کے بٹوارے سے پہلے کراچی میں کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم کارکن تھے۔ پاکستان کی حکومت نے اے کے ہنگل کو ان کی مرضی کے خلاف بھارت بھیج دیا تھا ،جہاں انڈین پیپلز تھیٹر اور بمبئی کی فلم انڈسٹری کے اہم اداکاروں میں شامل ہوئے، انھوں نے اپنی خود نوشت انگریزی زبان میں تحریر کی تھی۔ تجزیہ نگار انور اقبال نے اس انگریزی کتاب کو مشکلات کے باوجود تلاش کیا اور ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘‘ کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا۔ انور اقبال نے اتنا خوبصورت ترجمہ کیا کہ قاری کو اس کتاب کے مطالعے کے دوران اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ ہے۔ اٹلانٹس پبلی کیشنز کے روحِ رواں فاروق احمد ہمیشہ نئی کتابوں کی اشاعت کی جستجو میں رہتے ہیں، انھوں نے معیاری پرنٹنگ کے ساتھ یہ کتاب شائع کی۔

انور اقبال نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’آج سے نوے سال پہلے 1930 کی دہائی کے آغاز میں ہندوستان کے شمال مغربی پہاڑی مقام نتھیا گلی کا ایک منظر ہے۔ یہ لڑکا اپنے والد کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پشاور سے آیا ہے۔ اس دس سالہ لڑکے کا نام اوتار کشن ہنگل ہے، ہنگل کا تعلق کشمیری پنڈت خاندان سے ہے۔ ان کے آباؤ اجداد تقریباً تین سو سال پہلے کشمیر سے ہجرت کرکے ریاست اودھ کی راجدھانی لکھنو میں آن بسے تھے۔ اے کے ہنگل سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اس کے بعد اپنے والد کے پاس پشاور چلے گئے۔

ہنگل پشاور میں اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ انھیں خالصہ اسکول میں داخل کیا گیا، ہر صبح کلاسیں شروع ہونے سے پہلے ہمیں اجتماعی دعائیں پڑھنی پڑتی تھیں۔ ‘‘وہ لکھتے ہیں کہ’’ ہمیں ننگے پاؤں گرد آلود میدان میں کھڑے ہو کر پڑھنا پڑتا تھا جس سے میری بڑی محنت سے دھلی ہوئی جرابیں خراب ہوجاتی تھیں۔ میں نے آہستگی سے احتجاج کیا۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے کہا’’ جرابیں مت پہنو۔‘‘ میں نے کہا ’’ماں نے ہمیشہ جرابیں پہننے پر زور دیا تھا۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے کہا ’’تم آج ان سے پوچھ لو‘‘ میں نے جواب دیا ’’وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں،‘‘ پھر تم دعائیں کلاس روم کے اندر پڑھو، اسکول میں مذہبی تعلیم و تلقین پہلے اسلامی پھر سکھ مت کی صورت میں ملی۔ گھر میں ہندو دھرم کے بارے میں سیکھا۔ ان سب کا مجموعی اثر یہ ہوا کہ میں نے مذہبی تعلیمات میں تضادات دیکھنا شروع کیے۔

اے کے ہنگل نے لکھا ہے کہ ایک دن میں نے پشتون کسانوں کا ایک جلوس دیکھا۔ وہ سب سرخ قمیضوں میں ملبوس تھے، ایک لمبا پٹھان ان کی قیادت کررہا تھا۔ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگارہا تھا، وہ خان عبدالغفار خان تھے، اس سال بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی گرفتار کیے گئے۔ نوجوان لڑکے گلیوں کے کونوں پر کھڑے ہو کر رحم کی اپیل کے لیے دستخط اکٹھے کررہے تھے، میں نے بھی اس پر دستخط کیے۔ اے کے ہنگل نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں سرخ پوشوں کے قتل عام کا یوں ذکر کیا ہے ،’’کچھ باتیں ہورہی تھیں کہ کابل گیٹ کے قریب مظاہرہ ہونا ہے، ہر طرف سے ہجوم امڈ آرہا تھا ،کچھ دیر میں بکتر بند گاڑیاں دیکھیں، کس نے خوف کا شائبہ تک نہ دکھایا۔ ایک لڑکا بکتر بند گاڑی کے نیچے کچلا گیا۔ ‘‘ بقول ہنگل ’’فوجی گاڑی کے اندر میں نے دیکھا کہ فوجی ہندوستانی تھے۔ پھر ہندوستانی فوجیوں نے اپنے ہی بھائیوں پر فائرنگ کرنے سے انکار کردیا۔ یہ گھرھوال رجمنٹ کے تھے۔ ان کی قیادت کرنے والے فوجی کا نام چندر سنگھ گڑھوالی اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیاگیا۔ فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

میری قمیض پر خون کے دھبے تھے۔ ان بہادر لوگوں کا خون جو اس دن برطانوی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔ ‘‘ ہنگل نے لکھا ہے کہ میں کشمیر چلا گیا تو مجھے شیخ عبداﷲ کو دیکھنے کا موقع ملا، وہ گلیوں میں ایک جلوس کی قیادت کررہے تھے۔ مہاراجہ کی بادشاہت کے خاتمہ کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ کئی وجوہات کا نتیجہ ہے۔ اس مسئلہ کی محض نظراندازی، غلط پالیسیوں کو اپنانا، ہندوستان کی تقسیم اور ساتھ میں غیر ملکی مداخلت۔

والد کے دوست کے مشورے پر درزی کی تربیت حاصل کی اور پشاور میں اپنی درزی کی دکان کھولی۔ اس کے ساتھ استاد خدابخش سے موسیقی کی تعلیم لینا شروع کی اور ڈرامہ کلب کا رکن بن گیا۔ مصنف نے پشاور سے کراچی آنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الفسٹن اسٹریٹ پر ایک دکان کرائے پر حاصل کرلی مگر یہ دکان نہ چلی اور کراچی کی مشہور کپڑا فروخت کرنے والی دکان میں ملازمت کرلی اور بقول مصنف میں چیف کٹر بن گیا۔ جب مالی پریشانیاں ختم ہوگئیں تو موسیقی اور ڈراموں میں دلچسپی کو پورا کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ پھر ہنگل نے ایک ڈراما ’’لکھا جو گاندھی جی کے پسندیدہ موضوع ’’اچھوت پن‘‘ پر مبنی تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ میری انقلابی تعلیم کا آغاز گھر کے قریب سے ہوا۔

ہماری عمارت میں پروفیسر کروانی رہتے تھے، وہ سیاسی طور پر باخبر شخص تھے اور ان کے دوست اکثر جنگی صورتحال پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ ان مباحث کے دوران میں نے سامراجیت، فاشزم، سرمایہ داری، سوشل ازم اور کمیونزم جیسے الفاظ کے معنی سیکھے۔ میرے لیے سیاسی افق پر ایک بین الاقوامی وسعت اختیار کرگیا۔ میں یہ سمجھنے لگا کہ 1917 میں سوویت یونین میں آنے والا انقلاب سماجی انصاف کی نوید تھا ۔ میں نے اپنی سیاسی اور سماجی تعلیم کا سلسلہ جوڑا۔ فرینڈ آف دی سوویت یونین کی نشستوں میں شرکت کے ذریعہ جاری رکھا جس کے پروفیسر کروانی ایک سرگرم رکن تھے۔

مجھے کامریڈ بخاری پسند تھے جو سندھ کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری تھے۔ میں نے وہیں پہلی بار نوجوان آئی کے گجرال سے ملاقات کی۔ وہ ایک دانشور کے طور پر جانے جاتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ منظور ہوچکا تھا مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا تھا۔ یہ عذر پیش کیا جاتا تھا کہ یہ کارکن ملازم نہیں بلکہ کنٹریکٹ ورکرز ہیں۔ میں نے یہ معاملہ پارٹی کے سامنے پیش کیا تو پارٹی کے لیڈر نے کہا ’’یونین قائم کرو‘‘ یوں پہلی بار تفصیل کے ساتھ مارکسی نظریہ کی وضاحت سنی۔ اجرت، زائد قدر (Surplus Value)وغیرہ جیسی اصلاحات کارکنوں کو ان تصورات کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ ہم نے باضابطہ طور پر کراچی ٹیلرنگ ورکرز یونین کے قیام کا اعلان کیا اور مجھے ہی پہلا صدر منتخب کیا گیا اور مطالبات کا ایک مسودہ تیار کیا گیا۔

پھر ایک صبح جب میں دکان میں داخل ہوا تو مجھے ایک خط تھمادیا گیا جس میں لکھا تھا کہ اب میری خدمات ادارہ کو درکار نہیں ہیں۔ ہر کارکن کے ہاتھ میں اسی طرح کا لفافہ تھا، پھر یہ مقدمہ عدالت میں گیا، وہ ہندوستانی بحریہ کے بغاوت کا آنکھوں دیکھا حال یوں بیان کرتے ہیں کہ 1946 کے وسط میں رائل انڈین نیوی کے جوانوں نے اپنے جہازوں پر لگے جھنڈے بدل دیئے۔ کانگریس، مسلم لیگ اور کمیونسٹ پارٹی کا جھنڈا لہرادیا گیا۔ ان کے اس اقدام کی ممبئی، کلکتہ اور کراچی کے شہریوں نے حمایت کی۔ کمیونسٹ پارٹی نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر شہروں میں عام ہڑتالوں کی اپیل کی تھی مگر کانگریس اور مسلم لیگ کے رہنما بغاوت کرنے والے فوجیوں کے خلاف بولنے لگے۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے رہنماؤں نے باہم ہاتھ ملا کر ہندوستانی بحریہ کے باغیوں اور برطانوی حکومت کے درمیان ثالثی کی ۔

باغیوں نے اس امید پر ہتھیار ڈال دیے کہ ان کے مطابات پورے کیے جائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی نے 1941 میں مجھے کراچی کمیونسٹ پارٹی کا سیکریٹری مقرر کیا۔ آزاد جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد آزاد ہند فوج کے افسران کے خلاف دہلی کے لال قلعہ میں مقدمہ چلا۔ اس مشہور مقدمہ میں دفاع کی ذمے داری کامیابی کے ساتھ جواہر لعل نہرو اور ڈیسائی نے نبھائی۔ دونوں نے کئی برس کے بعد اپنی پیشہ ورانہ وکالتی گاؤن پہنا ۔ ممبئی بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت صرف اس وقت ملتی تھی جب کرفیو اٹھالیا جاتا تھا۔ میں سیدھا پارٹی دفتر کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں میری ملاقات ایک یونین ورکر سے ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ میرے گھر کے قریب کچھ لوٹ مار ہوئی تھی لیکن میرا خاندان محفوظ تھا۔ تقسیم کے نتیجہ میں ایسی ہجرت ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔ سندھ میں پنجاب کے برعکس فسادات خوفناک حد تک نہیں پہنچے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ صوبہ پنجاب کی طرح تقسیم نہیں ہوا تھا، دوسری بات یہ کہ سندھ میں ایک سیکولر ثقافت موجود ہے۔

اے کے ہنگل کو آزادی کے فوراً بعد گرفتار کرلیا گیا۔ ایک دن کراچی جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے ہمیں اطلاع دی کہ ہمیں بھارت منتقل کیا جارہا ہے کیونکہ پاک بھارت معاہدہ طے ہوچکا ہے جس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فرقہ وارانہ بنیادوں پر قیدیوں کی منتقلی روک دی جائے۔ ہم 5افراد جنھیں پاکستان کی جیلوں میں غیر مسلم قیدیوں کے طور پر درج کیا گیا کو پنجاب میں واہگہ بارڈر لے جانا تھا۔ ہمارے رہنما کامریڈ بخاری کا نام اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ کامریڈ سوبھو اور ہم پانچ ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی بھارت منتقلی پر رضامند نہیں ہونگے۔ ہنگل جیل کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شام ہوتے ہی ایک بزرگ آدمی کو لایا گیا۔ وہ ڈاکٹر محمد اشرف تھے اور اردو میں اپنی خطابت کی بناء پر مشہور تھے۔ کچھ دن بعد ایک اور ساتھی اشرف صاحب کو جیل میں لایا گیا۔

اس نے بتایا کہ جب وہ کراچی اپنے گھر پر تھا تو اسے گرفتار کیا گیا۔ وہ یوپی سے ہجرت کرکے آیا تھا۔ ہنگل نے پچاس سال کی عمر میں فلم انڈسٹری میں کام شروع کیا۔ وہ ایک زمانہ میں فلمی اداکاروں کے ہیرو بن گئے۔ فلم شعلے میں انھوں نے ایک نابینا شخص کا کردار ادا کرکے بھرپور جذبات کے ساتھ یہ ڈائیلاگ ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘‘ ادا کر کے فلمی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی اور وہ فلمی دنیا کے کامیاب اداکار بن گئے۔ اس کتاب میں انتہائی اہم معلومات درج کی گئی ہیں اور کتاب میں ہنگل کی زندگی کے کئی اہم واقعات درج ہیں، جن لوگوں کو ہندوستان اور پاکستان کی کمیونسٹ تحریک اور بھارت کی فلم انڈسٹری سے دلچسپی ہے، ان کے لیے یہ منفرد کتاب ہے۔