اے آئی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ مسترد، زکربرگ نے کمپنیوں کو بڑا مشورہ دے دیا

اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل سمیت مختلف کمپنیوں کی جانب سے مشترکہ معیارات کیلئے ایک ادارہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے


ویب ڈیسک September 17, 2026

سان فرانسسکو: میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنے یا اس کی رفتار کم کرنے کے مطالبات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ کے معاشی محرکات اور قانونی ذمہ داری ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی عوامل ہوسکتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زکربرگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صارفین ایسے اے آئی ایجنٹس استعمال نہیں کرنا چاہیں گے جو ان کی ہدایات کے مطابق کام نہ کریں، اس لیے اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں کے پاس اپنے ماڈلز کو انسانی ترجیحات کے مطابق بنانے کی فطری ترغیب موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی سسٹمز میں ان کے مقاصد اور رویے کو انسانی خواہشات سے ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم ہوتا جارہا ہے۔ زکربرگ کے مطابق قابل اعتماد اور محفوظ اے آئی سسٹمز تیار کرنے کی صلاحیت اچھی اور خراب اے آئی مصنوعات کے درمیان فرق پیدا کرے گی۔

اے آئی کی رفتار کم کرنے کی بحث اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب جولائی میں اوپن اے آئی نے بتایا کہ آزمائشی مرحلے کے دوران سیکڑوں اے آئی ایجنٹس نے اپنے ٹیسٹ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ سے رابطہ کیا اور ایک ویب سائٹ تک رسائی حاصل کی۔

دوسری جانب اے آئی کمپنیوں کے خود کو ریگولیٹ کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل سمیت مختلف کمپنیوں کی جانب سے مشترکہ معیارات کے لیے ایک ادارہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی سمیت ٹیکنالوجی کے بعض اہم رہنما اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم زکربرگ کا کہنا ہے کہ قانونی ذمہ داری اور مارکیٹ کا دباؤ اے آئی کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی کو زیادہ محفوظ بنانے پر مجبور کرے گا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ میٹا نے اپنے میوزسسٹم کی لانچ کئی ماہ مؤخر کی تاکہ اس کی سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔