دنیا جنگ کے دہانے پر؟

مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھایا ہے



دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات سیاست، معیشت، توانائی، تجارت، خوراک، ٹیکنالوجی اور عام انسان کی روزمرہ زندگی تک پھیل چکے ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی، ایران سے متعلق تنازعات، غزہ کی صورتِ حال اور یورپ و ایشیا میں بڑھتی ہوئی دفاعی تیاریوں نے عالمی امن کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ کہنا درست نہیں کہ دنیا لازماً ایک عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن یہ ضرور حقیقت ہے کہ مختلف خطوں میں جاری تنازعات ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں اور معمولی غلط فہمی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھایا ہے۔ حالیہ عالمی سفارتی سرگرمیوں میں ایران، غزہ اور توانائی کے راستوں سے متعلق خدشات نمایاں رہے ہیں۔ ستمبر میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس کے اعلامیے میں غزہ میں انسانی صورتِ حال، جوہری تنصیبات کو لاحق خطرات اور توانائی کے راستوں کے تحفظ جیسے معاملات پر تشویش ظاہر کی گئی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کا کوئی بھی علاقائی تنازع صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی سفارت کاری اور معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔

دنیا کے موجودہ حالات کا ایک انتہائی اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کے فوجی اخراجات حقیقی معنوں میں 2.9 فیصد بڑھ کر تقریباً 2.887 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ مسلسل گیارہواں سال تھا جب عالمی فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ یورپ کے فوجی اخراجات میں 14 فیصد جب کہ ایشیا اور اوشیانا میں 8.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار محض دفاعی بجٹ کی کہانی نہیں بلکہ دنیا کے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ جب ایک ملک اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے تو دوسرا ملک اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ کر مزید تیاری شروع کر دیتا ہے۔

یوں ایک ایسا سلسلہ پیدا ہو سکتا ہے جس میں ہر فریق اپنے اقدامات کو دفاعی قرار دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر دنیا زیادہ عسکری ماحول کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دانش مندانہ سفارت کاری کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

جدید جنگ کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ اب جنگ صرف ٹینکوں، توپوں اور جنگی طیاروں تک محدود نہیں رہی۔ ڈرونز، سائبر حملے، مصنوعی ذہانت، میزائل ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نظام، اطلاعاتی جنگ اور معاشی پابندیاں بھی جدید تنازعات کا حصہ بن چکی ہیں۔

یوکرین میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے جواب میں نئے دفاعی نظاموں کی تیاری اس تبدیلی کی نمایاں مثال ہے۔ اس صورتِ حال کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ دنیا میں جنگ کے روایتی اور غیر روایتی میدان ایک دوسرے سے مل رہے ہیں، اگر کسی ملک کے مواصلاتی نظام، توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا مالیاتی نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا جائے تو اس کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔

توانائی کا مسئلہ بھی اسی طرح اہم ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں تیل اور گیس کی عالمی رسد پر انحصار کرتی ہیں۔ کسی اہم سمندری راستے میں رکاوٹ یا بڑے پیداواری خطے میں جنگ عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایندھن کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ، صنعت اور بالآخر عام صارف کی زندگی پر پڑتا ہے۔

جنگ کا اصل نقصان صرف وہ نہیں ہوتا جو میدانِ جنگ میں نظر آتا ہے؛ اس کا ایک بڑا حصہ عالمی معیشت کے اندر خاموشی سے منتقل ہوتا رہتا ہے۔آج دنیا کے سامنے سب سے اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون زیادہ طاقتور ہتھیار بنا سکتا ہے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کون زیادہ موثر طریقے سے جنگ کو روک سکتا ہے۔

طاقت کا توازن اپنی جگہ اہم ہے، مگر طاقت کا اصل مقصد امن کا تحفظ ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کردار اور اصلاحات پر بھی مسلسل بحث جاری ہے، خصوصاً اس حوالے سے کہ بدلتی ہوئی عالمی طاقتوں اور علاقائی حقیقتوں کی بہتر نمائندگی کیسے ممکن بنائی جائے۔

دنیا کو اس وقت ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے مذاکرات کے دروازے کھولے۔ روس اور یوکرین، مشرقِ وسطیٰ، ایران اور دیگر تنازعات میں اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اختلاف کا مطلب لازماً جنگ نہیں ہونا چاہیے۔

تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات انتہائی مشکل حالات میں بھی مذاکرات کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے، مگر اسے ختم کرنا نسلوں کی محنت بن جاتا ہے۔ حالیہ برکس اعلامیے میں بھی تنازعات کے حل، انسانی تحفظ اور سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔

دنیا کو آج ہتھیاروں سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ قوموں کے درمیان اعتماد، مذاکرات میں اعتماد اور عالمی اداروں پر اعتماد، اگر ہر بحران کا جواب مزید ہتھیار ہو تو دنیا ایک ایسے چکر میں داخل ہو سکتی ہے جہاں سلامتی حاصل کرنے کی کوشش خود عدم تحفظ میں اضافہ کر دے۔اس لیے یہ سوال کہ ’’دنیا جنگ کے دہانے پر ہے؟‘‘ صرف خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کو خبردار کرنے کے لیے پوچھا جانا چاہیے۔

موجودہ حالات عالمی جنگ کے یقینی آغاز کا ثبوت نہیں، مگر یہ ضرور بتاتے ہیں کہ دنیا کئی خطرناک محاذوں کے درمیان کھڑی ہے۔ ایسے وقت میں دانش مندی، تحمل، مذاکرات اور ذمے دارانہ قیادت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔دنیا نے دو عالمی جنگوں کی تباہی دیکھی ہے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں، شہر تباہ ہوئے، معیشتیں برباد ہوئیں اور نسلوں تک ان جنگوں کے اثرات باقی رہے۔

آج کے دور میں تباہی کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے امن کی ذمے داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔آج عالمی رہنماؤں کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کا استعمال جنگ کو بڑھانے کے لیے کرتے ہیں یا امن کا راستہ بنانے کے لیے۔ تاریخ انھیں صرف اس بنیاد پر یاد نہیں رکھے گی کہ انھوں نے کتنے ہتھیار بنائے، بلکہ اس بنیاد پر بھی یاد رکھے گی کہ انھوں نے انسانیت کو کتنی تباہی سے بچایا۔

دنیا کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے کے لیے کسی ایک ملک، ایک طاقت یا ایک ادارے کی نہیں بلکہ مشترکہ سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ اگر سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے جائیں، اختلافات کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور انسانی جان کو ہر سیاسی و عسکری مفاد پر مقدم رکھا جائے تو موجودہ بحرانوں کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

جنگ کسی ایک ملک کی شکست یا فتح نہیں ہوتی، جنگ دراصل انسانیت کا امتحان ہوتی ہے۔ آج دنیا کے پاس انتخاب موجود ہے۔ خوف اور تصادم کا راستہ یا مذاکرات، برداشت اور امن کا راستہ۔ آنے والی نسلیں اسی انتخاب کے نتائج بھگتیں گی۔