لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کا فیسیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

داخلے کے لیے کالج نے طلباء سے 21 لاکھ روپے فیس وصول کی


ویب ڈیسک September 18, 2026
پاکستان میڈیکل کمیشن کی تشکیل بھی غیر قانونی قرار، تمام ملازمین کو بھی بحال کردیا۔ فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ میں پی ایم ڈی سی کی میڈیکل کالجز کی فیسیں بڑھانے کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے پی ایم ڈی سی کا فیسیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا. 

جسٹس خالد اسحاق نے سینٹرل پارک میڈیکل کالج کی درخواست پر سماعت کی. درخواستت گزار کالج کی طرف سے ایڈووکیٹ رمضان ڈھڈی نے دلائل دئیے. 

وکیل نے موقف دیا کہ داخلے کے لیے کالج نے طلباء سے 21 لاکھ روپے فیس وصول کیے، پی ایم ڈی سی نے سالانہ پانچ فیصد فیسیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا.

مزید برآں طلباء سے کنزیومر پرائس انڈکس وصولی کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا، پی ایم ڈی سی کو فیسیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے.

پارلیمنٹ پی این ڈی سی قوانین میں تبدیلی کر کے فیسیں بڑھانے کا حکم جاری کر سکتی ہے. لہذا عدالت پی ایم ڈی سی کا میڈیکل طلبا کی فیسیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن کلعدم قرار دے.

دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ڈینٹل ڈاکٹرز کی پانچ سالہ ڈگری پروگرام کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے.

ڈینٹل ڈاکٹرز کے لئیے حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ رواں سال سے ڈینٹل ڈاکٹر کی تعلیمی سال چار سال کی بجائے پانچ سال کا ہو گا. ڈینٹل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے تحفظات اور پارلیمنٹ کمیٹیز کی ہدایت پر نوٹیفکیشن میں ترمیم کردی گئی.


پی ایم اینڈ ڈی سی نے 5 سالہ بی ڈی ایس پروگرام کا نوٹیفکیشن مؤخر کر دیا.
طلبہ اب چار سال تعلیم حاصل کریں گے اور ایک سال کلرک شپ کریں گے۔ بی ڈی ایس طلبہ کی ڈگری چار سال میں مکمل ہو گی لیکن ایک سال کلرک شپ کرنا ضروری ہوگا۔

اس اقدام سے طلبہ کو اب اضافی ایک سال کی فیس نہیں دینی پرے گی۔
کلرک شپ کے دوران ادارے کی مرضی پر ہے کہ وہ ساتھ کوئی معاوضہ دیں یا نہیں۔

8 جولائی 2026ء کو جاری کردہ بی ڈی ایس فریم ورک نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا. بی ڈی ایس پروگرام کے تعلیمی ڈھانچے، نصاب اور ہاؤس جاب فریم ورک کا جامع جائزہ جاری ہے.
کونسل کی جانب سے جائزہ مکمل ہونے کے بعد نئی ہدایات جاری کی جائیں گی.
پی ایم اینڈ ڈی سی نے تمام تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو مراسلہ ارسال کر دیا۔