اندھیری سڑک پر نابینا کو تیز گاڑی چلانے کی اجازت دینا اور جدت کو حفاظت کے بغیر بازار میں لانے دینا ایک ہی بات ہے۔
ہم 2027 کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال کا منظرنامہ دنیا بھر میں تیزی سے بدل چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور غیر مرکزی ٹیکنالوجیز اب صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ آہستہ آہستہ صحت کے نظام کی اصل بنیاد بن چکی ہیں۔
یہ تبدیلی امیدوں کا ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے مگر اس کے ساتھ ذمے داری کا بھاری بوجھ بھی ہمارے کندھوں پر ڈالتی ہے۔ اصل نکتہ کہیے یا سوال، یہ ہے کہ کیا ہم ان نئی ٹیکنالوجیز کو صرف تیزی سے اپنا لیں، یا انہیں مریض کی حفاظت اور اعتماد کے ساتھ باندھ کر آگے بڑھائیں؟
مصنوعی ذہانت کا طوفان اب ہمارے سر پر منڈلارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم پہلے دوا بناتے، پھر ٹیسٹ کرتے۔ ہمارا انحصار تجربے اور غلطی پر ہوتا۔ ادویہ سازی میں ہم نے آہستہ آہستہ سیکھ لیا کہ معیار کو شروع سے ہی ڈیزائن میں شامل کرنا چاہیے، مگر صحت کے باقی شعبوں میں یہ سوچ اب بھی کمزور ہے۔ آج تیزی سے ایسے نظام بن رہے ہیں جو پیش گوئی پر مبنی ہیں اور خودبخود معیار کو برقرار رکھنے کے دعوے سے لیس ہیں۔ اس دوڑ میں تجارت نمایاں ہے، جبکہ مریض اکثر پسِ منظر میں چلا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کا خیر مقدم ضرور کریں مگر مریض کی حفاظت پر غفلت، سائنسی قوانین کو نظرانداز اور اخلاقی اصولوں کو پامال کرکے نہیں۔ گاڑی تیز چلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن بریک اور سیفٹی بیلٹ کے بغیر ہرگز نہیں۔ ریگولیٹری سائنس کو ہر نئی جدت کا لازمی رفیق بنایا جائے۔ بہت سا وقت گزر چکا ہے، اب غفلت یا سستی کا کوئی موقع باقی نہیں۔
فرض کریں اگر کوئی مصنوعی ذہانت کا ماڈل بچوں کی بیماری کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا جارہا ہو تو اسے شروع سے ہی بااعتماد مضبوط معیار پر سختی سے پرکھا جائے۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ غلط نتائج کم سے کم دے، ڈیٹا ہمیشہ محفوظ رہے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ سائنسی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے دائرے میں رہے۔ عجلت کے ساتھ قانونی سختی لازمی بھی ہے اور ضروری بھی۔
آج کا ذمے دارانہ فیصلہ کل کے اس صحت کے نظام کو شکل دے گا جو قابلِ تصدیق، مؤثر، منصفانہ ہو اور ہر مفاد سے بالاتر ہو کر صرف مریض کے مفاد کو مقدم رکھے۔ عوام اور اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کا خلیج اب قابو کرنا ہوگا۔ فاصلہ کم کرنا ہوگا، کیونکہ آخرکار صحت کا نظام اسی وقت کامیاب ہوگا جب مریض اس پر اعتماد کر سکے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔